فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12539
(450) بچے کی پیدائش کے دوران عورت کا فوت ہونا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 June 2014 12:00 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت کو بچے کی پیدائش کےموقع پر دوران آپریش فوت ہوجاتی ہے کیا اسے بھی شہادت کا رتبہ ملے گا، اگرچہ اس کی موت ڈاکٹر کی کوتاہی سےواقع ہوئی ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دوران زچگی فوت ہونے والی عورت  کو شہداء میں شمار کیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ‘‘وہ عورت جو بچے کی پیدائش کےسبب فوت ہوجائے شہید ہے۔’’ (مسند امام احمد،ص:۲۰۱،ج ۴)

شرعی اصطلاح میں یہ شہادت صغریٰ ہے ۔ دین اسلام کی سربلندی کےلئے میدان کارزار میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا شہادت کبریٰ ہے، لیکن دور حاضر میں زچگی کے آپریشن دو وجہ سے کئے جاتے ہیں:

(۱)رحم مادر میں بچے کی حالت بایں طور ہوتی  ہے تاکہ نارمل طریقہ سےاس کی پیدائش ممکن نہیں ہوتی بلکہ ایسے حالات میں آپریشن ناگزیر ہوتاہے۔ ایسے حالات میں دوران آپریشن زچہ فوت ہوجائے تو وہ بلاشبہ شہداء میں ہوگی ، اگرچہ اس کی موت ڈاکٹر کی کوتاہی سےہی کیوں نہ ہو۔

(۲)بچے کی پیدائش معمول کے مطابق ہونا ممکن ہوتی ہے، لیکن بطور فیشن پیدائش کے وقت تکلیف سے بچنے کےلئے آپریشن کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ حالانکہ زچگی کے دوران تکلیف کی شدت فطرت کے عین مطابق ہے اور اس تکلیف کی وجہ سے پیدائش ممکن ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں اگر بلاضرورت آپریشن کا سہارا لیا جاتا ہے تو اس دوران اگر موت واقع ہوجائے تو اسے شہداء میں شمار کرنا محل نظر ہے بلکہ ایسے حالات میں آپریشن کا سہارا لینا ہی خلاف فطرت ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص445

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)