فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 12518
(428) لوگوں کا یقین رکھنا کہ فلاں شخص یا فلاں کلینک میں اللہ نے شفا رکھی ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 June 2014 10:20 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض ڈاکٹر یا اطبا اپنے کلینک کانام شفاکلینک یا دارالشفا رکھتے ہیں یا عوام الناس کہتے ہیں کہ فلاں ڈاکٹر یا حکیم کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نےبڑی شفارکھی ہے، اس کی شرعی حیثیت واضح کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہوناچاہیے کہ بیماری لگانے والا اور اس سےشفا دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن کریم میں اس کےمتعلق حضرت ابراہیم ؑ کا عقیدہ بایں الفاظ بیان ہوا ہے‘‘اورجب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفادیتا ہے۔’’(۲۶/الشعراء:۸۰)

رسول اللہﷺ نےبیماری اور شفا کےمتعلق ہمیں اسی عقید ہ کی تعلیم دی ہے، چنانچہ دعائے ماثور ہے کہ ‘‘ اے ہمارے رب! بیماری دور کراور شفا عطا فرمایا بلاشبہ تو ہی شفا دینے والاہے۔ تیری شفا کےعلاوہ اور کوئی شفا نہیں ہے ، ایسی شفاہوکہ جس کےبعد کوئی بیماری نہ رہے۔’’ (مسند امام احمد،ص:۴۱۸،ج ۳)

یہ عقیدہ رکھنے کےبعد اگر کوئی ڈاکٹر یا حکیم علاج گاہ کا نام اچھے شگون کےلئے شفا کلینک یا دارالشفا رکھتا ہے تو اس میں کوئی  قباحت نہیں ہے،جیسا کہ نیک فال کےطور پر سعید نام رکھا جاتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے سعادت مند اور نیک کرے، اسی طرح متعدد صحابیات اور تابعیات کےنام شفا ہی کتب حدیث میں آئے ہیں جن میں سے کچھ نام یہ ہیں: شفاءبنت عبداللہؓ جس نے حضرت حفصہ ؓ کو دم جھاڑ کی تعلیم دی تھی۔ (الاصابہ ،ص:۳۴۱،ج ۴)

حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی بہن اور والدہ  کا نام بھی شفاء تھا۔ (الاصابہ،ص:۳۴۲،ج ۴)

شفاءبنت عبدالرحمٰن انصاریہ جلیل القدر تابعیہ ہیں جن سے ان کےبھائی ابو سلمہ بن عبدالرحمن  روایت کرتےہیں اور ان سے مروی روایات کتب احادیث میں موجود ہیں۔ (الاصابہ،ص:۳۴۵،ج ۴)

امراض کی صحیح تشخیص اور ادویات کا صحیح استعمال بھی شفا کےاسباب میں سےبہت بڑا سبب ہے اگر کوئی ڈاکٹر یا حکیم مرض کی صحیح تشخیص کرتا ہے، پھر اس کے مطابق مناسب دوا تجوید کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مریض کو شفا ہوجاتی ہے تو یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکیم یا ڈاکٹر کےہاتھ میں بڑی شفارکھی ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص426

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)