فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12496
(414) راز کو راز رکھنا چاہیے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 June 2014 10:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی کسی دوسرے شخص سے اس کی پرائیویٹ بات پوچھنا چاہتا ہے جبکہ وہ اسے نہیں بتانا چاہتا ، کیا ایسے حالات میں جھوٹ بول کر دوسرے شخص کو ٹالا جاسکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت اسلامیہ میں جھوٹ بولنا سنگین جرم ہے۔ احادیث میں بات بات پر جھو ٹ بولنا منافقین کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ صرف تین مواقع پر خلاف واقعہ بات کہنے کی اجازت ہے:

(۱)دو بھائیوں یا دوستوں کے درمیان صلح کرانے کےلئے خلاف واقعہ بات کی جاسکتی ہے۔

(۲)بیوی خاوند آپس کی ناچاقی کو دور کرنے کےلئے بقد ر ضرورت خلاف واقعہ بات کرسکتے ہیں۔

(۳)میدان جہاد میں  دشمن کی چالوں کو ناکام  کرنے کےلئے جھوٹ بولاجاسکتا ہے۔

صورت مسئولہ ان صورتوں میں سے نہیں ہے، لہٰذا اگر کوئی دوسرے کو اپنی پرائیویٹ بات نہیں بتانا چاہتا تو اسے مجبور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس سلسلہ میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے۔ کھلے الفاظ میں صاف کہہ دیا جائے کہ میں اس بات کو کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا ، جھوٹ بولنے کی ضرورت یا اجازت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص411

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)