فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12520
(430) کٹھن معاشی معاملات کی وجہ سے موت مانگنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 June 2014 10:31 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

٭کیا اپنے کٹھن معاشی حالات کےپیش نظر موت مانگی جاسکتی ہے؟

٭وہ کیا چیزیں ہیں جن کا مرنے کےبعد ثواب پہنچتارہتا ہے؟ کتا ب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دنیا میں کیسے بھی کٹھن حالات ہوں کسی بھی صورت میں موت کی آرزو نہیں کرنی چاہیے۔ حدیث میں بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت عباسؓ نے بحالت مرض موت کی تمنا کی تو رسو ل اللہﷺ نے فرمایا:‘‘اے چچاجان!موت کی تمنا مت کیجیے ،کیونکہ اگر آپ نیک ہیں تو آپ بقیہ زندگی میں مزید نیکیا ں حاصل کریں گے، یہ آپ کے لئے بہتر ہے اور آپ اگر گناہگار ہیں تو اپنے گناہوں سےتوبہ کرسکتےہیں ، یہ آپ کےلئے بہتر ہے ، لہٰذا آپ کسی بھی صورت میں موت کی تمنا نہ کریں۔’’(مسند امام احمد ،ص:۳۳۹،ج ۶)

ایک دوسری حدیث میں بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:‘‘تم میں سے کوئی بھی اپنی کسی مصیبت کےپیش نظر موت کی تمنا نہ کرے۔’’ اگر اس کے بغیر چارہ نہ ہوتو اس طرح کہہ لے:‘‘اے اللہ تعالیٰ ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرےلئے زندگی بہتر ہے اور اس وقت فوت کرلینا جب میرے لئے مرنا بہتر ہو۔’’ (صحیح بخاری ،الدعوات:۲۳۵۱)

مرنے کے بعد میت کو مندرجہ ذیل چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے:

٭اگر کوئی اس کے حق میں دعا کرتا ہے تو میت اس سے بہرہ ور ہوتی ہے بشرطیکہ دعا میں قبولیت کی شرائط موجود ہوں ۔ حدیث میں بیان ہے کہ اگر کوئی مسلمان اپنے بھائی کےلئے غائبانہ دعا کرتا ہے تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے ، اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ تعینات کردیا جاتا ہے ۔ جب وہ کسی کےلئے دعائے خیر کرتا ہے تو فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے اور اسے اللہ کے ہاں ا س کے مثل اجر ملنے کی دعا کرتا ہے۔ (مسند امام احمد،ص:۴۵۲،ج ۶)

٭میت کی نذر پوری کرنا۔ میت نے اپنی زندگی میں کوئی نذر مانی تھی لیکن اسے پورا کئے بغیر موت آگئی تو لواحقین کو چاہیے کہ اسے پورا کریں وہ نذر خواہ روزے یا حج یا نماز اداکرنےکی ہو، چنانچہ روزے کےمتعلق صحیح بخاری :۱۹۵۲،حج کےمتعلق صحیح بخاری:۱۸۵۲،نما ز کے متعلق صحیح بخاری تعلیقاً ‘‘باب من مات و علیہ نذر’’مطلق نذر کے متعلق بھی حدیث میں آیا ہے۔(صحیح بخاری ، الایمان والنذور:۶۶۹۸)

٭میت کی طرف سے قرض کی ادائیگی رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو تاکید کی تھی کہ وہ اپنے فوت شدہ بھائی کا قرض ادا کرے کیونکہ وہ عد م ادائیگی کی وجہ سے اللہ کےہاں محبوس ہے۔ (مسند امام احمد،ص:۱۳۶،ج ۴)

٭نیک اولاد جوبھی اچھا کام کرے گی والدین کو وفا ت کےبعد اس کا فائدہ پہنچتا رہتاہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: انسا ن کے لئے وہ کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی ہے۔’’(۵۳/النجم:۳۹)اوراولاد بھی انسان کی کوشش اور کمائی میں سے ہے ، جیساکہ حدیث میں ہے۔ (دارمی،ص:۲۴۷،ج۲)

٭صدقہ جاریہ اور باقیات صالحات:حدیث میں ہے جکہ ‘‘جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو تین اعمال کےعلاوہ اس کےتمام اعمال منقطع ہوجاتےہیں ، یعنی صدقہ جاریہ ایسا علم جس سےلوگ فائدہ اٹھاتےہوں اور نیک اولاد جو اس کےلئے دعا کرتی رہے۔’’
(صحیح مسلم، الوصیۃ:۱۶۳۱)

اس سلسلہ میں ایک جامع حدیث بھی ہے،جسے حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:‘‘انسان کی موت کے بعد جو حسنات اور اعمال جاری رہتے ہیں وہ یہ ہیں:

٭وہ علم جس کی اس نے لوگوں کو تعلیم دی اور اس کی خوب نشرواشاعت کی۔

٭نیک اولاد جو اپنے پیچھے  چھوڑگیا ۔

٭کسی کو قرآن کریم بطور عطیہ دیا۔

٭مسجد بنا کروقف کردی۔

٭محتاج اور ضرورت مند کو گھر بنا کردیا۔

٭کسی غریب کےلئے پانی کا بندوبست کردیا۔

٭وہ صدقہ جسے اپنی زندگی اور صحت میں نکالا اس کا ثواب بھی مرنے کے بعد بدستور رہےگا۔ (ابن ماجہ السنۃ:۲۴۲)

درج بالاوضاحت کے علاوہ کچھ چیزیں لوگوں نے خود ایجاد کررکھیں ہیں اور ایصال ثواب کےلئے انہیں عمل میں لایا جاتا ہے لیکن وقت اور مال کے ضیاع کےعلاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا، مثلا:قل خوانی،ساتواں، چالیسواں اور برسی وغیرہ قرآن خوانی اور پھر کھانے وغیرہ کا بندوبست ہوتا ہے، اس کا میت کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا کیونکہ کتاب و سنت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص428

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)