فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 12024
(12) اسباب اختیار کے متعلق شرعاً حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 May 2014 10:58 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم لوگ عام طورپر اسباب اختیار کرنے کو توکل کے منافی خیال کرتے ہیں، کیا ایسا ذہن رکھنا صحیح ہے،اسباب اختیار کرنے کے متعلق شرعاًکیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مصائب  وآلام کے وقت ایک مؤمن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دل کو صرف اللہ کے ساتھ وابستہ رکھے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ‘‘تمام امور اسی کی طرف لوٹائے جاتےہیں،لہٰذا تم ا س کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔’’ (۱۱/ہود:۱۲۳)

اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ نے تلقین کی ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں۔’’(۳/آل عمران:۱۶۰)

جو انسان مشکلات کے وقت اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کےلیے کافی ہوگاارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘اورجو شخص اللہ تعالیٰ پربھروسہ رکھے گا تو وہ اسے کافی ہوگایقیناًاللہ تعالیٰ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے،ا للہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک انداز مقرر فرمایا ہے۔’’(۶۵/الطلاق:۳)

اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور حسن ظن رکھتے ہوئے ایسے اسباب کو اختیار کیا جائے جنہیں اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔جیسا کہ جب مشرکین نے اہل مدینہ پر چڑھائی کی تھی تو رسول اللہﷺ نے مدینہ اور اہل مدینہ کی حفاظت کےلیے شہر  کے اردگرد خند ق کھودی تھی لیکن اسباب اختیار کرنے کی چند اقسام ہیں:

*ایسے اسباب اختیار کرنا جو بنیادی طورپر عقیدہ توحید کے منافی ہیں،مثلاً:ہم دیکھتے ہیں کہ قبروں کے پجاری مصیبت کے وقت اہل قبور سے مدد مانگتےہیں،ایسا کرنا شرک اکبر ہے،اور ایسے اسباب اختیار کرنے پر اللہ تعالیٰ نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے اور اسے جہنم کی وعید سنائی ہے۔

*سبب پر صرف اتنا ہی اعتماد کیا جائے کہ وہ صرف ایک سبب ہے،ایسے اسباب اختیار کرتے وقت بھی یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ یہ سبب بھی اللہ کی طرف سے ہے۔وہ چاہے تو اسے باقی رکھے اگر چاہے تو اس کی تاثیر ختم کردے ،ایسے اسباب اختیار کرنا عقیدہ توحید یا توکل کے خلاف نہیں ہیں۔

بہرحال بیماری اور مصیبت کے وقت شرعی اسباب اختیار کرنے کے باوجود انسان کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر ان اسباب پر انحصار نہ کرے بلکہ انحصار صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو کیونکہ اسباب و ذرائع کا اختیار کرنا رسول اللہﷺ سے ثابت ہے،جبکہ آپ کا حقیقی انحصار صرف اللہ پر ہوتا تھا،ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ کے اسوۂ مبارکہ کو عمل میں لانا چاہیے، اسباب سے قطع نظر کرکے ہاتھ پاؤں باندھ کر بیٹھ جانا شریعت کے منافی ہےاور اسباب پر کلی انحصار بھی دین اسلام کے خلاف ہے۔شریعت کے دائرہ میں رہتےہوئے اسباب اور ذرائع اختیار کیے جائیں لیکن آخری بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات پرہوناچاہیے کہ وہی اسباب میں تاثیر پیدا کرنے پر قادر ہے اگر چاہے تو ان اسباب سے تاثیر سلب کردے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص54

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)