فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12237
(13) غیر مسلموں کو اسلامی شعائر واصطلاحات کے استعمال کاحق نہیں ہے
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 31 May 2014 06:44 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

: پاکستان میں عرصہ 15سال سے قومی اسمبلی کے فیصلے کے مطابق قادیانی غیر مسلم قرار دئیے جا چکے ہیں اور 1947ء میں قادیانی آرڈیننس بھی نافذ ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود مرزائی اپنےآپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور کلمہ شریف کا استعمال کر رہے ہیں ۔ اور تمام  شعائر اسلامی اور دوسری اسلامی اصطلاحیں ، مثلاً السلام علیکم ، بسم اللہ، اذان ،نماز ، روزہ ، حج ، قربانی ، علیہ السلام ، رضی اللہ ، امیر المومنین اور اپنی عبادت گاہ کانام مسجد رکھنا وغیرہ کا کثرت سے استعمال کررہے ہیں ۔ کیا قرآن وسنت اور اسلامی لٹریچر کی روشنی میں کسی غیر مسلم کو ان اسلامی اصطلاحوں کے استعمال کا حق حاصل ہے یا نہیں ۔ جواب دے کر مشکور فرمائیں ۔ ( سائل:اللہ ڈتہ مجاہد نیابازار قصور )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہم میں واضح باشد کہ غیر مسلم قادیانی وغیرہ کو اسلامی اصطلاحوں کے استعمال کا شرعا ہر گز حق حاصل نہیں ۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ کتاب وسنت ، اجماع امت او رآئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب اور مستوجب سزا ہیں ۔ چنانچہ جب ابو عامر منافق کے کہنے پر مدینہ منورہ کے منافقین نے مسجدضرار تعمیر کرڈالی جس کی بنیاد محض ضد، کفر ونفاق، عداوت اسلام اور مخالفت خدا ورسول ﷺ پررکھی تھی ، جو بظاہر مسجد تھی مگر درحقیقت مسجد کی شکل میں اسلام دشمن کا رستانیوں اور سازشوں کا مرکز تھی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرئیل ﷤ناز ل ہوئے اور ان منافقین کے ناپاک عزائم اوراسلام دشمن اغراض پر مطلع کرکے مسجد ضرار کا پول کھول دیا ۔

فرمایا:

﴿وَالَّذينَ اتَّخَذوا مَسجِدًا ضِرارًا وَكُفرًا وَتَفريقًا بَينَ المُؤمِنينَ وَإِرصادًا لِمَن حارَبَ اللَّـهَ وَرَسولَهُ مِن قَبلُ ۚ وَلَيَحلِفُنَّ إِن أَرَدنا إِلَّا الحُسنىٰ ۖ وَاللَّـهُ يَشهَدُ إِنَّهُم لَكاذِبونَ * لا تَقُم فيهِ أَبَدًا(التوبه :107-108)

’’ اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے ان اغراض کے لیے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کی باتیں کریں اور ایمانداروں میں تفریق ڈالیں اور اس شخص کے قیام کا سامان کریں جو اس سے پہلے سے اللہ اور رسول کا مخالف ہے، اور قسمیں کھا جائیں گے کہ بجز بھلائی کے اور ہماری کچھ نیت نہیں، اور اللہ گواه ہے کہ وه بالکل جھوٹے ہیں،آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔‘‘( ترجمہ شیخ الاسلام مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمہ اللہ)

اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کو مسجدضرار قرار دینے کے چار ناپاک مقاصدبیان فرمائے ہیں :

1۔ ضرار: یعنی قباکے مخلص مسلمانوں کونقصان پہنچائیں کیونکہ قبا کی وجہ سے اس کے نمازیوں کو ایک خاص عزت حاصل ہو گئی تھی ۔ جیسے فرمایا:

 ﴿فيهِ رِ‌جالٌ يُحِبّونَ أَن يَتَطَهَّر‌وا ۚ وَاللَّـهُ يُحِبُّ المُطَّهِّر‌ينَ ﴾(التوبه :108)

2۔ دوسرا ناپاک مقصد یہ کہ کفر و نفاق کی اشاعت اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے اڈا قائم کرنا ۔ اس عمارت کو مسجد ضرار قرار دینے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نیک کاموں میں نیک ہونا مقصد و نیت پر موقوف ہے ۔ ورنہ مسجد بنانے جیسا نیک کام بھی کفر کی اشاعت اور اسلام کو نیچا دکھانے کےلیے ہو سکتا ہے ۔ جیسا قادیانیوں کا اپنے مراکز کانام بیت الذکر وغیرہ رکھنا ۔

3۔تیسرا ناپاک مقصد یہ کہ وَتَفر‌يقًا بَينَ المُؤمِنينَ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالا جائے ۔ کیونکہ قبا کی تمام آبادی ایک ہی مسجد میں نماز ڑھتی تھی ۔

4۔ چوتھا یہ کہ رسول اللہﷺ کے باغی اور منافق ابو عامر نصرانی راہب کے لیے پناہ گاہ مہیا کرنا تاکہ وہ یہاں بیٹھ کر مدینہ کے منافقوں کو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف پالیسی اور تراکیب سمجھائے وغیرہ وغیرہ ۔

اور ان چاروں مقاصد پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کے خلاف بغاوت اور عداوت ہی ہے ، لہٰذا قادیانیوں کو یہ حق قطعاً حاصل نہیں کہ وہ اپنی عبادت گاہ کانام مسجد رکھیں اور نہ ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ کا نقشہ اور طرز تعمیر ہماری مساجد کے مطابق تیار کریں کہ اس سےہماری مسجدوں کی توہین اور مسلمانوں کو دھوکا دینا مقصود ہے ۔ کیونکہ مسجد من جملہ شعائر اسلامی میں سے ایک اشعار ہے ۔ لہٰذا قادیانیوں کو اس کی اجازت دینا اس شعار کی واضح توہین اوراستخفاف ہے۔ جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ مزید تفصیل آگے آرہی ہے ۔

﴿قاتِلُوا الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِاللَّـهِ وَلا بِاليَومِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمونَ ما حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسولُهُ وَلا يَدينونَ دينَ الحَقِّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتابَ حَتّىٰ يُعطُوا الجِزيَةَ عَن يَدٍ وَهُم صاغِرونَ﴾ (التوبه :29)

’’ ان لوگوں سے لڑو، جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں ﻻتے جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کرده شے کو حرام نہیں جانتے، نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں جنہیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں ۔‘‘ (یعنی جب محکوم رعیت بن جائیں تو ان سے جہاد کرنا ترک کر دو) 

اس آیت کریمہ سے روز روشن کی طرح ہوا کہ عیسائیوں ، یہودیوں ، مرزائیوں ، قادیانیوں ،ربویوں ، لاہوریوں اور دوسرے کافروں کو اسلامی ریاست میں اپنے باطل مذہب کی کھلے بندوں پرچارکرنے کی اجازت نہیں تاوقتیکہ وہ اسلام کی برتری تسلیم کرکے اس کی ماتحتی قبول کرتے ہوئے اپنی ماتحتی کا پورا پورا اعتراف کرتے ہوئے اور جزیہ دیتے  ہوئے ذمی بن کر رہنا قبول نہ کر لیں ان سے جہاد کیا جائے ۔ ایسے میں قادیانیوں کو اسلامی طرزتعمیر کے مطابق مسجد بنانے کی اجازت کیوں کر دی جاسکتی ہے ؟ اور وہ اپنے عبادت خانہ کو مسجد کانام کیونکر دے سکتے ہیں ؟

حضرت امام ابن کثیر﷫ اپنی شہر آفاق کتاب ’’تفسیر قرآن العظیم ‘‘ میں ﴿حَتّىٰ يُعطُوا الجِزيَةَ عَن يَدٍ وَهُم صاغِرونَکی تفسیر میں رقم فرماتے ہیں :

