فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12536
(447) مسلمان کا غیر مسلمان ممالک میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہونا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 June 2014 11:50 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں ایک مولانا صاحب نے سورہ نساء کی آیت نمبر:۹۶ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا  کہ اگر کوئی مسلمان غیر مسلم ممالک میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہے۔ وہ اگر فوت ہوجائے تو جنت کا وارث نہیں ہوگا ،جبکہ ہمارے بےشمار دوست و احباب غیر مسلم ممالک میں رہائش پذیر ہیں؟ وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلے آیت کا ترجمہ ملاحظہ کریں ، جس کی تفسیر میں مذکورہ بالا بات کی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :‘‘جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے آتےہیں  تو ان سےپوچھتے ہیں تم کس حال میں مبتلا تھے؟ وہ کہتے ہیں ہم زمین میں کمزورو مجبو ر تھے، فرشتے انہیں جواب میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے، ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ مگر جو مرد اور عورتیں اور بچے فی الواقع مجبور اور بے بس ہیں اور وہاں سےنکلنے کی کوئی تدبیر اور راہ نہیں پاتے امید ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف کردے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور بخشنے والا مہربان ہے۔’’ (۴/النساء:۹۷۔۹۸۔۹۹)

حضرت ابن عباس ؓ ان آیات کےمتعلق فرماتے ہیں کہ مکہ میں کچھ مسلمان لوگ تھے جو مشرکین کا ساتھ دیتے اور مقابلہ کے وقت ان کی جماعت میں اضافے کا باعث بنتے تھے۔ جنگ وغیرہ میں مسلمانوں  کی طرف سے کوئی تیر انہیں بھی لگ جاتا اوران میں سے کسی کو تلوار لگتی توزخمی ہوجاتا یا مرجاتا، ایسے لوگوں کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ (صحیح بخاری ،التفسیر :۴۵۹۶)

ان آیات میں ہجرت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ جب کسی جگہ پر رہتے ہوئے دین اسلام پر عمل کرنا مشکل ہوتو وہاں سے ہجرت کرجاناچاہیے اور اپنےدین کو بچانے کےلئے فکر کرنی چاہیے۔ لیکن جب پورے عرب میں اسلام کا بول بالا ہوگیا تو پھر ہجرت کی ضرورت باقی نہ رہی ، تاہم اگر کسی مقام پر ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ مسلمانوں کو کسی خطہ میں رہتے ہوئے دینی شعائر بجا لانے ممکن نہ ہوں یا وہاں رہنا کفر اور اہل کفر کےلئے تقویت کا باعث ہوتو انہیں وہاں سے ہجرت کرنا لازم ہے تو کہ دینی اقدار کو بچایاجائے اور شعائر اسلام پر عمل کیا جائے۔ ہاں! اگر غیر مسلم ممالک میں رہتے ہوئے دینی شعائر بجالانے میں کوئی قدغن یا پابندی نہیں ہے۔ وہاں کےباشندے آسانی کے ساتھ اپنے اسلام پر عمل پیرا ہیں تو ان کے لئے وہاں سے ہجرت کرنا ضروری نہیں ہے۔اس وضاحت کے بعد مولانا کا مذکورہ  فرمان محل نظر ہے کہ ‘‘ اگر کوئی مسلمان غیر مسلم ملک میں مستقل طورپر رہائش پذیر ہے اور وہاں فوت ہوجائے تو جنت کا وارث نہیں رہے گا۔’’پھر غیر مسلم ممالک سے ہجرت کرکے کس مسلم ملک کا رخ کیا جائے جہاں پورا اسلام نافذ ہو ، بہرحال ہماری نظر میں آج کوئی غیر مسلم ملک ایسا نہیں  ہے جہاں مسلمانوں کا اسلامی شعائر پر عمل کرنا دشوار ہو۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص441

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)