فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12534
(444) گواہی دینے کا شرعی طریقہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 June 2014 11:42 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں کچھ دن پہلے ایک قتل ہوا،میں نے گولی چلنے کی آواز سنی  اور ایک آدمی کو ہاتھ میں بندوق لیے ہوئے بھی دیکھا لیکن گولی چلاتے ہوئے نہیں دیکھا، میں نے عدالت میں گواہی دیدی ہے کہ اسی آدمی نے قتل کیا ہے، کیا یہ گواہی شرعاً درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت اسلامیہ کی رو سے اپنے مشاہدہ کی گواہی دی جاسکتی ہے۔ ظن و تخمین اور قیافہ سےعین ممکن ہے کسی بے گناہ کو دھر لیا جائے۔ چنانچہ حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ایک عورت صبح کی نماز کےلئے مسجد میں آنے کی تیاری کررہی تھی۔ اچانک کسی نے اس سے زنابالجبر  کا ارتکاب کرلیا اور رات کی تاریکی سےفائدہ اٹھائے ہوئے بھاگ نکلا۔ اتفاقاً ایک دوسرا آدمی وہاں سے گزرا تو عورت نے شور مچایا اور دادرسی کے لئے اس سے فریا د کی ، اتنے میں چند آدمی اور آگئے تو عورت نے انہیں بھی اپنی مدد کے لئے پکارا، انہوں نے دوسرے شخص کو پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کردیا اور کہا ہم نے اسے جائے وقوعہ  سے بھاگتے ہوئے قابو کیا ہے۔ عورت نےبھی اس کے خلاف گواہی دے دی کہ اس نے زبردستی میری عزت کو لوٹا ہے۔ ملز م نے صفائی پیش کرتےہوئے کہا اس عورت نےمجھے اپنی مدد کے لئے پکارا تھا اور میں وہاں سے متعلقہ شخص کو پکڑنے کے لئے دوڑا تھا لیکن عورت کا اصرار تھا کہ  یہ خلاف واقعہ بات کہتا ہے اور اصل مجرم یہی ہے۔ بیانات سننے کےبعد رسول اللہﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ لوگ اسے رجم کرنے کے لئے جارہے تھے کہ ایک آدمی کانپتا ہواآیا اور  کہا یہ بے گناہ ہے، اصل مجرم میں ہوں۔ میں نے اس عورت سے زنا کا ارتکاب کیا تھا، لہٰذا اس کےبجائے مجھے رجم کیا جائے۔ (نسائی )اس طرح ایک واقعہ  حضرت علی ؓ کے دور خلافت میں پیش آیا۔ پولیس نے ایک شخص کو اس حالت میں گرفتا ر کیا کہ اس کے خون آلودہ ہاتھوں میں چھری تھی اور ایک مقتول اس کے سامنے خون میں لت پت ہوا پڑا تھا۔ اسےحضرت علیؓ کے  ہاں پیش کیا گیا، حقیقت حال دریافت کرنے پر اس نے اعتراف ‘‘ جرم ’’کرلیا۔ حضرت علیؓ نے فیصلہ دیا کہ اسے جرم قتل کی پاداش میں قتل کردیا جائے۔ جلاد اسے مقتل کی طرف لے جارہاتھا کہ ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ قاتل میں ہوں ، لہٰذا اس کے بجائے میر اسرقلم کردیا جائے۔ حضرت علی ؓ نے پہلے اقراری مجرم سے کہا کہ جب اصل قاتل یہ ہے تو پھر تیرا اعتراف جرم کس بنا پر تھا؟ اس نے کہا حالات ہی ایسے تھے اگر میں اس وقت انکار کرتا تو میری بات کو کون تسلیم کرتا دراصل  واقعہ  یہ ہے کہ میں پیشہ کےلحاظ سے قصاب ہوں ۔ گائے ذبح کرنے کے لئے باہر میدان میں گیا اسے ذبح کرکے کھال اتار رہاتھا کہ مجھے اچانک پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی میں نے چھری ہاتھ میں لئے ویرانے کا رخ کیا تو  دیکھتا ہوں  کہ وہاں ایک شخص خون میں لتھڑا پڑا ہے،گھبراہٹ کےعالم میں کھڑا ہوکردیکھ رہاتھا کہ آپ کی پولیس نے اسی حالت میں مجھے گرفتا رکرلیا۔ (الطرق الحکمیہ،ص:۵۵)

اس بنا پرسائل نے اگر دوسر ے  شخص کو اپنی آنکھوں سےگولی چلاتے ہوئے دیکھا ہےتو  اس کی گواہی دی جاسکتی ہے بصورت دیگر کئی ایک خطرات کےجنم لینے کا اندیشہ ہے ۔ (واللہ اعلم بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص439

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)