فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12236
کسی مقتول کی جائے قتل پر مصنوعی قبر بنا کے سجانا
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 31 May 2014 06:32 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت مسئلہ میں ایک منقول کے جائے قتل  پر یعنی جہاں قتل کیا گیا ہو ۔ ایک مصنوعی قبربنائی جائے پھر اس قبر پر جھنڈے پتھر ، جھاڑو اورتبرک کے لیے پانی کا تالاب بھی موجود ہو ، نیز اس قبر کے ساتھ ایک مسجد برائے عبادات الہی بنائی جائے تو کیا اس مسجد میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ اوراگر اس قبر کو ختم کیا جائے اور باقی اشیاء تبرک موجود ہوں تو پھر اس مسجد میں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

لیکن اگر قبر کو بھی ختم کیا جائے اور یہ باقی اشیاء تبرک کو بھی ختم کیا جائے ۔ جس کا کوئی نشان باقی نہ رہ جائے اور اس قبر والی جگہ کو بھی مسجد میں شامل کیا جائے کہ قبر کا کوئی نشان نہ رہے تو پھر نماز پڑھنا اس مسجد میں درست ہے یا نا درست ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح ہو کہ قبر اصلی یا مصنوعی اور نقلی وہ بہر حال قبر ہی معلوم ہوتی ہے خصوصاً جب اس پر جھنڈے ،پتھر ، جھاڑو اور پانی کے تالاب کا اہتمام موجود ہو تو دیکھنے والا اسے بظاہر قبر ہی تصور کرے گا اور قبر کے اوپر یا قبر کے پاس نماز پڑھنا ازروئے احادیث صحیحہ منع اور ناجائز ہے ۔ چنانچہ حضرت ابو مرثد غنوی ﷜ سے مروی ہے :

«قال قال رسول اللهﷺ لا تصلوا الى القبور ولا تجلسوا عليها »(رواه الجماعة الاالبخارى  و ابن ماجه نيل الاوطار ص150ج2)

يعنی ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو اور نہ اوپر بیٹھو۔ ‘‘

«عن ابى سعيد الخدرى رضى الله عنه ان النبىﷺ قال الارض كلها مسجد الا المقبرة والحمام» رواه الخمسة الا النسائى . ( نيل الاوطار ص148ج2)

یعنی’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین تمام کی تمام مسجد ہے مگر قبرستان اور حمام مسجد نہیں ہے ۔‘‘

اور قبروں کے پاس بیٹھ کر عبادت کرنا یہودیوں اور عیسائیوں کا طریقہ ہے جس سے سخت اندازہ میں ممانعت فرمائی گئی ہے :

«عن جندب بن عبد الله البجلى قال سمعت رسول اللهﷺ قبل ان يموت بخمس وهو يقول الا ان  من كان قبلكم كانوا يتخذون القبور مساجد انى انهاكم عن ذلك» (صحيح مسلم ص201ج1 و نيل الاوطار)

یعنی حضرت جندب بن عبداللہ بجلی کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہﷺ کی وفات سے پانچ روز پہلے سنا ، آپ ﷺ فرماتے تھے : اگلے لوگ اپنے انبیاء اور بزرگوں کی قبروں کو مسجد بناتے تھے ۔ خبر دار !تم قبروں کو مسجدیں نہ بنانا میں تمہیں اس کام سے منع کرتا ہوں ۔‘‘

ان تینوں صحیح احادیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان اور قبرستان کے پاس بنائی گئی مسجد میں نماز نہیں ہوتی ۔ اگر مصنوعی قبر کو اکھاڑ دیا جائے اور باقی خرافات کو قائم رکھا جائے تو پھر بھی اس مسجد میں نماز جائز نہ ہو گی ۔ کیونکہ یہ صورت ’’تھان‘‘ بن چکی ہے اور تھانوں میں عبادت منع ہے ۔ ہاں اگر اس مصنوعی قبر اور متعلقہ تمام خرافات یعنی جھنڈا ،جھاڑو اور نام نہاد تبرک کے تمام اثرات اکھاڑ دئیے جائیں اور مسجد کو باقی رکھا جائے تو پھر اس میں نماز بلاشبہ جائز ہو گی ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص134

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)