فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12469
(406) تین مختلف سوال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 June 2014 12:46 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

پسرور سے شفیق الرحمٰن لکھتے ہیں:

٭حمنہ کے لغوی معنی کیا ہیں، کیا یہ نام اسلامی ہے بعض حضرات اس نام کو صحیح خیال نہیں کرتے؟

٭گھر میں کبوتر رکھنا شرعاً کیسا ہے کیا انہیں اڑانا جائزہے؟

٭اگر منبر موجود ہوتو کیا اس کے بغیر خطبہ دیا جاسکتا ہے ، ہمارے ہاں سالہا سال سے یہ طریقہ ہےکہ منبر کی موجودگی میں خطبہ نیچے کھڑے ہوکر دیا جاتا ہے صرف دوسرے خطبہ کےلئے چند منٹ منبر پر بیٹھا جاتاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عربی لغت کےاعتبار سے ہر وہ چیز جس میں سیاہ اور چھوٹے ہونے کا وصف پایا جائے اسے ‘‘حمٰن ’’ کہا جاتا ہے۔ اس کی تانیث حمنہ ہے ، چنانچہ علاقہ طائف میں پائے جانے والی سیاہ انگوروں کی ایک خاص قسم بڑے سیاہ دانوں میں چھوٹے چھوٹے سیاہ دانے، سیاہ چیونٹی، جوں اور حیوانات کےجسم سے لگی ہوئی چچڑی کر عربی میں ‘‘حمنہ ’’ کہا جاتا ہے۔ اس وضاحت کےبعد حمنہ ایک جلیل القدر صحابیہ ہیں۔ جن کے ذریعے استخاصہ کےمتعدد مسائل سے اس امت کو معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ ان کی ہمشیرہ حضرت زینب بنت حجشؓ رسو ل اللہﷺ کی اہلیہ تھیں جن کے نیک اور پارسا ہونے کی حضرت عائشہ ؓ نے گواہی دی ہے۔اس بنا پر کسی بچی کانام حمنہ رکھا جاسکتا ہے۔ اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔ ایسے ناموں کےمتعلق لغوی کھوج تحصیل لاحاصل اور بے سود ہے۔کیونکہ ان کی معنویت ان کے حاملین کے کردار میں ہے، جیسا کہ حضرت معاویہ اور حضرت عثمان ؓ کے متعلق لغوی مفہوم کی کرید کرنا درست نہیں ہے ۔ اگرچہ رسول اللہﷺ نے حضرت وحشی ؓ کو نام اور کام کی وجہ سے اپنی نگاہوں سے روپوش رہنے کی تلقین فرمائی تھی۔ لیکن ہمارے لئے صحابہ کرامؓ کےمتعلق حسن ظن کا تقاضایہی ہے کہ ہم اپنے دلوں میں ان کے متعلق محبت اور الفت کے جذبات رکھیں اور کسی بھی پہلو سے ان کےمتعلق نفرت کا اظہار نہ ہو۔ چونکہ حضرت حمنہ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگانے والوں میں شریک تھیں۔ اس لئے کچھ حضرات اس نام سےتکدر محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک ایسا رویہ درست نہیں  ہےکیونکہ سزا اور توبہ کے متعلق جرم کی نوعیت ختم ہوجاتی ہے۔ویسے انسان کےنام کا اس کی شخصیت کے ساتھ گہراتعلق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اخلاق و کردار پر بھی نام اثرانداز ہوتا ہے،نیز قیامت کےدن انسان کو اس کےنام مع ولدیت آواز دی جائے گی، اس لئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔‘‘تم اپنی اولاد کےلئے اچھےنام کا انتخاب کیا کرو۔’’ (ابوداؤدم،الادب:۴۹۴۸)

اللہ تعالیٰ کےہاں پسندیدہ نام وہ ہیں جن میں اللہ یا رحمٰن کےلئے عبودیت کا اظہار ہو، چنانچہ حدیث میں ہے کہ ‘‘اللہ تعالیٰ کو عبداللہ اور عبدا لرحمٰن نام بہت پسند ہیں۔’’ (صحیح مسلم ، الادب:۵۵۸۷)

