فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 12524
(434) ادب کے طور پر بزرگ استاذہ کا ماتھا چومنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 June 2014 10:54 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے بچپن میں ایک عورت سے قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی، اب میں جب گاؤں جاتاہوں تو اس کے پاس  جاتا ہوں تو اس کی بزرگی کےپیش نظر میں اس کا سرچومتا ہوں اور ایسا ادب و احترام کے طورپر کرتا ہوں ، کیا شرعی طور پر مجھے اپنی استانی جواب تراسی(83)سال کی ہے، اس کا سر چومنے کی اجازت ہے؟ قرآن و حدیث  کی رو سے میری راہنمائی کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

استاد اور شاگرد کا رشتہ بہت مقد س اور عزت و احترام کا حامل ہے، لیکن استاد کی عزت کرتے ہوئے ہمیں شریعت کے دائرہ میں رہنا چاہیے۔ صورت مسئولہ میں بلاشبہ اپنی استانی کا احترام کرنا چاہیے اور وہ اس احترام کی حق دار ہے لیکن احترام کے طور پر اس کا سر چومنا یا اس مصافحہ کرنا جائز نہیں ، خواہ وہ عمر رسیدہ ہی کیوں نہ ہو اس کا احترام یہ ہے کہ اس کی ضروریا ت کا خیال رکھا جائے، کیونکہ وہ استانی محرمات میں سے نہیں ہے ،البتہ اس کی خبر گیری کرنے اور سلام کہنے میں چنداں حرج نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ کے پاس جب عورتیں بیعت کےلئے آتیں تو ان کی خواہش ہوتی کہ مردوں کی طرح رسول اللہﷺ سےمصافحہ کرکے بیعت کریں لیکن آپ ان سے زبانی بیعت لیتے اور وضاحت فرماتے:‘‘میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔’’(نسائی،البیعہ:۴۱۸۱)

حالانکہ رسول اللہ ﷺ ان عورتوں کے روحانی باپ ہیں ۔ اس کے باوجود آپ نے حزم و احتیاط کے پہلو کو مد نظر رکھا ہے۔ مذکورہ حدیث میں بیان ہے کہ عمر رسیدہ اور غیر رسیدہ تما م عورتوں کو شامل ہے، بلکہ حضرت عائشہؓ کا بیان اس سلسلہ میں بہت واضح ہے کہ انہوں نے فرمایا:‘‘اللہ کی قسم ! رسول اللہﷺ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو چھواتک نہیں ۔’’(ابو داؤد،الامارۃ:۲۹۴۱)

ان تصریحات کی روشنی میں کسی اجنبی مرد کےلئے جائز نہیں ہے ۔ کہ وہ کسی اجنبی عورت کا سر چھومے یا ا س سے مصافحہ کرے خواہ وہ اس کی استانی ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے اسے نظر اندا ز کرکے عزت و احترام کے خود ساختہ ضابطوں پر عمل کرنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ، البتہ استاد کے حقوق کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور اس کے احترام میں کمی نہیں آنی چاہیے، شاگرد کو چاہیے کہ وہ اپنے استاد(خواہ مرد ہو یا عورت)کی خبر گیری کرتا رہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص432

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)