(وَهُم صاغِرونَ) أي : ذليلون حقيرون مهانون . فلهذا لا يجوز إعزاز أهل الذمة ولا رفعهم على المسلمين ، بل هم أذلاء صغرة أشقياء ، كما جاء في صحيح مسلم ، عن أبي هريرة  رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تبدءوا اليهود والنصارى بالسلام،وإذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه. (تفسیرابن کثیر :ج2ص347)

’’وھم صاغرون‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں (غیر مسلم مسیحیوں ، یہودیوں ، قادیانیوں ) کو خوب ذلیل و رسوا اور حقیر جانو! ان کو معزز جاننا شرعاً جائز نہیں ۔ اور نہ ان کومسلمانوں پر ترجیح دینا جائز ہے کہ کمینے اور بدنصیب لوگ ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ﷜ کی صحیح حدیث کے مطابق ان کو سلام کرنے میں بہل کرنی بھی جائز نہیں بلکہ ان کو تنگ راستہ سے گزرنے پر مجبور کرنا چاہیے ۔

وھم صاغرون ایسا فصیح و بلیغ اور جامع جملہ ہے گویا کوزے میں دریا بند کامصداق ہے ۔ یہ جملہ کیا ہے گویا ذمے لوگوں یعنی غیر مسلم رعیت اور اقلیتوں کےلئے ایک ایسی قانونی دستاویز ہے جس میں ان کی عبادت اور پوجا پاٹ کی حدود اور اس کا طریقہ کار ، مذہبی آزادی اور اس کی تبلیغ کا دائرہ کار ، عبادت خانوں کے نام ، ان کی تعمیر و تجدید  کے احکام ، مذہبی  تہوار ، قربانی ، لباس ، خوشی اور غمی کےاظہار کی تمام حدود متعین کر دی گئی ہیں ۔ اس دستاویز کی پوری پوری تفصیل آج بھی ان معاہدات میں موجود ہے جو خلفائے راشدین کے مثالی دور میں ان کے اعمال اور سپہ سالاروں کے تحت اس دور کی غیر مسلم اقلیتوں ، یہودو نصاریٰ اور مجوسیوں اور کفار سے طے پائے تھے ۔ ان معاہدوں کی روشنی میں ہمارے قابل فخر فقہاء ، محدثین ، مفسرین ، ائمہ مجتہدین اور اسلامی قوانین کے غواص علمائے اسلام نے درج ذیل قوانین مستنبط فرمائے ہیں:

ولهذا اشترط عليهم أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضي الله عنه تلك الشروط المعروفة في إذلالهم وتصغيرهم وتحقيرهم ، وذلك مما رواه الأئمة الحفاظ ، من رواية عبد الرحمن بن غنم الأشعري قال : كتبت لعمر بن الخطاب  رضي الله عنه  حين صالح نصارى من أهل الشام :بسم الله الرحمن الرحيم ، هذا كتاب لعبد الله عمر أمير المؤمنين من نصارى مدينة كذا وكذا ، إنكم لما قدمتم علينا سألناكم الأمان لأنفسنا وذرارينا وأموالنا وأهل ملتنا وشرطنا لكم على أنفسنا ألا نحدث في مدينتنا ولا فيما حولها ديرا ولا كنيسة ، ولا قلاية ولا صومعة راهب ، ولا نجدد ما خرب منها ، ولا نحيي منها ما كان خطط المسلمين ، وألا نمنع كنائسنا أن ينزلها أحد من المسلمين في ليل ولا نهار ، وأن نوسع أبوابها للمارة وابن السبيل ، وأن ينزل من مر بنا من المسلمين ثلاثة أيام نطعمهم ، ولا نئوي في كنائسنا ولا منازلنا جاسوسا ، ولا نكتم غشا للمسلمين ، ولا نعلم أولادنا القرآن ، ولا نظهر شركا ، ولا ندعو إليه أحدا ؛ ولا نمنع أحدا من ذوي قرابتنا الدخول في الإسلام ۔( تفسیرابن کثیر ج2ص 355آیت 29سورۃ التوبہ)

اس آیت کی روشنی میں حضرت امیر المومنین عمر ﷜ سے ملک شام کے نصاریٰ نے اپنے لئے ، اپنی اولاد اور مال کے لیے امان طلب کرتے ہواپنے اوپر یہ شرطیں عائد کی تھیں ، جیسا کہ ائمہ حفاظ نے عبدالرحمن بن (کاتب عمر ﷜) کے حوالہ سے بیان فرمائی ہیں ، اور وہ یہ ہیں کہ آج کے بعد ہم اپنے شہر اور اس گردو نواح میں عبادت خانہ ، کنبیہ ،گرجے اور اھب کی جھونپڑی ازسر نوتعمیر میں کریں گے۔ اور خراب شدہ گرجوں کومرمت نہیں گریں گے ، اسی طرح وہ گرجے جو مسلم آبادی میں ہوں گے ان کو دوبارہ نہیں بنائیں گے ۔ ہم اپنا گرجا گھروں کو مسلمانوں کےلیے رات دن کھلا رکھیں گے۔ اسی طرح گزرنے والوں اور مسافروں کےلیے گرجاؤں کے دروازے وسیع یعنی کھلا رکھیں گے تاکہ ان میں آرام کر سکیں اور ہم مسلم مہمانوں کی تین دن تک مہمانی کریں گے، نہ ہم ان گرجا گھروں اور اپنے رہائشی گھروں میں کسی جاسوس کو ٹھہرائیں گے۔ مسلمانوں سے دھوکا نہیں کریں گے، نہ اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دیں گے ، ہم کھلےعام شرک نہیں کریں اور نہ کسی کوشرک کی دعوت دیں گے ، ہم کسی قرابتدار کو اسلام قبول کرنے سے نہیں روکیں گے اگر وہ حلقہ بگوش ہونے کا ارادہ کریں گے ، ہم مسلمانوں کی تعظیم کرتے رہیں گے ، ہم ان کو بٹھانے کےلیے اپنی جگہیں چھوڑ دیا کریں گے اگر وہ بیٹھنا چائیں گے ۔ ہم ان کا لباس ، ان کے جوتوں جیسے جوتے ، ان کی ٹوپیوں جیسی ٹوپیاں اور ان کے عماموں جیسے عمام نہیں پہنیں گے وغیرہ ۔ (تفسیر ابن کثیر ج2ص 347)

ذمی رعیت  نیا عبادت  خانہ تعمیر نہیں کر سکتی :

(1)قاضی ابو یوسف تصریح فرماتے ہیں :

ويمنعوا من ان يحدثوا بناء  بيعة او كنيسة فى المدينة الا ماكانوا صولحوا عليه وصارو ذمه وهى بيعة لهم او كنيسة فما كان كذلك تركت لهم ولم تهدم . (كتاب الخراج الابى يوسف ص27)

كہ ’’عیسائیوں نے نیا صومعہ اورگرجا تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہو گ۔ البتہ جو معاہدہ کے وقت گرجا موجود ہو گا اس کو گرایا نہ جائے گا ۔ وما احدث من بناء بيعة اقوه كنيسة فان ذالك بهدم (كتاب الخراج لابى يوسف ص159) نیا بیعہ او رکنیسہ گرا دیا جائے۔

(2) امام ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی 450ھ رقم فرماتے ہیں :

ولا يجوز ان يحدثوا فى دار السلام بيعة و لاكنيسة فان احدثوها هدمت عليهم . (الاحكام السلطانية ص146)

كہ ’’اہل ذمہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دار السلام میں نیا بیعہ یا کنیسہ تعمیر کریں ۔ اس کی ان کو شرعاً اجازت نہیں ۔ اگر وہ کوئی بیعہ یا کنیسہ تعمیر کریں گے تواس کو گرا دیا جائے گا۔‘‘

