فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12548
(459) بجلی کا بل
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 June 2014 10:56 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے گھر سے ایک کلومیٹر کےفاصلہ پر ٹیوب ویل واقع ہے ہم اس کےمیٹر سےتار لا کر گھر میں بجلی استعمال کرتے ہیں اورصرف شدہ بجلی کا کمرشل بل بھی ادا کرتے ہیں۔ جو کہ گھریلو عام ریٹ سےکہیں زیادہ ہوتا ہے کیا ایسا کرنا ازروئے شریعت جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ ایک اصولی بات ہے کہ معاشرہ میں رائج قوانین اگر شریعت  کے خلاف نہ ہوں تو ان کی پابندی ضروری ہے، محکمہ واپڈا کا یہ قانون ہے کہ ہرصارف کو بجلی استعمال کرنےکے لئے ایک الگ میٹر مہیا کیا جاتا ہے۔ جو اس محکمہ کےمفاد میں ہے۔ ایک ہی میٹر سے دوسرے صارف کو بجلی سپلائی کرنا واپڈا کے قوانین کےخلاف ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے خود محکمہ  کے مفادات مجروح ہوتےہیں۔ اگر کسی اہلکار نے اس کی اجازت دی ہے تو اسے قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، لہٰذا ٹیوب ویل کےمیٹر سے ایک کلومیٹر کےفاصلہ پر تار لے جا کر بجلی استعمال کرنا شرعاً و قانوناً درست نہیں ہے، کیونکہ ایسا کرنا محکمہ کے قوانین کےخلاف ہے۔ اگرچہ صارف اس کی  ہر ماہ مقرر ہ رقم ادا رکرتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ محکمہ سےاجازت لے کر گھر کےلئے الگ میٹر نصب کرایا جائے تا کہ کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے ، اسی طرح گھریلو میٹرکو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنا بھی شرعاًدرست نہیں ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص448

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)