فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12540
(451) تین آدمیوں کا بغیر امیر کے سفر کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 June 2014 12:03 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ‘‘تین آدمیوں کے لئے بغیر امیر شرعی رہنا جائزنہیں ۔ ’’ یہ حدیث کس کتاب میں سے اس کا مفہوم کیا ہے، نیز وضاحت کریں کہ وہ تین قسم کے لوگ کون کون سے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث مسند امام احمد سنن بیہقی اورابو داؤد میں ہے۔ سوال میں مذکورہ الفاظ مجھے نہیں مل سکے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:‘‘آبادی سے باہر جب مکین ہوں تو انہیں اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنالینا چاہیے۔’’ (مسند امام احمد،ص:۱۷۷۷،ج۲)

اس حدیث کا تعلق سفر سےہے، یعنی دوران سفر کسی کو امیر سفر بنا لینا چاہیے تا کہ اجتماعیت  برقرار رہے اور نظم و ضبط کےساتھ سفر جاری رکھ سکیں۔ چنانچہ حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:‘‘جب تین آدمی سفر کو نکلیں تو کسی ایک کو امیر ضرور بنا لیں۔’’ (ابو داؤد،الجہاد،۲۶۰۸)

حضرت ابو سلمہؓ نے جب یہ حدیث بیان کی تو وہ سفر میں تھے تو ان کےشاگرد نافع ؒ نے عرض کیا کہ اس حدیث کےپیش نظر آپ ہمارے امیر ہیں۔ (بیہقی ،ص:۲۵۷،ج ۵)

واضح رہے کہ اس قسم کی امارات ‘‘امارات صغریٰ’’ کہلاتی ہیں۔ جس میں سفر کی زندگی کو ایک ضابطہ سے ادا کیا جاتا ہے ، پھر انسان کو امارات کبریٰ کےقیام کے لئے کوشاں رہنا چاہیے۔ جسےقرآن نے ‘‘ اولی المر’’سےتعبیر کیا ہے ۔ اس کی اطاعت مشروط ہوتی ہے۔ جب تک اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ کی تعلیمات کے مطابق عمل پیرا ہوں گے۔ ان کی اطاعت ضروری ہے بصورت دیگر ان کی اطاعت ضروری نہیں۔ بہرصورت مندرجہ بالاحدیث سفر سے متعلق ہے کہ سفر کرتے وقت انسان کو چاہیے کہ اپنے سےبہتر کسی شخص کو امیر بنا کراپنے سفر کو جاری رکھے، اس سے مراد حدود اللہ قائم کرنے والا امیر نہیں ہے۔(واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص445

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)