فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11977
(78) سابقہ لوگوں کے اقوال کے بالمعنی ہیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 May 2014 02:15 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن کریم میں  مکالمہ کے انداز میں گفتگو ہوئی ہے تو کیا اس میں انسان کا کلام لفظ اورمعنی دونوں  اعتبار سے وارد ہےیا معنی انسان کے کلام کے اور الفاظ  اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے  ہوتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مجھےبظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےسابقہ امتوں کے حالات  بیان کرتے ہوئے جو مکالمات ذکر کیے ہیں ان میں الفاظ میں  اللہ تعالیٰ کے ہیں کیونکہ یہ قرآن واضح  عربی زبان میں نازل ہوا ہےاور یہ معلوم ہےکہ اللہ تعالی نے جن  لوگوں کے  اقوال بیان فرمائے ہیں ان کی زبان عربی نہیں  تھی بلکہ وہ لوگ دوسری زبانیں بولتے تھے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے اقوال کو عربی زبان میں  بیان فرمایا ہےتو یہ اس بات کی دلیل ہےکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اقوال کو بالمعنی بیان کیا ہے ان کے اقوال کو انہی کے  اپنے لفظوں میں بیان نہیں فرمایا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص77

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)