فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 12500
(418) السلام علیکم کے مترادف الفاظ استعمال کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 June 2014 01:01 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل ہمارے معاشرے کےمسلمان کفار کی نقالی کرتے ہوئے نئے نئے فقرے استعمال کرتے ہیں ،مثلاًالسلام علیکم کے بجائے ہیلو،ہائے،اوکے،فائن اور گڈ وغیرہ اس قسم کے مسلمانوں کے متعلق ہمیں کیا موقف اختیار کرنا چاہیے ،منع کرنے کے باوجود بھی باز نہیں آتے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہماری یہ بد قسمتی ہے کہ ہماری اکثریت یہود و نصاریٰ اور کفارو مشرکین کی نقالی پر فخر کرتی ہے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسا دین عطافرمایا جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی کےلئے راہنمائی موجو د ہے۔ اس کے باوجود ہم مغربی تہذیب کو پسند کرتے  ہیں۔ یہ نقالی لباس و زینت ، تقریبات ، چال ڈھال ، خلق و عادات ،شادی اور خوشی کے تمام مواقع پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہودو نصاریٰ کی نقالی سے مطلق طورپر منع فرمایا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ‘‘اہل ایمان ان لوگوں کو طرح نہ ہوجائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔’’ (۵۷/الحدید:۱۶)

اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے حافظ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں کہ ‘‘ا س آیت میں اللہ تعالیٰ  نے اہل ایمان  کو اہل کتاب کے اصولی اور فروعی مسائل میں نقالی کرنے سے منع فرمایا ہے۔’’ (ص:۳۱۰،ج۴)

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ‘‘ جو شخص کسی کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ قیامت کے دن انہی میں اٹھایا جائے گا۔’’(ابو داؤد،ص:۱۷۳،ج۲)

ان واضح جوابات کے باوجود ہمارا کردار انتہائی قابل افسوس ہے کہ ہم فون کرتے وقت کرتے وقت سلام کہنے کے بجائے لفظ ہیلو استعمال کرتے ہیں، اپنے حالات سے کسی کو آگاہ کرتے وقت الحمدللہ کہنے کے بجائے گڈ، فائن جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ اس ظاہر ی تہذیب و ثقافت کو اپنانے میں ہمارا باطن ضرور متاثر ہوتا ہے۔ اس قسم کا طرز زندگی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمیں اپنی تہذیب سے محبت کے بجائے مغربی کلچر سے زیادہ انس ہے۔ اس قسم کے مسلمانوں کے ساتھ ہمارا رویہ ناصحانہ ہونا  چاہیے، انہیں ہمدردی کے ساتھ اپنے دین کی تعلیم دینی چاہیے۔ ان سے بے رخی اختیار کرنا کسی صورت بھی صحیح نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ نے ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا تھا‘‘اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت فرمایہ اس اس کی قدروقیمت سے ناآشنا ہیں۔’’

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص413

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)