فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11968
(74) اگلے اور پچھلے لوگ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 May 2014 01:55 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آیت کریمہ:

﴿ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلينَ ﴿٣٩ وَثُلَّةٌ مِنَ الءاخِر‌ينَ ﴿٤٠﴾... سورةالواقعة

’’جم غفیر ہے اگلوں میں سے - اور بہت بڑی جماعت ہے پچھلوں میں سے ۔‘‘

میں سےاگلے اور پچھلے لوگوں سے مراد کون لوگ ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بعض علماء کاخیال یہ ہے کہ اگلے اورپچھلے لوگوں سے مراد اس امت کےلوگ ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ اگلے لوگوں سے مراد سابقہ امتوں کےلوگ ہیں پچھلے لوگوں سے مراد  امت محمدیہ کےلوگ ہیں بہرحال سابقہ امتوں کی تعداد کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ حدیث میں ہے:

«مَا أَنْتُمْ فِي سِوَاكُمْ مِنَ الْأُمَمِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ»

(صحيح  البخاري الرقاق باب الحشر ح:6428 وصحيح مسلم الايمان باب بيان كون هذه الامة نصف اهل الجنةحديث:221 والفظ له)

 ’’سابقوں امتوں کےمقابلہ میں تمہاری مثال ایسی  ہے جیسے سفید رنگ کے بیل کی کھال میں سیاہ بال ہوں‘‘

اس سب کچھ کے باوجود حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ امت تمام اہل جنت کی تعداد کےنصف یادوثلث کےبرابر ہوگی اوریہ خبر کثیر ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص75

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)