فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12546
(457) لڑکی کی تنخواہ گھر کے اخراجات کے لیے استعمال کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 June 2014 10:52 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری لڑکی لیڈی ٹیچر کی حیثیت سےسکول میں تعینات ہے۔ سسرال والوں کا مطالبہ ہے کہ پوری تنخواہ ہمیں دیا کرو، جبکہ اس کا خاوند کسی فیکٹری میں معقول تنخواہ پر ملازمت کرتا ہے، کیا لڑکی کی تنخواہ گھر کے اخراجات کےلئے وصول کی جاسکتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرعی طور پر لڑکی اپنی ملازمت کےدوران ملنےوالی تنخواہ کی خود مالک ہے۔ وہ اپنی مرضی سے گھر کے اخراجات کے لئے صرف کرسکتی ہے۔ سسرال والوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسے وصول کرنےکےلئے اس پر دباؤ ڈالیں یا بزور وصول کریں۔ خاوند کو یہ حق تو پہنچتا ہے کہ وہ ملازمت نہ کرائے،لیکن وہ بھی زبردستی تنخواہ نہیں وصول کرسکتا۔ اس سلسلہ میں ہمارا مشورہ یہ ہےکہ اس مسئلہ کو زیادہ طول نہ دیا جائے بلکہ گھرمیں بیٹھ کر اسے افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ لڑکے کے والدین کو خوش اسلوبی سے اس معاملہ میں قائل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن لڑکی کو بھی اس کے متعلق غور کرنا ہوگا کہ کہیں دنیا کی یہ دولت اس کی بربادی کا باعث نہ بنے۔اصل بات گھر کی آبادی ہے۔ اس پر کسی صورت میں آنچ نہیں آنی چاہیے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص447

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)