(3)امام ابو زکریا محی الدین یحیی بن شرف النووی شافعی۔ المتوفی 676ھ تصریح فرماتےہیں :

ويمنعون من إحداث الكنائس والبيع والصوامع في بلاد المسلمين لما روى عن ابن عباس رضي الله عنه أنه قال أيما مصر مصرته العرب فليس للعجم أن يبنوا فيه كنيسة.(شرح المہذب جلد19ص412)

’’مسلمانوں کےشہروں میں ذمیوں کو کنائس ، بیع اور صومعے بنانے کی اجازت نہیں کیونکہ ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس﷜ نے فرمایا کہ جس شہر کو نئے سرے سے مسلمان آباد کریں اس میں غیر مسلم اقلیتوں کو گرجا وغیرہ بنانے کا حق نہیں ۔‘‘

(4)قاضی ابویعلیٰ حنبلی المتوفیٰ 458ھ رقم فرماتے ہیں :

ولا يجوز ان يحدثوا فى دار السلام بيعة و كنيسة فان احدثوها هدمت عليهم . (الاحكام السلطانية ص146)

اس كا ترجمہ پہلے گزر چکا ہے ۔

لانحدث فى مدينتنا كنيسة ولا فيما حولها دیرا ولا قلایة ولا صومعة راهب ولانجدد ما خرب من كنائسنا ولا ماكان منها فى خطط المسلمين ولانمنع كنائسنا من المسلمين ان ينزلوها فى الليل والنهار وان نوسع ابوابها للمارة وابن السبيل ولا نؤدى فيها لاو في  منازلنا جاسوسا.(المغنی لابن قدامہ ج9ص282)

’’جزیرہ کے ذمیوں کے حضرت عبدالرحمن بن غنم ﷜ سے جومعاہدہ کیا تھااس میں ہی شرط بھی تھی کہ آج کے بعدہم اپنے شہر میں نہ تو کوئی کنیسہ تعمیر کریں گے اور نہ دیر ، نہ قلایہ اور نہ کسی راہب کےلیے صومعہ بنائیں گے۔

اوران میں سے جو گرجائے گا اس کو دوبارہ تعمیر نہیں کریں گے، اس طرح جو گرجا وغیرہ مسلم آبادی میں ہو گا اس کو بھی دوبارہ نہیں بنائیں گے ۔ ہم اپنے گرجاؤں کومسلمانوں کے لیے رات دن کھلے رکھیں گے اور اسی طرح گزرنے والوں اور مسافروں کےلیے ان کے دروازے وسیع رکھیں گے تاکہ وہ ان میں آرام کر سکیں ۔ نہ ہم ان گرجاؤں اور اپنے گھروں میں کسی جاسوس کو ٹھہرائیں گے۔ ‘‘

(6)امام ابن قیم فرماتے ہیں :

حضرت عمر فاروق ﷜ کے حامل حضرت عبدالرحمن بن غنم﷜سے جزیرہ کے عیسائیوں نے از خود جو معاہدہ کیا تھا اس میں یہ بھی تھا۔

أن شرطنا لك على أنفسنا: أن لا نحدث في مدينتنا كنيسة، ولا فيما حولها ديراً، ولا قلاّية (بناء كالدير)، ولا صومعة راهب، ولا نجدد ما خرب من كنائسنا.(حقوق اھل مدینہ ج2ص 659)

’’ہم اسلام کا غلبہ تسلیم کرتے ہوئے آپ کےلیے اپنی جانوں پر یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ ہم اپنے شہر میں کوئی نیا گرجا اور علاقہ میں عابدوں کی خانقاہوں تعمیر کریں گےاورنہ کسی راہب کی کٹیا کھڑی کریں گے۔ نیز ہم اپنے پرانے گرجاؤں کی مرمت بھی نہیں کریں گے۔‘‘ (تفسیر ابن  کثیر ج2ص 348)

ان ائمہ کرام اورماہرین قوانین اسلامی کی ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ عیسائیوں اوریہودیوں کو جب کہ وہ اہل کتاب بھی ہیں ۔ کسی مسلم ممالک میں نئے گرجے اورعبادت خانے تعمیر  کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا اور جوگر جائے اس کی تجدید بھی جائز نہیں جیسا کہ حضرت فاروق اعظم ﷜ نے فرمایا:

لما روى كثير بن مرة قال سمعت عمر بن الخطاب يقول : قال رسول الله ﷺ :لا تبنى الكنيسة فى دار السلام ولا يجدد ما خرب منها . (شرح المہذب ج19ص413)

کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دارالسلام میں گرجا وغیرہ بنانا جائز نہیں اور اسی طرح اگر پہلے کا بنا ہوا گرجا وغیرہ گر جائے تو اس کی تجدید بھی جائز نیہں ۔ جب اہل کتاب عیسائیوں اور یہودیوں کےلیے رسول اللہﷺ نے دار السلام میں گرجے اور صومعے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی حالانکہ وہ اہل کتاب ہیں تو پھر قادیانی مرتدوں اور کافروں کو دارالاسلام اور مسلمان ملک میں مسجد کے نام سے عبادت خانہ بنانے کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے ؟ اور وہ اپنے مذہبی مرکز کو مسجد کے نام سے کیونکر پکارسکتے ہیں ؟

میدا ن میں نہیں نکلیں گے جیسے مسلمان عیدقربان اور عیدالفطر پڑھنے کے لیے کھلے میدان میں آتے ہیں۔‘‘

جس سے شوکت اسلام کا اظہار مقصود ہے۔

(4) امام نووی لکھتے ہیں:

ولا نخرج شعانين ولا بعوثا. (شرح المهذب ج19 ص411)

کہ ’’ جزیرہ کے عیسائی ذمیوں نے یہ شرط ہی تسلیم کر لی تھی کہ ہم اپنی دونوں عیدوں شعانیں اور بعوث کو نہیں نکالیں گے۔‘‘

اللہ تعالی، قرآن، دین اسلام اور رسولؐ کی گستاخی نہیں کریں گے:

جزیرہ کے نصاریٰ نے اپنے عہد ذمہ میں یہ پابندی بھی قبول کی تھی کی وہ اللہ تعالی ، قرآن مجید، دین اسلام اور رسول اللہﷺ کے حق میں گوئی گستاخی یا توہین آمیز کلمہ اور استخفاف پر مبنی کوئی بات نہیں کریں گے ورنہ ہمارے حقوق ازخود ختم متصورہوں گے اور ہم سزا کے مستوجب ہوں گے۔

1۔ امام ابوالحسن الماوردی لکھتے ہیں:

احدهما ان لا يذكروا كتاب الله تعالىٰ بطعن فيه ولاتحريف له والثانى ان لا يذكروا رسول الله بتكذيب له ولا ازدراء والثالث ان لا يذكروا دين الاسلام بذم له ولا قدح فيه. (الاحكام السلطانيه ص145)

کہ ’’ وہ چھ شرطیں جن کی پابندی ہر ایک ذمی شخص، خواہ وہ کوئی بھی غیر مسلم ہو، پر واجب ہے۔ ان میں پہلی شرط یہ ہے کہ وہ قرآن مجید پر طعن نہیں کرے گا نہ اس میں تحریف کا دعویٰ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب نہیں کرے گا اور نہ آپ کے حق میں توہین آمیزبات کرے گا اور تیسری شرط یہ کہ وہ دین اسلام کی مذمت نہیں کرے گا اور نہ اس میں مین میکھ نکالے گا۔‘‘

