فتاویٰ جات: تدبر قرآن
فتویٰ نمبر : 11911
(45) قراءت قرآن سے مقصود تدبر اور عمل ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 20 May 2014 04:21 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

: ایک شخص الحمداللہ قرآن مجید کی قراءت اچھے طریقے سے کرسکتا ہے تو کیا اس کےلیے قرآن مجید سے دیکھ کر کثرت یے تلاوت کرنا  افضل ہے یاکیسٹ سےکسی قاری کی تلاوت  سننا افضل ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

افضل یہ ہے کہ آدمی  وہ عمل کرے جس سے  دل کی زیادتی اصلاح  ہو او ردل زیادہ متاثر ہو خواہ تلاوت کرنے  سے ہویا تلاوت  سننے سے ۔کیوںکہ قرءت سے مقصود تدبر معنی ومفہوم  کو سمحھنا اور کتاب اللہ کے مطابق  عمل کرنا جیسا کہ اللہ تعالی نےفرمایا ہے:

﴿كِتـٰبٌ أَنزَلنـٰهُ إِلَيكَ مُبـٰرَ‌كٌ لِيَدَّبَّر‌وا ءايـٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ‌ أُولُوا الأَلبـٰبِ ﴿٢٩﴾... سورة ص

’’ یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں‘‘

اور فرمایا:

﴿إِنَّ هـٰذَا القُر‌ءانَ يَهدى لِلَّتى هِىَ أَقوَمُ وَيُبَشِّرُ‌ المُؤمِنينَ الَّذينَ يَعمَلونَ الصّـٰلِحـٰتِ أَنَّ لَهُم أَجرً‌ا كَبيرً‌ا ﴿٩﴾... سورة الإسراء

’’ یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے‘‘

اور فرمایا:

﴿قُل هُوَ لِلَّذينَ ءامَنوا هُدًى وَشِفاءٌ...﴿٤٤﴾... سورة فصلت

’’  آپ کہہ دیجئے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص47

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)