فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12032
(20) خلیفۂ برحق کی علامات و شناخت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 May 2014 11:29 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل ایک ایسے گروہ نے جنم لیا ہے جو اپنے ہاں ایک خود ساختہ خلیفہ سے بیعت کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ آپ سےاستدعا ہے کہ خلیفہ برحق کی علامتیں اور شناخت سے آگاہ فرمائیں ،نیز بتائیں کہ اس کا تعین کیونکر ممکن ہوسکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرعی خلیفہ کے لئے مندرجہ ذیل علامتوں کا ہونا ضروری ہے:

(۱)دوہ قریشی ہو بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ اقامت دین کے لئے سرگرم عمل ہو۔

(۲)جسمانی اور علمی طورپر انتہائی مضبوط ہو۔

(۳)اللہ تعالیٰ کی حدود کو عملاًنافذ کرنے کی اپنے اندر ہمت رکھتا ہو۔

(۴)امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ ادا کرنے میں بااختیار ہو۔

(۵)امت مسلمہ نے اسے اپنے ہاں شرف قبولیت سے نوازا ہو،یعنی وہ خود ساختہ نہ ہو۔

ایسا نہیں کہ کسی غیر ملک میں بیٹھ کر وہ سیاسی پناہ لے لے اور وہاں اپنی خلافت کا دعویٰ کردے اور اپنے قریشی ہونے کا اعلان کرکے دیگر ممالک میں حصول بیعت کےلئے اپنے نمائندگان مقرر کردے تا کہ بغاوت کی فضا سازگار کی جائے اور اس کے مقرر کردہ نمایندے شہر اور دیہاتوں میں پھیل جائیں اور خود ساختہ خلیفہ کی بیعت لیتے پھریں ۔ہمارے نزدیک یہ کھلی بغاوت ہے جس کی شریعت ہمیں اجازت نہیں دیتی ۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کا سختی سے نوٹس لے،ایسا کرنا رسول اللہﷺ کے منہج اور طریقہ ٔکار کے خلاف ہے۔پرفتن حالات میں زندگی بسر کرنے کے لئے ہمیں رسول اللہﷺ کی تعلیمات سے راہنمائی ملتی ہے،چنانچہ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ‘‘ایسے حالات میں مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے چمٹے رہنا چاہیے۔’’حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کی جماعت اور ان کا امام نہ ہوتو کیا کیا جائے؟ آپ نے فرمایا:‘‘ایسے حالات میں تمام فرقوں سے الگ رہنا ،خواہ تمہیں جنگل میں درختوں کی جڑیں چبا کرہی گزر اوقات کرنا پڑے تاآنکہ تمہیں اسی حالت میں موت آجائے۔’’ (صحیح بخاری،کتاب الفتن ،حدیث نمبر:۷۰۸۴)

حدیث میں ہے کہ جب عبداللہ بن زیاد اور مروان بن حکم نے شام میں ،حضرت عبداللہ بن زبیز ؓ نے مکہ مکرمہ میں اور خوارج نے بصرہ میں اپنی اپنی حکومتوں کا اعلا ن کیا تو ابوالمنہال اپنے باپ کے ہمراہ حضرت ابو برزہ اسلمیؓ کے پاس گئے،میرے باپ نے ان سے عرض کیا:

اے ابوبرزہ ؓ !آپ نہیں دیکھتے کہ لوگ کس قسم کے اختلاف میں الجھے ہوئے ہیں،ایسے حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

آپ نے فرمایا:میں قریش کےلوگوں سے ناراض ہوں اور میری ناراضی اللہ کی رضا کےلئے اور مجھے اس ناراضی سے اجرملنے کی امید ہے۔

عرب کے لوگو!تم جانتے ہو تمہارا پہلے کیا حال تھا،تم سب گمراہی میں گرفتا ر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دین اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے ذریعے اس بری حالت سے نجات دی ،پھر تم مقام عزت پر فائز ہوگئے۔آج تمہیں اس دنیا نے خراب کردیا ہے یہ سب بزعم خویش خلفائے دنیا کےلئے آپس میں دست و گریبان ہیں اور ایک دوسرے سے قتال کررہےہیں۔(صحیح بخاری ،الفتن :۷۱۱۲)

ان احادیث سےمعلوم ہوا کہ آج ہمیں کتاب و سنت کے مطابق زندگی بسرکرنی چاہیے۔جب کبھی حالات سازگار ہوجائیں کہ کتاب و سنت کےعلمبردار باہمی اتحاد واتفاق سے کسی بااختیار خلیفہ پر متفق ہوجائیں تو اس کی بیعت کےلئے تحریک چلانا مناسب اور باعث اجروثواب ہے۔لیکن کسی خود ساختہ خلیفہ کےمتعلق ہمیں کوئی علم نہیں اور نہ ہی  کسی نےا سے دیکھا ہے، اس کی خلافت کے لئے بیعت لینا،فضا سازگار کرنا ،تحریک چلانا اور حکومت وقت کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہے جس کی شریعت ہمیں اجازت نہیں دیتی۔ (واللہ اعلم بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص64

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)