مرزائی قرآن میں تحریف کا دعویٰ تو نہیں کرتے، لیکن اس میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں کہ وہ خاتم النبیین کی ایسی توجیہ و تاویل کرتے ہیں جو قرآن مجید کی بیسیوں نصوص وآیات اور اسی طرح احادیث رسولؐ، اقوال صحابہ﷢ اور اجماع امت کے سراسر خلاف ہے۔ اس سے بڑی تحریف اور کیا ہوسکتی ہے؟ اور اسی طرح وہ رسول اللہﷺ کی توہین کے مرتکب ہیں کہ آپ کاایک وصف اور شرف خاتم النبیین ہونا ہے اور قادیانی آپ کے اس وصف کااپنے عقیدہ اور عمل کے ساتھ انکار کررہے ہیں، اور اس انکار کی نشر و اشاعت میں ان کا مالدار پریس شبانہ روز سرگرم عمل ہے اور اجرائے نبوت کے مزعومہ عقیدہ کے اثبات کے لیے لٹریچر چھاپ کر پاکستان کے بے علم اور سادہ لوح مسلمانوں کو خصوصاً اور دنیا بھر کے نئے مسلمان ہونے والوں کو عموماً گمراہ کرنے پر تلاہوا ہے مگر تعجب ہے کہ پاکستان کی حکومت روا داری اور مداہنت سے کام لے رہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی ملک میں غیر مسلم اقلیتوں کو اپنے باطل مذاہب کی تبلیغ کی اجازت ہے؟

غیر مسلم اقلیتوں کو اپنے مذاہب باطلہ کی تبلیغ کی اجازت نہیں:

تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلامی ملک میں کسی بھی غیر مسلم ذمی رعیت اور اقلیت کے اپنے مذہب اور عقیدہ کی پابندی کرنے کی تواسلام اجازت دیتا ہے مگر اس کی تبلیغ اور اشاعت کی اجازت ہر گز نہیں دیتا۔

1۔ امام ابوالحسن الماوردی رقم فرماتے ہیں:

والثالث ان لا يسمعوهم اصوات نواقيسهم ولا تلاوة كتبهم ولا قولهم في عزير والمسيح والرابع لا يجاهروهم بشرب خمورهم ولا باظهار صلبانهم وخنازيرهم والخامس ان يخضوا دفن موتاهم يجاهرون بندب عليهم ولا نياحة.الاحكام السلطانية ص145.

ذمیوں پر تیسری شرط جس کی پابندی ان پر لازم ہے یہ ہے کہ وہ اپنے ناقوس کی آوازیں مسلمانوں کو نہیں سنائیں گے اور نہ بآواز بلند اپنی کسی کتاب کی تلاوت کریں گے اور نہ حضرت عزیر اور حضرت مسیح علیہم السلام کے بارے میں اپنے عقیدہ کا برملا اظہار کریں گے اور چوتھی شرط لازم یہ ہے کہ وہ اعلانیہ طور پر نہ شراب پئیں گے اور نہ بازاروں میں صلیب لٹکا کر نکلیں گے اور نہ بازاروں میں خنزیروں کو لے کر آئیں گے۔ اور پانچویں لازمی شرط یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مردوں کو چپکے سے دفن کریں گے۔ اور ان پر نہ تو آواز کے ساتھ واویلا کریں گے اور نہ ہوحہ۔

(2)امام محی الدین یحیی بن شرف النووی وضاحت فرماتے ہیں:

ویمنعون من اظهار الخمر والخنزير وضرب الناقوس والجهر بالتوراة والانجيل واظهار الصليب واظهار اعيادهم ورفع الصوت علىٰ موتاهم لماروى عبدالرحمن بن غنم﷜ فى كتاب عمر ﷜علىٰ نصارىٰ الشام شرطن ان لا نبيع الخمور ولا نظهر صلباننا ولا كتبنا فى شيئ من طرق المسلمين ولا اسواقهم ولا نضرب نواتيسنا الا ضربا خفيا ولا نرفع اصواتنا بالقراءة فى كنائسنا فى شئي من حضرة المسلمين ولا نخرج شعانينا ولا باعوثنا ولا نرفع اصواتنا علىٰ موتانا.شرح المهذب ج19 ص412)

’’ ذمیوں کو بازاروں میں شراب اور خنزیر کی خریدو فروخت کا حق نہ ہوگا ناقوس بجائے ، توراۃ اور انجیل کی اعلانیہ تلاوت کرنے اور صلیب پہن کربازاروں میں چلنے کا حق نہ ہوگا۔ نہ وہ اپنی عیدیں پڑھنے کے لیے کھلے میدا یا کسی گراؤنڈ میں جاسکیں گے، اور نہ اپنے مردوں پر بلند آواز سے نوحہ کرسکیں گی۔ جیسا کہ حضرت عبدالرحمن بن غنم﷜ نے حضرت فاروق اعظم﷜ کے اس معاہدہ کے مندرجات کا حوالہ دیا ہے جو آپ نے شام کے نصاریٰ کے ساتھ کیا تھا۔ ان میں تمام پابندیوں کی تفصیل موجود ہے۔

(3) حضرت امام ابن کثیرؓ تصریح فرماتے ہیں:

 

وأن لا نظهر الصليب على كنائسنا وأن لا نظهر صلبنا ولا كتبنا في شيء من طرق المسلمين ولا أسواقهم ولا نضرب نواقيسنا في كنائسنا إلا ضرباً خفيفاً وأن لا نرفع أصواتنا بالقراءة في كنائسنا في شيء من حضرة المسلمين ولا نخرج شعانين ولا باعوثاً ولا نرفع أصواتنا مع موتانا ولا نظهر النيران معهم في شيء من طرق المسلمين ولا أسواقهم ولا نجاورهم بموتانا ولا نتخذ من الرقيق ما جرى عليه سهام المسلمين وأن نرشد المسلمين ولا نطلع عليهم في منازلهم. قال فلما أتيت عمر بالكتاب زاد فيه ولا نضرب أحداً من المسلمين شرطنا لكم ذلك على أنفسنا وأهل ملتنا وقبلنا عليه الأمان فإن نحن خالفنا في شيء مما شرطناه لكم ووظفنا على أنفسنا فلا ذمة لنا وقد حل لكم منا ما يحل من أهل المعاندة والشقاق.( تفسیر ابن کثیر ج2 ص348)

(1)’’ ہم اپنے گرجاؤں کے فلک بوس میناروں پر صلیب بلند نہیں کریں گے۔

(2) ہم اپنی صلیبوں اور کتابوں کو مسلمانوں کے راستوں اور منڈیوں میں نہیں لائیں گے یعنی ان کے سرعام سٹال نہیں لگائیں گے۔

 (3) ہم اپنےگرجوں کے اندر بھی اونچی آواز سے ناقوس نہ بجائیں گے۔

(4) ہم اپنے گرجوں کے اندر بھی اونچی آواز سے اپنی کتاب کی قراءت نہ کریں گے۔

(5) اپنی عیدیں (شعانین اور یعوث) پڑھنے کے لیے کسی کھلے گراؤنڈ میں نہ نکلیں گے۔

 (6) ہم اپنے مردوں پر بلند آواز سے نہیں روئیں گے اور نہ اپنے مردوں کے ساتھ آگ لے  کر چلیں گے ۔

(7) اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان کے قریب دفن نہیں کریں گے۔ اگر ہم ان تمام شرطوں کو جن کو ہم نے از خود اپنے تجویز کیا ہے ان میں سے کسی ایک شرط کی خلاف ورزی کریں گے تو عہد ذمہ ختم ہوگا اور مسلمانوں کو ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوگا جس طرح ان باغی کافروں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

(4) امام ابن قیم رقم طراز ہیں:

الا نضرب نواقيسنا الا ضربا خفيا فى جوف كنائسنا ولا نظهر عليها صليبا ولا نرفع اصواتنا فى صلواتنا ولا القراءة فى كنائسنا وان لا نخرج  صليبا ولا كتابا فى سوق المسلمين والا نخرج باعوث قال والباعوث يجتمعون كما يخرج المسلمون يوم الاضحىٰ والفطر ولا نظهر شركا ولا نرغب فى ديننا ولا ندعوا اليه احدا.(كتاب حقوق اهل الذمة ج2 ص659، 660)

