فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12026
(14) دجال اور اس کی حقیقت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 May 2014 11:04 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دجال کی حقیقت ہے؟کیا اس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے یا محض وہم اور خیال ہے،ہم نے سنا ہے کہ اس دجال سے ہرنبی نے خبر دار کیا ہے، اس کے متعلق وضاحت کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دجال ‘‘وجل’’ سے ماخوذ ہے ، اس کا معنی حقائق کا چھپانا اوردھوکہ دینا ہے اور دجال،مبالغے کا صیغہ ہے، اس کامطلب یہ ہے کہ اس سے بڑھ کو کوئی دھوکہ باز نہیں ہے ، یہ لوگوں کو سب سے زیادہ فریب دینے والا ہے، دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت تک برپا ہونے والے فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ دجال کا ہوگا،رسول اللہﷺ ہر نماز میں اس سے پناہ مانگتے تھے آپ اس طرح دعا کرتے:

‘‘اے اللہ ! میں تیری پناہ لیتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور تیری پناہ لیتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری  پناہ لیتا ہوں کانے دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ لیتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔’’(سنن ابن ماجہ،الدعاء:۳۸۴۰)

اس فتنے کا اندازہ اس امر سے لگایا جاتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کررسول اللہﷺ تک آنے والے ہر نبی نے اپنی قوم کو اس دجال سے خبردار کیا ہے۔ کیونکہ یہ بہت ہولناک فتنہ ہے، اس دجال اکبر سے پہلے چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے جو اس دجال اکبر کے لیے زمین ہموار کریں گے اور فضا کو سازگار کریں گے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:‘‘اگر دجال اکبر میری موجودگی میں برآمد ہوا تو تمہارے بجائے میں خود اس سے نمٹ لوں گا اور اگر میری عدم موجودگی میں آیا تو پھر ہر آدمی اپنی طرف سے خود اس کا مقابلہ کرے گا اور ہر مسلمان پر میری طرف سے اللہ نگہبان ہے۔’’ (صحیح مسلم ،الفتن:۲۹۳۷)

دجال اکبر کو حضرت عیسٰی علیہ السلام قتل کریں گے اور وہ خود عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر اس طرح پگھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں حل ہوجاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی کا وقت ایک ہے۔دجال اکبر بھی دونوں حضرات کی موجودگی میں برآمد ہوگا،دجال چالیس دن اس زمین میں اپنی فتنہ انگیزی کرے گا،روئے زمین کا ان چالیس دنوں میں چکر لگائے گا،اس کے ہاتھوں متعدد خرق عادت چیزوں کا ظہور ہوگا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی خصوصیت ہے کہ وہ ان مقامات میں نہیں جاسکے گا۔ مدینہ کے باہر ڈیرہ لگائے گا،پھر اہل مدینہ میں سے بے شمار منافقین اس کے ساتھ شامل ہوجائیں گے،ایران کے شہر اصفہان کے ستر ہزار یہودی بھی اس کے ساتھ شامل ہوں گے۔بہرحال بڑی تیزی کے ساتھ دجال اکبر کے برآمد ہونے کےلیے زمین ہموار رہی ہے،بس ہمیں اپنے اللہ کی پناہ میں رہنا چاہیے اور اس کا ظہور ایک حقیقت ہے، اسے وہم یا خیال سمجھ کر نظر انداز کرنا عقل مندی نہیں ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص56

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)