فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 11941
(61) کیا اللہ اکبر‘‘ بسم اللہ سے کفایت کر سکتا ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 May 2014 10:31 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن کریم کے بعض قاری دوسورتوں کےدرمیان فرق کےلیے بسم اللہ پڑھنے کی بجائے اللہ اکبر پڑھتے ہیں کیا یہ جائز ہے اور اس مقام پر اللہ اکبر پڑھنےکی کیا دلیل ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ صحابہ کرام ﷢ کے عمل کے خلاف ہے کہ وہ تو سورتوں میں فرق کےلیے بسم اللہ الرحمن الرحیم  ہی پڑھا کرتے تھے۔یہ  اہل کے عمل کے برخلاف ہے لہذا قرآن مجید کی تما م سورتوں میں فرق  کے لیے  اللہ اکبر  نہ پڑھا جائے۔

اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ  یہ بات کہی جاسکتی ہےکہ بعض قراء نے اس بات کو مستحب قراردیا ہے کہ انسان سورۃ الضحیٰ  سے قرآن مجید کے آخر تک ہر سورت کے بعد اللہ اکبر پڑھے مگر دوسورتوں میں فصل کے لیے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بھی ضرور پڑھاجائے لیکن  صحیح بات یہ ہے کہ یہ سنت نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺسےثابت نہیں ہےلہذامشروع یہی ہے کہ ہم دو سورتوں میں فرق کےلیے بسم اللہ  الرحمن  الرحیم پڑھیں۔ البتہ سورۂ براءۃ کےشروع میں نہ پڑھیں کیونکہ سورۂ الانفال اورسورۃ براءۃ کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص59

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)