’’ ذمیوں نے حسب ذیل شرطیں قبول کرتے ہوئے ان پر دستخط کیے کہ

(1)ہم اپنے گرجاؤں میں بآواز بلند ناقوس نہیں بچائیں گے

(2) ان کے اوپر اونچی کرکے صلیب کھڑی نہیں کریں گے

(3) ہم اپنے گرجاؤں کے اندر بھی بلند آواز کے ساتھ دعا نہ مانگیں گے

(4) نہ ان کے اندر اونچی آواز کے ساتھ اپنی کتاب پڑھیں گے

(5) مسلمانوں کے بازاروں میں صلیب نہیں نکالیں گے

(6) عید کے لیے کھلے میدان میں نہیں جائیں گے ، جیسےمسلمان اپنی عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کی ادائیگی کےلیے کھلے گراؤنڈ میں جاتے ہیں

(7) کھلے عام شرک نہیں کریں گے۔

(8) ہم اپنے دین کی کسی کو ترغیب نہیں دیں گے اور

(9) نہ کسی کو اپنے دین کی دعوت دیں گے۔‘‘

ان تصریحات کا خلاصہ یہ ہے کہ ازروئے اسلام مسلم ممالک کے ذمیوں اور اقلیتوں کے اپنے باطل مذاہب کی تبلیغ و اشاعت کی ہرگزاجازت نہیں۔نہ تقریر میں اور نہ تحریرمیں اور نہ مناظروں کے ذریعہ سے اور نہ مناقشوں کے ساتھ۔ غرضیکہ وہ اپنے مذہب کی کسی طرح اور کسی بھی انداز میں تبلیغ نہیں کرسکتے۔ اگر کوئی مسلمان حکمران کسی وجہ سے اس کی اجازت دیتا ہے تو یہ اجازت کالعد اور حکمران شرعاً مجرم ہوگا۔ کیونکہ اس میں اسلام کی حقانیت کو بٹہ لگتا ہے۔اللہ تعالی ، رسول اللہؐ اور کتاب اللہ قرآن مجید کی تکذیب لازم آتی ہے اور اسلام کی توہین اور سبکی ہوتی ہے۔ قاضی ابویعلی محمد بن حسین الفراء حنبلی رقمطراز ہیں:

کذالك يلزم ترك مافيه غضاضة ونقص على الاسلام وهي ثلاثة ذكر الله تعالىٰ و كتابه ودينه ورسوله بما لاينبغى فهذا الاشياء يلزمهم تركها سواء شرط ذالك الامام عليهم اولم يشرط. (الاحكام السلطانية ص142)

جب یہود ونصاریٰ کو مسلم ملک میں اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت ، اپنے لپریچر کو سرعام بازار میں لانے، صلیب لٹکا کر چلنے، گرجا کےمنارے پرصلیب گاڑنے اور گرجا کے اندر بلند آواز سے دعا کرنے اور انجیل پڑھنے کی اجازت اور ازسر نوگرجا تعمیر کرنے یا گرے ہوئے گرجا کی مرمت کرنے کی اجازت نہیں اور ان کو اپنے تہوار کھلے گراؤں میں منانے کی اجازت نہیں۔‘‘

حالانکہ وہ اہل کتاب ہیں یعنی کسی وقت وہ سچے دین و مذہب پر رہ چکے ہیں تو پھر سلطنت خداداد پاکستان میں قادیانیوں  کو جو مرتدین کی اولاً، شرعاً اور قانوناً خارج از اسلام اور کافر ہیں، کو اپنے عبادت خانے تعمیر کرنےاور ان کو مساجد کے نام سے موسوم کرنے اور بلانے کی اجازت کیونکر ہوسکتی ہے؟ ان کو پاکستان میں ایک کذاب اور مفتری علی اللہ ( غلام احمد قادیانی) کے باطل نظریات اور ہذیانات کی کھلے عام نشر و اشاعت اور تبلیغ و دعوت کی اجازت اسلام سے بغاوت اور رسول اللہﷺ کی سراسر توہین ہے۔ نہ جانے پاکستان کے مسلمانوں کی غیرت کہاں سوچکی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

ذمی لوگوں کو مسلمانوں کے ناموں جیسے نام رکھنے کی اجازت نہیں

ذمی لوگوں کو مسلم ملک میں نہ صرف اپنے دین اور مذہب کی تبلیغ و ترویج کی اجازت نہیں، بلکہ ان کو مسلمانوں کے ناموں پراپنے نام رکھنے حتی کہ مسلمانوں کا لباس پہننے کی اجازت نہیں تاکہ اسلامی تشخص کجلا نہ جائے جیسا کہ اسلامی دفاتر میں اس کی وضاحت وصراحت موجود ہے۔

امام ابن کثیر تصریح فرماتےہوئے رقم طرازہیں:

ولا نعلم أولادنا القرآن ولا نظهر شركاً ولا ندعو إليه أحداً ولا نمنع أحداً من ذوي قرابتنا الدخول في الإسلام إن أرادوه وأن نوقر المسلمين وأن نقوم لهم من مجالسنا إن أرادوا الجلوس ولا نتشبه بهم في شيء من ملابسهم في قلنسوة ولا عمامة ولا نعلين ولا فرق شعر ولا نتكلم بكلامهم ولانكتني بكناهم لا نركب السروج ولا نتقلد السيوف ولا نتخذ شيئاً من السلاح ولا نحمله معنا ولا ننقش خواتيمنا بالعربية.(تفسیر ابن کثیر ج2 ص347، 348)

شام کے نصاری نےیہ شرطیں بھی قبول کی تھیں۔

(1) ہم اپنے بچوں کو قرآن نہیں پڑھائیں گے۔

(2) ہم اپنے شرکیہ کام کھلم کھلا نہیں کریں گے۔

(3) اور نہ اپنے شرک کی دعوت دیں گے۔

(4) ہم اپنے کسی قرابت دار کو اسلام قبول کرنے سے منع نہیں کریں گے۔

(5) ہم مسلمانوں جیسا لباس بھی نہیں پہنیں گے،نہ مسلمانوں کی ٹوپی جیسی ٹوپی، نہ عمامہ جیسا عمامہ اور نہ جوتے جیسا جوتا پہنیں گے۔

(6) نہ ہم سرکے بالوں کی سیدھی مانگ نکالیں گے۔

(7) نہ ان کی زبان بولیں گے۔

(8) نہ ان کی کنیتوں جیسی کنیت رکھیں گے۔

(9) اور نہ ہی اپنی سواریوں پر زین سجائیں گے۔

(10) اور نہ تلوار لٹکائیں گے( یادرہے تلوار اس زمانہ میں مسلمانوں کا علامتی ہتھیار اور شعار ( شناختی نشان) سمجھا جاتا تھا۔

(11) اور نہ ہم اپنے گھروں میں اسلحہ رکھیں گے۔

(12) اور نہ کسی قسم کا اسلحہ اٹھا کر چلیں گے۔

(13) اور نہ اپنی انگوٹھی پر عربی زبان میں کچھ نقش کریں گے اور آخر میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر ہم ان جملہ شرائط میں سے کسی ایک شرط کی خلاف ورزی کریں گے تو مستوجب سزا ہوں گے۔

امام وردی یہ بھی لکھتے ہیں:

والخامس ان لا يفتنوا مسلماً عن دينه(الاحكام السلطانيه ص145)

پانچویں شرط لازمی یہ بھی ہے کہ ذمی لوگ اور کوئی اقلیت کسی مسلمان کو اس کے دین کے معاملہ میں کسی آزمائش اور فتنہ میں مبتلا کرنے کی ہر گز مجاز نہ ہوگی۔ نہ دھونس کی صورت میں، نہ مال کی تحریص کے ساتھ، نہ رشتہ کی ترغیب کے ساتھ اور نہ کسی قسم کے لالچ کے ساتھ، اگروہ ایسا کرے گی تو قانون حرکت میں آکر اس کو کیفر کردار تک پہنچا کررہے گا۔

