فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12474
(411) امیر کی طاعت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 June 2014 01:02 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں ایک شخص کو متفقہ طور پر امیر منتخب کیا گیا، پھر اس کی امارت کےدوران ہی چند لوگوں نے ایک دوسرے شخص کو امیر بنا دیاہے۔ اب ہم کس امیر کی اطاعت کریں، نیز ہمارے ایک عالم دین نے "ا نه عمل غیر صالح"کا ترجمہ ‘‘وہ حرام کا بیٹا تھا’’ کیا ہے ،کیا یہ ترجمہ صحیح ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت نے جن امرا کی سمع و اطاعت کا حکم دیا ہے اور اس کے متعلق بہت تاکید فرمائی ہے ، ان سے مراد بااختیار شرعی امراہیں۔ہمارے ہاں امیر کا انتخاب کسی جماعت یا ادارہ کا نظام چلانے کےلئے ہوتاہے۔ اسی بنا پر ان کی حیثیت ایک دستوری امیر کی ہوتی ہے، اس لئے پیش آمدہ اشکال جماعتی دستور کی روشنی میں حل کیا جانا مناسب ہے یا پھر اس سلسلہ میں مرکز سے رابطہ قائم کیا جائے۔ کیونکہ یہ ایک انتظامی معاملہ ہے ، بظاہر تو پہلے منتخب امیر  کاحق ہے کہ اسے جماعتی نظام چلانے کا موقع دیا جائے، اگر کہیں سقم ہوتو باہمی مشاورت سے اس کا حل تلاش کیا جائے ۔ ایک امیر کی موجودگی میں چند افراد کا کسی دوسرے شخص کو منتخب کرلینا صحیح نہیں ہے، نیز عالم دین کا بیان کردہ ترجمہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ کسی نبی کی بیوی کبھی بدکار نہیں رہی ہے۔ (ابن کثیر،ص:۳۹۲،ج ۴)

نیز فرماتے ہیں کہ وہ حضرت نوح ؑ کا ہی بیٹا تھا، لیکن اخلاق و کردار میں ان کے نقش قدم پر نہیں چلتا تھا۔(ابن کثیر،ص:۴۴۸،ج۲)

حضرات انبیاؑ پر اس طرح کے الزامات لگانا یہود یا نہ ذہنیت تو ہوسکتی ہے ، لیکن ایک مسلمان کے شایان شان نہیں ہے کہ دو انبیائے کرام ؑ کے بارے میں ایسی باتیں ذہن میں لائے جو عقل ونقل کے خلاف ہیں۔(واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص409

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)