فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12550
(461) خنزیر کے اعضاء کے استعمال کی شرعی حیثیت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 June 2014 11:00 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا خنزیر کے اعضاء انسانی جسم میں لگائے جاسکتےہیں؟ کتاب و سنت کی روشنی میں اس کی  حیثیت واضح کریں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے وہ صرف انسان کی فلاح و بہبود کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ حرام اشیاء کبھی انسان کےجسم کےلئے ضرر رساں ہوتی ہیں اور کبھی اس کےاخلاق و کردار کو تباہ کردیتی ہیں۔ اگر چہ ظاہر ی طورپر ان  میں کوئی فائدہ بھی ہوتاہے ، تاہم اس میں نقصان کا پہلو بہرصورت غالب ہے۔ بعض اوقات ہماری ظاہربین آنکھیں اس نقصان کے ادراک سے قاصر ہوتی ہیں۔ خنزیر کے گوشت کےمتعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:

‘‘تم پر مردار،خون اور سور کا گوشت حرام کیا گیا ہے۔ ’’ (۵/المائدہ:۳)

ایک  دوسرے مقام پر اس کی وجہ بیان فرمائی کہ ‘‘ وہ ناپاک اور نجس ہے۔’’ (۶/الانعام:۱۴۵)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتےہیں کہ ‘‘اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کےلئے کسی ایسی چیز میں شفا نہیں رکھی جو ان پر حرام کردی گئی ہو۔’’ (صحیح بخاری،الاشربۃ،باب نمبر۱۵)

قرآنی آیات میں اگرچہ خنزیر کےگوشت کا ذکر ہے کیونکہ یہ اس کا جزواعظم ہے ،تاہم خنزیر مجمسہ نجاست ہے۔ اس کےبال، گوشت ، پوست اور ہڈیاں سب حرام اور نجس ہیں اور حدیث کےمطابق حرام میں شفا نہیں ہوتی۔ اس بنا پر مذکورہ قرا ٓنی آیات اور احادیث کے پیش نظر خنزیر کےجسم کا کوئی حصہ انسانی جسم کےلئے بطور پیوندکاری استعمال نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انہیں کسی اور کام کےلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص449

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)