خلاصۃ المرام یہ کہ کسی غیر مسلم عیسائی، یہودی ، مجوسی ، صابی، ہندو، سکھ ، پارسی، بہائی، بابی، قادیانی ، لاہوری اورربوری مرزائیوں کو شعائر اسلام یعنی کلمہ ، توحید، رسول، قبلہ ، صلاۃ، درود، مسجد، قربانی، عید وغیرہ مقدس اصطلاحوں کو استعمال کرنے کی ازروئے شرح اسلام قطعاً اجازت نہیں اور نہ ان مذکورہ باطل گروہوں اور خارج ازاسلام فرقوں کو فرقوں کو اپنے باطل عقائد وافکار اوراعمال اور رسومات کا برملا پرچار کرنے کی اجازت ہے، اور نہ ان کو اپنے ان باطل اور خلاف اسلام عقائد و افکار اوراعمال ورسومات کی نشر و ترویج اور دعوت اور تبلیغ کی اجازت ہے اور مسلمان حکمران اور مسلم اکثریت پر شرعاً واجب ہے کہ وہ اپنے ملک میں بسنے والی غیرمسلم اقلیتوں کو ان شرائط کا پابند بنائے کہ یہ مسلمانوں کا شرعی فریضہ ہے ۔ تفصیل آپ کے سامنے ہے۔

هذا ماعندى والله تعالى اعلم بالصواب

سول جج چوہدری محمد نسیم کا فیصلہ

مسلمانوں کی آبادیوں قادیانی عبادت گاہیں تعمیر نہیں کرسکتے۔ سول جج کا فیصلہ قادیانی غیر مسلم فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مدعا علیہان کےوکیل کا اعتراف

رحیم یار خان۔9فرور(1972ء) ایڈمنسٹریٹر جج رحیم یار خاں چوہدری محمد نسیم نے ایک مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادیوں میں قادیانی اذان۔ نماز۔ تبلیغ اورعبادت گاہ تعمیر نہیں کرسکتے۔ انہوں نے محلہ قاضیاں میں ایک متنازعہ مکان ے مقدمہ کا فیصلہ دیتے ہوئے احمدیوں کے خلاف حکم امتناعی دوامی جاری کردیا ہے۔مدعا علیہا کے وکیل مسٹر پرویز احمد باوجوہ نے مدعیان کے حق میں ڈگری جاری کیے جانےپر رضامندی کا اظہار کر دیا ہے اور اپنے تحریری بیان میں عدالت کے روبرو تسلیم کیا ہے کہ وہ ایک غیر مسلم فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ فاضل جج نے مولوی عبدالرشید لدھیانوی وغیرہ کی درخواست پر یہ حکم دیا ہے ۔ جس میں کہاگیا تھا کہ مسلمانوں کے محلہ قاضیاں کے ایک مکان میں احمدیوں نے نوتعمیر شدہ مکان کو اپنی عبادت گاہ بنا دیا ہے ۔ حالانکہ اس محلہ میں ان کی آبادی نہیں ہے ، قریب ہی مسلمانوں کی مسجد ہے ، جس سے اشتعال پیدا ہونے اور امن وامان کو خطرہ ہے ۔ مدعیان کی جانب سے مقامی با ایسوسی ایشن کے سینئر رکن شیخ عبد العزیز اختر چوہدری بشیر احمد اور قاضی محمد اقبال نے پیروی کی ۔ نوائے وقت 20فروری 1927ء۔ بحوالہ ہفت روزہ الاعتصام ، بحریہ 25فروری 1972ء

محمد عفیف اللہ خان

2/ 3/ 2009

9محرم الحرام 1392ھ

 

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص135

محدث فتویٰ

صورت مسئولہم میں واضح باشد کہ غیر مسلم قادیانی وغیرہ کو اسلامی اصطلاحوں کے استعمال کا شرعا ہر گز حق حاصل نہیں ۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ کتاب وسنت ، اجماع امت او رآئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب اور مستوجب سزا ہیں ۔ چنانچہ جب ابو عامر منافق کے کہنے پر مدینہ منورہ کے منافقین نے مسجدضرار تعمیر کرڈالی جس کی بنیاد محض ضد، کفر ونفاق، عداوت اسلام اور مخالفت خدا ورسول ﷺ پررکھی تھی ، جو بظاہر مسجد تھی مگر درحقیقت مسجد کی شکل میں اسلام دشمن کا رستانیوں اور سازشوں کا مرکز تھی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرئیل ﷤ناز ل ہوئے اور ان منافقین کے ناپاک عزائم اوراسلام دشمن اغراض پر مطلع کرکے مسجد ضرار کا پول کھول دیا ۔

فرمایا:

﴿وَالَّذينَ اتَّخَذوا مَسجِدًا ضِرارًا وَكُفرًا وَتَفريقًا بَينَ المُؤمِنينَ وَإِرصادًا لِمَن حارَبَ اللَّـهَ وَرَسولَهُ مِن قَبلُ ۚ وَلَيَحلِفُنَّ إِن أَرَدنا إِلَّا الحُسنىٰ ۖ وَاللَّـهُ يَشهَدُ إِنَّهُم لَكاذِبونَ * لا تَقُم فيهِ أَبَدًا

(التوبه :107-108)

’’ اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے ان اغراض کے لیے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کی باتیں کریں اور ایمانداروں میں تفریق ڈالیں اور اس شخص کے قیام کا سامان کریں جو اس سے پہلے سے اللہ اور رسول کا مخالف ہے، اور قسمیں کھا جائیں گے کہ بجز بھلائی کے اور ہماری کچھ نیت نہیں، اور اللہ گواه ہے کہ وه بالکل جھوٹے ہیں،آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔‘‘( ترجمہ شیخ الاسلام مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمہ اللہ)

اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کو مسجدضرار قرار دینے کے چار ناپاک مقاصدبیان فرمائے ہیں :

1۔ ضرار: یعنی قباکے مخلص مسلمانوں کونقصان پہنچائیں کیونکہ قبا کی وجہ سے اس کے نمازیوں کو ایک خاص عزت حاصل ہو گئی تھی ۔ جیسے فرمایا:

 ﴿فيهِ رِ‌جالٌ يُحِبّونَ أَن يَتَطَهَّر‌وا ۚ وَاللَّـهُ يُحِبُّ المُطَّهِّر‌ينَ ﴾(التوبه :108)

2۔ دوسرا ناپاک مقصد یہ کہ کفر و نفاق کی اشاعت اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے اڈا قائم کرنا ۔ اس عمارت کو مسجد ضرار قرار دینے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نیک کاموں میں نیک ہونا مقصد و نیت پر موقوف ہے ۔ ورنہ مسجد بنانے جیسا نیک کام بھی کفر کی اشاعت اور اسلام کو نیچا دکھانے کےلیے ہو سکتا ہے ۔ جیسا قادیانیوں کا اپنے مراکز کانام بیت الذکر وغیرہ رکھنا ۔

3۔تیسرا ناپاک مقصد یہ کہ وَتَفر‌يقًا بَينَ المُؤمِنينَ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالا جائے ۔ کیونکہ قبا کی تمام آبادی ایک ہی مسجد میں نماز ڑھتی تھی ۔

4۔ چوتھا یہ کہ رسول اللہﷺ کے باغی اور منافق ابو عامر نصرانی راہب کے لیے پناہ گاہ مہیا کرنا تاکہ وہ یہاں بیٹھ کر مدینہ کے منافقوں کو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف پالیسی اور تراکیب سمجھائے وغیرہ وغیرہ ۔

