فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 12525
(435) درود و سلام کے لیے علامات کا استعمال کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 June 2014 10:57 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض کتب دینیہ میں رسول اللہﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ ‘‘صلعم’’لکھا ہوتا ہے۔اس طرح صحابہ کرام ؓ کے نام کے ساتھ ‘‘ ؓ’’کی علامت لکھی ہوتی ہے، اس قسم کی علامت اور اختصار کی کیا حیثیت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلامی آداب میں سے ہے کہ رسول اللہﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ محبت  اور چاہت سے ‘‘  ﷺ’’ لکھا جائے ، اسی طرح صحابہ کرامؓ کے اسمائے شریفہ کے ساتھ ‘‘  ؓ  ’’ تحریر کیا جائے، دیگر انبیائے کرام کے ساتھ  ‘‘  ؑ  ’’اور متقدمین  اسلاف کے ساتھ ‘‘  رحمہ اللہ تعالیٰ ’’زندہ عالم کے ساتھ ‘‘حفظہ اللہ’’ اور برخوردار ان کے ساتھ ‘‘ سلمہ اللہ’’ لکھا جائے۔ محدثین عظام نے وضاحت کی ہے کہ ﷺ یا     رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اختصار کی علامت سے نہ لکھا جائے ، اور نہ ہی اسے بار بار لکھنے سے دل میں کسی قسم کی اکتاہٹ پیدا ہونی چاہیے۔ چنانچہ شارح صحیح مسلم علامہ نووی ؒ لکھتےہیں کہ ‘‘کاتب کو چاہیے کہ رسول اللہﷺ پر صلوٰۃ و تسلیم لکھنے کی پابندی کرے اور باربار لکھنے میں کوئی اکتاہٹ محسوس نہ کرے، جو شخص اس سے غفلت کرتا ہے وہ گویا خیر کثیر سےمحروم ہوگیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی کے ساتھ عزوجل جیسے الفاظ لکھے، نیز صحابہ کرام کےلئے     ؓ اور دیگر اخیار امت کےلئے ؒ جیسے الفاظ کا انتخاب کرے، اس سلسلہ میں رموز و اشارات سے کام نہ لے بلکہ انہیں کامل طورپر لکھا جائے۔’’ (شرح تقریب  النووی،ص:۲۹۱)

علامہ سیوطی اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ،اگرچہ عزیزوجلیل ہیں لیکن آپ کے لئے عزوجل کےالفاظ نہ لکھے جائیں، اسی طرح صلوٰۃ و سلام کے الفاظ صحابہ کرام ؓ کےلئے استعمال نہ کئے جائیں جیسا کہ امام نووی نے شرح مسلم میں وضاحت کی ہے۔ (تدریب الراوی،ص:۲۹۳)

علامہ محمد جمال الدین قاسمی نے اپنی تالیف ‘‘قواعد التحدیث ’’ میں باقاعد ہ آداب کا عنوان بیان کرکے بڑی تفصیل سے اس مسئلہ کا حق ادا کیا ہے۔ (قواعد التحدیث )

لہٰذا ہمیں اس سلسلہ میں سستی یا کوتاہی سے کام نہیں لینا چاہیے، بلکہ ثواب و آداب کی نیت سے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام ؓ اجمعین  کے ذکر خیر پر مذکورہ آداب لکھنے کی پابندی کرنی چاہیے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص433

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)