فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11958
(71) دیہاتی لوگ سخت کافر ہوتے ہیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 May 2014 11:49 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارا اوربعض دوستوں کاآیت کریمہ﴿الْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا﴾’’ دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں ‘‘ کے معنی میں اختلاف ہوگیا ہے تو  سوال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کے  حقیقی معنی کیا ہیں ؟ قرآن کریم نےدیہاتی لوگوں کو ایساکیوں کہا  ہے؟ یہ آیت کریمہ کس موقع پر نازل ہوئی تھی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اعراب (بدو) ان لوگوں کو کہتے ہیں جو بادیہ نشین ہوتے ہیں اور پانی  اور اپنے مویشیوں کےلیے چارہ کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری  جگہ نقل مکانی کرتے رہتے ہیں۔یہ مال مویشی ہی ان کے لیے ذریعہ معیشت ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ شہروں  اور بستیوں میں بہت کم  آتے ہیں۔ ان پرچونکہ جہالت کا غلبہ ہوتا ہے اس  لیے ان کے دلوں میں ایمان بہت کمزور ہوتا ہے‘ یہ شہر  والوں کی نسبت کفر اور نفاق کےاعتبار سےسخت ہوتے ہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا ہے:

﴿قالَتِ الأَعر‌ابُ ءامَنّا ۖ قُل لَم تُؤمِنوا وَلـٰكِن قولوا أَسلَمنا وَلَمّا يَدخُلِ الإيمـٰنُ فى قُلوبِكُم... ﴿١٤﴾... سورة الحجرات

’’ دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں لائے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام لا ئے (مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے) حالانکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔‘‘

 اس کےبعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں  یہ بتایا ہے:

﴿وَمِنَ الأَعر‌ابِ مَن يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ‌ وَيَتَّخِذُ ما يُنفِقُ قُرُ‌بـٰتٍ عِندَ اللَّهِ وَصَلَو‌ٰتِ الرَّ‌سولِ...﴿٩٩﴾... سورةالتوبة

’’ اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عنداللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں۔‘‘

یہ لوگ ان فانی شبہات اورشہوات سے دور ہوتےہیں جن شہروں اورقصبوں کےاکثر باشند مبتلا ہوتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص73

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)