اور ان چاروں مقاصد پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کے خلاف بغاوت اور عداوت ہی ہے ، لہٰذا قادیانیوں کو یہ حق قطعاً حاصل نہیں کہ وہ اپنی عبادت گاہ کانام مسجد رکھیں اور نہ ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ کا نقشہ اور طرز تعمیر ہماری مساجد کے مطابق تیار کریں کہ اس سےہماری مسجدوں کی توہین اور مسلمانوں کو دھوکا دینا مقصود ہے ۔ کیونکہ مسجد من جملہ شعائر اسلامی میں سے ایک اشعار ہے ۔ لہٰذا قادیانیوں کو اس کی اجازت دینا اس شعار کی واضح توہین اوراستخفاف ہے۔ جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ مزید تفصیل آگے آرہی ہے ۔

﴿قاتِلُوا الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِاللَّـهِ وَلا بِاليَومِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمونَ ما حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسولُهُ وَلا يَدينونَ دينَ الحَقِّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتابَ حَتّىٰ يُعطُوا الجِزيَةَ عَن يَدٍ وَهُم صاغِرونَ﴾ (التوبه :29)

’’ ان لوگوں سے لڑو، جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں ﻻتے جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کرده شے کو حرام نہیں جانتے، نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں جنہیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں ۔‘‘ (یعنی جب محکوم رعیت بن جائیں تو ان سے جہاد کرنا ترک کر دو)

اس آیت کریمہ سے روز روشن کی طرح ہوا کہ عیسائیوں ، یہودیوں ، مرزائیوں ، قادیانیوں ،ربویوں ، لاہوریوں اور دوسرے کافروں کو اسلامی ریاست میں اپنے باطل مذہب کی کھلے بندوں پرچارکرنے کی اجازت نہیں تاوقتیکہ وہ اسلام کی برتری تسلیم کرکے اس کی ماتحتی قبول کرتے ہوئے اپنی ماتحتی کا پورا پورا اعتراف کرتے ہوئے اور جزیہ دیتے  ہوئے ذمی بن کر رہنا قبول نہ کر لیں ان سے جہاد کیا جائے ۔ ایسے میں قادیانیوں کو اسلامی طرزتعمیر کے مطابق مسجد بنانے کی اجازت کیوں کر دی جاسکتی ہے ؟ اور وہ اپنے عبادت خانہ کو مسجد کانام کیونکر دے سکتے ہیں ؟

حضرت امام ابن کثیر﷫ اپنی شہر آفاق کتاب ’’تفسیر قرآن العظیم ‘‘ میں ﴿حَتّىٰ يُعطُوا الجِزيَةَ عَن يَدٍ وَهُم صاغِرونَکی تفسیر میں رقم فرماتے ہیں :

(وَهُم صاغِرونَ) أي : ذليلون حقيرون مهانون . فلهذا لا يجوز إعزاز أهل الذمة ولا رفعهم على المسلمين ، بل هم أذلاء صغرة أشقياء ، كما جاء في صحيح مسلم ، عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تبدءوا اليهود والنصارى بالسلام،وإذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه. (تفسیرابن کثیر :ج2ص347)

’’وھم صاغرون‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں (غیر مسلم مسیحیوں ، یہودیوں ، قادیانیوں ) کو خوب ذلیل و رسوا اور حقیر جانو! ان کو معزز جاننا شرعاً جائز نہیں ۔ اور نہ ان کومسلمانوں پر ترجیح دینا جائز ہے کہ کمینے اور بدنصیب لوگ ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ﷜ کی صحیح حدیث کے مطابق ان کو سلام کرنے میں بہل کرنی بھی جائز نہیں بلکہ ان کو تنگ راستہ سے گزرنے پر مجبور کرنا چاہیے ۔

وھم صاغرون ایسا فصیح و بلیغ اور جامع جملہ ہے گویا کوزے میں دریا بند کامصداق ہے ۔ یہ جملہ کیا ہے گویا ذمے لوگوں یعنی غیر مسلم رعیت اور اقلیتوں کےلئے ایک ایسی قانونی دستاویز ہے جس میں ان کی عبادت اور پوجا پاٹ کی حدود اور اس کا طریقہ کار ، مذہبی آزادی اور اس کی تبلیغ کا دائرہ کار ، عبادت خانوں کے نام ، ان کی تعمیر و تجدید  کے احکام ، مذہبی  تہوار ، قربانی ، لباس ، خوشی اور غمی کےاظہار کی تمام حدود متعین کر دی گئی ہیں ۔ اس دستاویز کی پوری پوری تفصیل آج بھی ان معاہدات میں موجود ہے جو خلفائے راشدین کے مثالی دور میں ان کے اعمال اور سپہ سالاروں کے تحت اس دور کی غیر مسلم اقلیتوں ، یہودو نصاریٰ اور مجوسیوں اور کفار سے طے پائے تھے ۔ ان معاہدوں کی روشنی میں ہمارے قابل فخر فقہاء ، محدثین ، مفسرین ، ائمہ مجتہدین اور اسلامی قوانین کے غواص علمائے اسلام نے درج ذیل قوانین مستنبط فرمائے ہیں ۔ ولهذا اشترط عليهم أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضي الله عنه تلك الشروط المعروفة في إذلالهم وتصغيرهم وتحقيرهم ، وذلك مما رواه الأئمة الحفاظ ، من رواية عبد الرحمن بن غنم الأشعري قال : كتبت لعمر بن الخطاب  رضي الله عنه  حين صالح نصارى من أهل الشام :بسم الله الرحمن الرحيم ، هذا كتاب لعبد الله عمر أمير المؤمنين من نصارى مدينة كذا وكذا ، إنكم لما قدمتم علينا سألناكم الأمان لأنفسنا وذرارينا وأموالنا وأهل ملتنا وشرطنا لكم على أنفسنا ألا نحدث في مدينتنا ولا فيما حولها ديرا ولا كنيسة ، ولا قلاية ولا صومعة راهب ، ولا نجدد ما خرب منها ، ولا نحيي منها ما كان خطط المسلمين ، وألا نمنع كنائسنا أن ينزلها أحد من المسلمين في ليل ولا نهار ، وأن نوسع أبوابها للمارة وابن السبيل ، وأن ينزل من مر بنا من المسلمين ثلاثة أيام نطعمهم ، ولا نئوي في كنائسنا ولا منازلنا جاسوسا ، ولا نكتم غشا للمسلمين ، ولا نعلم أولادنا القرآن ، ولا نظهر شركا ، ولا ندعو إليه أحدا ؛ ولا نمنع أحدا من ذوي قرابتنا الدخول في الإسلام ۔( تفسیرابن کثیر ج2ص 355آیت 29سورۃ التوبہ)

