فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12560
(471) اسلام میں لونڈی یا غلام رکھنے کی شرعی حیثیت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 June 2014 11:40 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسلام میں لونڈی یا غلام رکھنے کی کیا حیثیت ہےَ؟اس کے متعلق پوری وضاحت کریں اور اس کی حدود و قیود سے آگاہ فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دین اسلام نے کئی ایک طریقوں سے غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنےکی تر غیب دی ہے۔ جس کے نتیجہ میں آج کل لونڈی سسٹم تقریباًناپید ہے۔ اس بنا پر ایسے حالات ذہنی مفروضہ کے علاوہ کچھ نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے سوالات کا ضروریات زندگی سے کوئی تعلق ہے، تاہم مسئلہ کی وضاحت ہم کئے دیتے ہیں۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

(۱)ان پر احسان کرتے ہوئے رواداری کے طورپر انہیں بلامعاوضہ رہاکردیا جائے۔

(۲)ان سے فی نفر مقررہ شرح کےمطابق فدیہ لے کر انہیں چھوڑ ا جائے۔

(۳)جو مسلمان قیدی دشمن کےہاں قید ہوں ان سے تبادلہ کرلیا جائے۔

(۴)انہیں مال غیمت سمجھتے ہوئے مسلمان سپاہیوں میں تقسیم کردیا جائے۔

اس مؤخر الذکر صورت میں گرفتار شدہ عورتوں سے صنفی تعلقات قائم کرنے کے متعلق ہمارے ذہنوں میں بے شمار خدشات اور شکوک و شبہات ہیں، اس لئے اسلام کےمندرجہ ذیل اصول و ضوابط کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔

(الف)حکومت کی طرف سے کسی سپاہی کو لونڈی کےمتعلق حقوق ملکیت مل جانا ایسا ہی ہے ، جیسا کہ کوئی باپ اپنی بیٹی کا عقد کسی دوسرے سے کردیتا ہے۔ جس طرح باپ نکاح کے بعداپنی بیٹی لینے کا مجاز نہیں ہوتا، اس طرح حکومت کو بھی ملکیت دینے کے بعد وہ لونڈی واپس لینے کا اختیار نہیں ہے۔اس بنا پر مسلمان سپاہی اس عورت کےساتھ صنفی تعلقات قائم کرنے کا مجازہے  جو حکومت کی طرف سے اسےملی ہے۔

(ب)جو عورت جس سپاہی کے حصہ میں آئے صرف وہی اس سے صنفی تعلقات قائم کرسکتا ہے، کسی دوسرے شخص کو اسے ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہاں، اگر حقیقی مالک کسی کےساتھ نکاح کردے تو ایسی صورت میں دوسرے کو حق تمنع حاصل ہوجاتا ہے لیکن اس صورت میں مالک اس لونڈی سے دیگر خدمات تو لے سکتا ہے لیکن اسے تمتع کی اجازت نہیں ہوگی۔

(ج)جس شخص کو کسی لونڈی کے متعلق حق ملکیت ملا ہے وہ اس وقت صنفی تعلقات قائم کرسکے گا۔ جب اسے یقین ہوجائے کہ وہ حاملہ  نہیں ہے اس کا ضابطہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ ایام ماہواری کا انتظار کیا جائے، حمل کی صورت میں وضع حمل تک انتظار کرنا ہوگا۔

(نوٹ)گھریلو خادمائیں اور کاروباری  نوکر چاکر ، غلام اور لونڈی کے حکم سے خارج ہیں۔(واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص455

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)