فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12475
(412) مسجد کا متولی مقرر کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 June 2014 01:04 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اہل مسجد ایک خاندانی باعمل اہل حدیث کو اپنی مسجد کا متولی مقرر کرتے ہیں جو مقتدی حضرات اور خطیب کو خلاف شریعت کام کرنے سے روکتا ہے ،بدیں وجہ چند لوگ اور خطیب اس کے خلاف محاذ بنا لیتے ہیں اور اسے پریشان کرتے ہیں، نیز بلا وجہ اس پر بدکاری، اور چندہ خوری کا الزام لگاتے ہیں ، ایسے لوگوں کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال واضح ہوکہ بلاوجہ کسی مسلمان کا تکلیف دینا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، بالخصوص بدکاری کا الزام تو انتہائی سنگین جرم ہے۔ اس قسم کے لوگ بدعمل مسلمان ہیں، لیکن انہیں ان جرائم کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جاسکتا حدیث میں ہے کہ ‘‘ مسلمان کو گالی دینا گناہ اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔’’ (صحیح بخاری ،الایمان:۴۸)

اس حدیث میں لفظ کفر کبیر ہ گناہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ قرآن پاک میں مسلمانوں  کے گروہوں کو آپس میں لڑنے کے باوجود انہیں مؤمن قراردیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ  ہے:‘‘اگر ایمان والوں کے دوگروہ آپس میں لڑپڑیں تو ان میں صلح کرادو۔’’(۴۹/الحجرات:۹)

اس بنا پر بعض مقتدی حضرات اور خطیب صاحب کا عمل اگر چہ بہت سنگین ہے، لیکن اس وجہ سے انہیں دائرہ اسلام سے خارج کرنا صحیح  نہیں ہے۔ انہیں چاہیے کہ آپس میں ایثا ر او رہمدردی کی فضا پیدا کریں اور باہمی صلح  و اتفاق سے مسجد کے انتظام کو چلائیں اور ایک دوسرے پر ناجائز الزامات لگانے سے پرہیز کریں اور نیز متولی مسجد کو چاہیے کو وہ بردباری اور تحمل مزاجی کامظاہر ہ کرے اور کسی کی خامی یا کوتاہی کو برسرعام نشر کرنے کے بجائے علیحدگی میں انہیں سمجھانے کی روش اختیار کرے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص409

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)