فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12034
(21) جشن میلاد اور محفل میلاد کی شرعی حیثیت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 May 2014 11:36 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محفل میلاد کی شرعی حیثیت واضح کریں،ہمارے ہاں اسے بڑے اہتمام  سے منایا جاتا ہے ،اشتہارات میں لکھا ہوتا ہے جشن میلاد مناؤ،گھر گھر سجاؤ ،آگیا ہے ہمارا تمہار انبی ﷺ َ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بلاشبہ ہمارے ہاں جشن میلاد بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے ۔کھانے پکانے کا خوب اہتمام ہوتا ہے،جگہ جگہ جلوس نکلتے ہیں۔ گلی کوچوں میں چراغاں ہوتا ہے۔ بھنگڑے اور دھمالیں ڈالی جاتی ہیں۔یقیناً یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ والہانہ عقیدت اور انتہائی محبت کے طورپر کیا جاتا ہے۔رسول اللہﷺ سے محبت کرنا ایمانی تقاضا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہمیں آپ سے کس قسم کی محبت کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔رسول اللہﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب ان اداؤں کو اپنائیں جو زندگی بھر آپ کا معمول رہیں اور آپ کے لائے ہوئے دین کےمطابق اپنے گردوپیش اور ماحول کو ڈھالیں۔محبت کا یہ معیار خود ساختہ ہےکہ سال میں صرف ایک دن رسول اللہﷺ کی ولادت کا جشن منالیں اور اپنی پوری زندگی آپ کی تعلیمات کے خلاف بسرکریں۔ رسول اللہﷺ کےجانثار صحابہ کرام ؓاور تابعین عظامؒ نے اس انداز سے جشن میلاد منانے کا اہتمام نہیں کیا، جیسا کہ ہمارے ہاں منایا جاتا ہے، اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ جشن میلاد کے سلسلہ میں ہمارے ہاں رائج معیار محبت مطلوب و مقصود نہیں ہے ،ا س سلسلہ میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔

*رسول اللہﷺ کی مدنی زندگی میں دس مرتبہ آپ کی ولادت باسعادت کا دن آیا  آپ نے اس قدر اہتمام کے ساتھ نہ خود منایا اور نہ ہی اپنے جانثار صحابہ کو منانے کا حکم دیا،بدعت کی تعریف یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں ایک چیز کا سبب موجود تھا لیکن آپ نے اس کا اہتمام نہیں کیا۔ البتہ بعد میں آنے والے اسے عبادت کے طورپر اہتمام سے سرانجام دیں۔ایسے کاموں کےمتعلق رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہےکہ‘‘جو شخص ہمارے دین میں کسی نئی چیز کو رواج دیتا ہے جس کاتعلق دین سے نہیں وہ مردود ہے۔’’ (صحیح بخاری،الصلح:۲۶۹۷)

*عہد رسالت ،عہد صحابہ اور عہد تابعین کے باعث خیروبرکت ہونے کی خود رسول اللہﷺ نے شہادت دی ہے آپ نے فرمایاہے:‘‘سب سےبہتر میرا عہد مبارک ہے،پھر اس کے بعد یعنی صحابہ ؓکا اور اس کے بعد تابعین عظام ؓ کا عہد اس کے بعد جھوٹ اور یاوہ گوئی عام ہوجائے گی۔’’(صحیح بخاری)عید میلاد خیروبرکت کے زمانہ سے بعد میں ایجاد ہوئی ہے، اس لئے بھی اس کی مشروعیت محل نظر ہے۔

*رسول اللہﷺ سوموار کا روزہ رکھا کرتے تھے جب آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:‘‘میں اس دن پیدا ہواہوں اور مجھے اس دن رسالت سے نوازا گیا ہے۔’’(صحیح مسلم ،الصیام :۲۷۴۷)

اگر یوم ولادت مسلمانوں کےلئے عید کا دن ہوتا تو اس دن روزہ رکھنے کی ممانعت ہوتی ۔کیونکہ عید کے دن روزہ رکھنا شرعاًمنع ہے اگر رسول اللہ ﷺ نے اپنا یوم ولادت منایا ہے تو اظہار تشکر کے طورپر اس دن کا روزہ رکھا ہے ،اس لئے مسلمانوں کو چاہیے کہ یوم ولادت کے دن عید منانے کے بجائے شکرانے کے طورپر ہر سوموار کا روزہ رکھیں۔

*رسول اللہﷺکی وفات کےمتعلق اکثر اہل علم اور اہل تاریخ حضرات کا قول ہے کہ ۱۲ ربیع الاول کو ہوئی ،پرانی جنتریوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تاریخ کو بارہ وفات کہا جاتاتھا۔اگر یہی تاریخ یوم ولادت کی بھی ہو،جیسا کہ باور کرایا جاتا ہے تو سوچنے کا مقام ہے۔رسول اللہﷺ کی وفات کے دن ‘‘جشن’’منانا صحیح ہے؟اس کے علاوہ محققین علما نے ۹ربیع الاول کو رسول اللہ ﷺ کی ولاد ت کا دن قرار دیا ہے اس پہلو سے بھی جشن میلاد پرغور کیا جاسکتا ہے۔

*اسلام نے ہمیں قومی تہوا ر کے طورپر دوعیدیں منانے کا حکم دیا ہے،ان میں نماز پڑھنے اور تکبیر وتحلیل کہنے کا حکم دیا ہے،شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے خوشی منانے کی اجازت دی ہے،لیکن تیسری عید ‘‘جشن میلاد’’کی پیوند کاری کو کسی صورت میں صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا۔

*خوشی یا جشن منانے کا یہ انداز سراسر غیر اسلامی ہے۔خوشی کےموقع پر جلوس نکالنا ،چراغان کرنا،دھمالیں ڈالنا ،باجے بجانا اور گیتوں کے انداز میں نعتیہ کلام پیش کرنا دین اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ اس انداز سے اپنے اکابر کا دن منانا کفار کی نقالی اور یہود ونصاریٰ سے مشابہت ہے اور ہمیں کفار و یہود کی مشابہت اختیار کرنے سےمنع کیا گیا ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ ‘‘جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے۔’’(مسند امام احمد،ص:۹۲ج۲)

بہرحال عید میلاد کو جس اعتبار سے بھی دیکھا جائے اس کی شرعی حیثیت محل نظر ہے۔رسول اللہﷺ سےمحبت کے نام پر عقیدت کا ایسا مظاہرہ ہے جس کی تائید قرآن پاک ،حدیث اور تعامل امت سے نہیں ہوتی ،صحابہ تابعین سے بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص66

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)