اس آیت کی روشنی میں حضرت امیر المومنین عمر ﷜ سے ملک شام کے نصاریٰ نے اپنے لئے ، اپنی اولاد اور مال کے لیے امان طلب کرتے ہواپنے اوپر یہ شرطیں عائد کی تھیں ، جیسا کہ ائمہ حفاظ نے عبدالرحمن بن (کاتب عمر ﷜) کے حوالہ سے بیان فرمائی ہیں ، اور وہ یہ ہیں کہ آج کے بعد ہم اپنے شہر اور اس گردو نواح میں عبادت خانہ ، کنبیہ ،گرجے اور اھب کی جھونپڑی ازسر نوتعمیر میں کریں گے۔ اور خراب شدہ گرجوں کومرمت نہیں گریں گے ، اسی طرح وہ گرجے جو مسلم آبادی میں ہوں گے ان کو دوبارہ نہیں بنائیں گے ۔ ہم اپنا گرجا گھروں کو مسلمانوں کےلیے رات دن کھلا رکھیں گے۔ اسی طرح گزرنے والوں اور مسافروں کےلیے گرجاؤں کے دروازے وسیع یعنی کھلا رکھیں گے تاکہ ان میں آرام کر سکیں اور ہم مسلم مہمانوں کی تین دن تک مہمانی کریں گے، نہ ہم ان گرجا گھروں اور اپنے رہائشی گھروں میں کسی جاسوس کو ٹھہرائیں گے۔ مسلمانوں سے دھوکا نہیں کریں گے، نہ اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دیں گے ، ہم کھلےعام شرک نہیں کریں اور نہ کسی کوشرک کی دعوت دیں گے ، ہم کسی قرابتدار کو اسلام قبول کرنے سے نہیں روکیں گے اگر وہ حلقہ بگوش ہونے کا ارادہ کریں گے ، ہم مسلمانوں کی تعظیم کرتے رہیں گے ، ہم ان کو بٹھانے کےلیے اپنی جگہیں چھوڑ دیا کریں گے اگر وہ بیٹھنا چائیں گے ۔ ہم ان کا لباس ، ان کے جوتوں جیسے جوتے ، ان کی ٹوپیوں جیسی ٹوپیاں اور ان کے عماموں جیسے عمام نہیں پہنیں گے وغیرہ ۔ (تفسیر ابن کثیر ج2ص 347)

ذمی رعیت  نیا عبادت  خانہ تعمیر نہیں کر سکتی :

(1)قاضی ابو یوسف تصریح فرماتے ہیں :

ويمنعوا من ان يحدثوا بناء  بيعة او كنيسة فى المدينة الا ماكانوا صولحوا عليه وصارو ذمه وهى بيعة لهم او كنيسة فما كان كذلك تركت لهم ولم تهدم . (كتاب الخراج الابى يوسف ص27)

كہ ’’عیسائیوں نے نیا صومعہ اورگرجا تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہو گ۔ البتہ جو معاہدہ کے وقت گرجا موجود ہو گا اس کو گرایا نہ جائے گا ۔ وما احدث من بناء بيعة اقوه كنيسة فان ذالك بهدم (كتاب الخراج لابى يوسف ص159) نیا بیعہ او رکنیسہ گرا دیا جائے۔

(2) امام ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی 450ھ رقم فرماتے ہیں :

ولا يجوز ان يحدثوا فى دار السلام بيعة و لاكنيسة فان احدثوها هدمت عليهم . (الاحكام السلطانية ص146)

كہ ’’اہل ذمہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دار السلام میں نیا بیعہ یا کنیسہ تعمیر کریں ۔ اس کی ان کو شرعاً اجازت نہیں ۔ اگر وہ کوئی بیعہ یا کنیسہ تعمیر کریں گے تواس کو گرا دیا جائے گا۔‘‘

(3)امام ابو زکریا محی الدین یحیی بن شرف النووی شافعی۔ المتوفی 676ھ تصریح فرماتےہیں :

ويمنعون من إحداث الكنائس والبيع والصوامع في بلاد المسلمين لما روى عن ابن عباس رضي الله عنه أنه قال أيما مصر مصرته العرب فليس للعجم أن يبنوا فيه كنيسة.(شرح المہذب جلد19ص412)

’’مسلمانوں کےشہروں میں ذمیوں کو کنائس ، بیع اور صومعے بنانے کی اجازت نہیں کیونکہ ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس﷜ نے فرمایا کہ جس شہر کو نئے سرے سے مسلمان آباد کریں اس میں غیر مسلم اقلیتوں کو گرجا وغیرہ بنانے کا حق نہیں ۔‘‘

(4)قاضی ابویعلیٰ حنبلی المتوفیٰ 458ھ رقم فرماتے ہیں :

ولا يجوز ان يحدثوا فى دار السلام بيعة و كنيسة فان احدثوها هدمت عليهم . (الاحكام السلطانية ص146)

اس كا ترجمہ پہلے گزر چکا ہے ۔

لانحدث فى مدينتنا كنيسة ولا فيما حولها دیرا ولا قلایة ولا صومعة راهب ولانجدد ما خرب من كنائسنا ولا ماكان منها فى خطط المسلمين ولانمنع كنائسنا من المسلمين ان ينزلوها فى الليل والنهار وان نوسع ابوابها للمارة وابن السبيل ولا نؤدى فيها لاو في  منازلنا جاسوسا.(المغنی لابن قدامہ ج9ص282)

’’جزیرہ کے ذمیوں کے حضرت عبدالرحمن بن غنم ﷜ سے جومعاہدہ کیا تھااس میں ہی شرط بھی تھی کہ آج کے بعدہم اپنے شہر میں نہ تو کوئی کنیسہ تعمیر کریں گے اور نہ دیر ، نہ قلایہ اور نہ کسی راہب کےلیے صومعہ بنائیں گے۔

اوران میں سے جو گرجائے گا اس کو دوبارہ تعمیر نہیں کریں گے، اس طرح جو گرجا وغیرہ مسلم آبادی میں ہو گا اس کو بھی دوبارہ نہیں بنائیں گے ۔ ہم اپنے گرجاؤں کومسلمانوں کے لیے رات دن کھلے رکھیں گے اور اسی طرح گزرنے والوں اور مسافروں کےلیے ان کے دروازے وسیع رکھیں گے تاکہ وہ ان میں آرام کر سکیں ۔ نہ ہم ان گرجاؤں اور اپنے گھروں میں کسی جاسوس کو ٹھہرائیں گے۔ ‘‘

(6)امام ابن قیم فرماتے ہیں :

حضرت عمر فاروق ﷜ کے حامل حضرت عبدالرحمن بن غنم﷜سے جزیرہ کے عیسائیوں نے از خود جو معاہدہ کیا تھا اس میں یہ بھی تھا۔

أن شرطنا لك على أنفسنا: أن لا نحدث في مدينتنا كنيسة، ولا فيما حولها ديراً، ولا قلاّية (بناء كالدير)، ولا صومعة راهب، ولا نجدد ما خرب من كنائسنا.(حقوق اھل مدینہ ج2ص 659)

’’ہم اسلام کا غلبہ تسلیم کرتے ہوئے آپ کےلیے اپنی جانوں پر یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ ہم اپنے شہر میں کوئی نیا گرجا اور علاقہ میں عابدوں کی خانقاہوں تعمیر کریں گےاورنہ کسی راہب کی کٹیا کھڑی کریں گے۔ نیز ہم اپنے پرانے گرجاؤں کی مرمت بھی نہیں کریں گے۔‘‘ (تفسیر ابن  کثیر ج2ص 348)

ان ائمہ کرام اورماہرین قوانین اسلامی کی ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ عیسائیوں اوریہودیوں کو جب کہ وہ اہل کتاب بھی ہیں ۔ کسی مسلم ممالک میں نئے گرجے اورعبادت خانے تعمیر  کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا اور جوگر جائے اس کی تجدید بھی جائز نہیں جیسا کہ حضرت فاروق اعظم ﷜ نے فرمایا:

لما روى كثير بن مرة قال سمعت عمر بن الخطاب يقول : قال رسول الله ﷺ :لا تبنى الكنيسة فى دار السلام ولا يجدد ما خرب منها . (شرح المہذب ج19ص413)

کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دارالسلام میں گرجا وغیرہ بنانا جائز نہیں اور اسی طرح اگر پہلے کا بنا ہوا گرجا وغیرہ گر جائے تو اس کی تجدید بھی جائز نیہں ۔ جب اہل کتاب عیسائیوں اور یہودیوں کےلیے رسول اللہﷺ نے دار السلام میں گرجے اور صومعے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی حالانکہ وہ اہل کتاب ہیں تو پھر قادیانی مرتدوں اور کافروں کو دارالاسلام اور مسلمان ملک میں مسجد کے نام سے عبادت خانہ بنانے کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے ؟ اور وہ اپنے مذہبی مرکز کو مسجد کے نام سے کیونکر پکارسکتے ہیں ؟


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)