فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11960
(72) حیات طیبہ کے معنی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 May 2014 11:56 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

درج ذیل آیت کریمہ:

﴿مَن عَمِلَ صـٰلِحًا مِن ذَكَرٍ‌ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَلَنُحيِيَنَّهُ حَيو‌ٰةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجزِيَنَّهُم أَجرَ‌هُم بِأَحسَنِ ما كانوا يَعمَلونَ ﴿٩٧﴾... سورة النحل

’’ جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے ۔‘‘

اور رسول اللہﷺ کے حسب ذیل گرامی میں  کس طرح تطبیق ہوگی؟

«أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً؟ فَقَالَ: " الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ،»مسند احمد حدیث:1494

’’(نبی کریمﷺ سےپوچھا گیا کہ) لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے تو آپ نےفرمایا حضرت انبیاء کرام ﷤ کی اور پھر ان کی جو حضرات انبیاء کرام کے زیادہ قریب ہوں۔‘‘

نیز آپ نے فرمان ہے:

«فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِفَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ» مسند احمد حدیث:1494

’’ہر شخص کی اس کےدین مطابق آزمائش ہوتی ہے ‘‘ یعنی ایک طرح حیات کی بات کی گئی ہے اور دوسری طرف مومن کو زندگی میں  ابتلاء وآزمائش سےگزرنا پڑتا ہےتوان دونوں باتوں میں تطبیق کس  طرح ہوگی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جیساکہ بعض لوگ سمجھتے ہیں حیات طیبہ کے یہ معنی نہیں  کہ زندگی فقر مرض اور پریشان وغیرہ سے محفوظ ہو بلکہ حیات طیبہ کےمعنی یہ ہیں کہ انسان انبساط اور انشراح قلب وصدر کے ساتھ زندگی بسر کرے اور اللہ تعالیٰ کے قضاء وقدر کے فیصلوں سے  وہ راضی ہو۔ اگر دنیا میں اسے راحت میسر آئے تو اپنے رب کا شکر ادا کرنا اس کےلیے بہتر ہوگا اور اگر دنیا کی  زندگی میں کوئی آزمائش آئے تو صبر کرے اور یہ صبر کرنا بھی اس کےلیے بہتر ہوگا۔یہ ہے حیات طیبہ یعنی راحت قلب سےتعبیر ہے۔جہاں کثرت اموال  اور صحت  ابدان کاتعلق  ہے تو یہ چیزیں تو بسہ اوقات انسان کےلیے  شقاوت اور مشکلات  کا سبب بن حاتی ہیں تو اس صورت میں سائل نے جس آیت کریمہ اور دوحدیثوں کا حوالہ دیا   ہے ان میں کوئی تضاج نہیں ہے کہ بسا اوقات انسان کو ابتلاء وآزمائش کی سخت سے  سخت منزلوں سےبھی گزرناپڑتا ہے لیکن اس کا دل مطمئن ہوتا ہے وہ شرح صدر کےساتھ  اللہ تعالیٰ کے قضاء وقدر کےفیصلوں پر راضی ہوتا ہےکہ آزمائش اور امتحانات اس پر قطعا اثر انداز نہیں ہوتے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص74

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)