اسی طرح وہ نام جن میں بندے کی عبودیت کا اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت کی طرف انتساب ہو، جیسا کہ عبدالسلام ، عبدالرحیم اور عبدالقدوس وغیرہ۔ حضرات انبیا کے نام بھی اللہ کے ہاں اچھے نام ہیں۔ حدیث میں بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ‘‘ اپنی اولاد کے لئے انبیا کےنام تجویز کیا کرو۔’’ (ابو داؤد،الادب:۴۹۵۰)

اسلاف میں جو نیک سیرت اور اچھے  کردار کےحامل لوگ ہوں ان کےنام بھی تجویز کئے جاسکتے ہیں جیسا کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ‘‘تم سے پہلے لوگ حضرات انبیا اور صالحین کے ناموں کے مطابق اپنی اولاد کےنام رکھتےتھے۔’’(صحیح مسلم ،الادب:۵۵۹۸)

ان حقائق کےپیش نظر حمنہ ایک اسلامی نام ہے اور اپنی بچیوں کا نام رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

 *چھوٹے بچوں کی تفریح طبع یا گھر کی زنیت کےلئے پرندوں کو گھر میں رکھا جاسکتاہے ، بشرطیکہ ان کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا جائے، جیسا کہ حدیث میں بیان ہے کہ حضرت انس ؓ کا یا ایک ابو عمیر نامی مادری بھائی تھا۔جس نے اپنے گھر میں نغیر نامی ایک سرخ چڑیا رکھی تھی جو کسی وجہ سے مرگئی تو ابو عمیر بہت پریشان ہوئے ۔ رسول اللہﷺ جب حضرت ام سلیم ؓ کےگھر جاتے تو ابو عمیر سے مخاطب ہوکر فرماتے:‘‘اے ابو عمیر!نغیر کو کیا ہوا۔’’ (صحیح بخاری :۶۲۰۳)

بخاری میں یہ وضاحت ہے کہ ابو عمیر نے یہ پرندہ محض تفریح طبع کےلئے رکھا تھا۔ اگر کبوتروں کو اپنے گھر میں زینت اور بچوں کے دل بہلانے کےلئے رکھا جاتا ہے تو حدیث بالا کے پیش نظر اس کی گنجائش ہے لیکن انہیں اڑانے اور شرط لگانے کے لئے رکھنا ناجائز ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو کبوتروں کےپیچھے پیچھے بھاگ رہاتھا آپ نے فرمایا کہ‘‘ایک شیطان ہے جو مادہ شیطان کےپیچھے بھاگ رہا ہے۔’’ (مسند امام احمد :۲/۴۵۲)

امام ابوداؤداور امام ابن ماجہ نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے:‘‘کبوتروں سے کھیلنا۔’’

ابن ماجہ میں مختلف صحابہ کرام سے اس کی کراہت کےمتعلق متعدد احادیث ہیں۔ (۳۷۶۴،۳۷۶۵،۳۷۶۷)ان کے پیش نظر انسان کو اس قسم کےفضول شوق سے اجتناب کرنا چاہیے۔

٭مسجد میں اگر منبر موجود ہے تو خطبہ جمعتہ المبارک اس پر کھڑے ہوکر دیا جائے۔ رسول اللہﷺ سے یہی عمل مسنون ہے۔اگر مسجد میں اس کا اہتمام نہیں تو سنت کے احیا کےپیش نظر اس کا انتظام کرنا چاہیے۔

لیکن صورت مسئولہ میں یہ حرکت انتہائی معیوب ہےکہ منبر کی موجودگی میں خطبہ کےلئے اسے استعمال نہ کیا جائے، البتہ دوسرے خطبہ کےا ٓغاز میں چند منٹ تک منبر پر بیٹھا جائے۔ اس طرح خطبہ تو ہوجاتا ہے لیکن یہ انداز محض تکلف اور غیر مسنون ہے۔(واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص402

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)