فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 12171
(142) مطلوبہ احادیث کی اسنادی حیثیت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 25 May 2014 04:24 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض اہل حدیث مصنفین حضرات نے درج ذیل احادیث کو اپنی تالیفات میں ذکر کیا ہے ان کی اسنا دی حیثیت کے متعلق وضاحت کریں۔

(۱)جس نے عیدین کی دونوں راتوں میں اخلاص اور حصول ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کی دل ،اس دن زندہ رہے گاجس دن دل مردہ ہوجائیں گے۔

(۲)جو پانچ راتوں میں عبادت کرےگا اس کےلئے جنت واجب ہوجائے گی۔ذوالحجہ کی آٹھویں ،نویں اور دسویں رات ،عید الفطر کی رات اور شعبان کی پندرھویں رات۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلی روایت موضوع ہے کیونکہ اس میں ایک راوی عمر بن ہارون البلخی ہے۔جس کے متعلق علامہ ذہبی ؒ لکھتے ہیں :‘‘ابن معین نے اسے کذاب کہا ہے اور محدثین کی ایک جماعت نے اسے متروک قرار دیا ہے۔’’(تلخیص الاعتدال،ص:۲۲۸،ج۳)

میزان الاعتدال میں اس کے متعلق ‘‘کذاب خبیث ’’ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔(میزان الاعتدال ،ص:۲۲۸ج۳)

علامہ البانی ؒ نے بھی اسے خود ساختہ اور بناوٹی بتایا ہے۔ (سلسلہ الاحادیث الضعیفہ ،ص:۱۱ج۲)

مذکورہ الفاظ سنن ابن ماجہ کے ہیں اس میں بقیع بن ولید نامی ایک راوی سخت مدلس ہے۔ محدثین کرام نے اس کی تدلیس سے اجتناب کرنے کی تلقین کی ہے۔علامہ ابن قیمؒ لکھتے ہیں :عید کی رات رسول اللہﷺ صبح تک سوئے  رہےاور آپ نے شب بیداری نہیں فرمائی ،عیدین  کی رات عباد ت کرنے کےمتعلق کوئی صحیح روایت مروی نہیں ہے۔ (زاد المعاد ،ص:۲۱۲،ج۱)

دوسری روایت کو علامہ منذری ؒ نے بیان کیا ہے۔ (الترغیب والترتیب:۱۵۲/۲)

علامہ منذریؒ نے اس کے موضوع یا ضعیف کی طر ف بھی اشارہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے بصیغۂ تمریض بیان کیا ہے۔

بعض روایات میں پانچ راتوں کےبجائے چارراتوں کے الفاظ ہیں ،اس روایت میں عبدالرحیم بن زید العمی راوی کذاب ہے اور اس سے بیان کرنے ولا سوید بن سعید بھی سخت ضعیف ہے۔ علامہ البانیؒ نے اس روایت پر موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے۔(سلسلہ الاحادیث الضعیفہ،ص:۱۲،ج۱)

بعض روایات میں عید الفطر کی رات کو ‘‘لیلۃ الجائزہ’’ کےنام سے ذکر کیاگیا ہے۔ اسے ابن حبان نے اپنی تالیف کتاب الثواب میں نقل کیا ہے حافظ منذری ؒ نے بھی اس کا حوالہ دیا ہے یہ ایک طویل حدیث ہے جس کے الفاظ ہی اس کے موضوع ہونے پر دلالت کرتے ہیں ۔ حافظ منذریؒ  نے بھی اس طرف اشارہ فرمایا ہے۔ (الترغیب ،ص:۱۰۰،ج۱)

بہرحال ہمارے ہاں بعض بزرگ ان راتوں میں عبادت کا خاص اہتمام کرتے ہیں جبکہ اس سلسلہ میں مروی احادیث قابل اعتماد نہیں ہیں ،جیسا کہ گزشتہ  سطور میں وضاحت کی گئی ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص173

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)