فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11847
(547) مختلف مسائل
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 May 2014 03:33 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک خا تو ن  (خر یدا ری نمبر 3479) نے متعدد سوالا ت  روا نہ کیے ہیں  حس ب ترتیب  سوالات  مع جوا با ت  مند ر جہ ذیل ہیں ۔

(1)رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   مو ت  کی خبر  سنانے  سے منع کر تے تھے  کیا فو تید  گی  کا اعلا ن  کر نا درست  ہے ؟

(2)اگر عورت کے چہر ے پر مو نچھیں  اگ  آئیں  تو کیا انہیں  صا ف کیا جا سکتا ہے ؟

(3)کیا بچو ں  یا بڑو ں  کو بر ھنہ دیکھنے  سے وضو  ٹو ٹ  جا تا ہے ؟

(4)عشا ء کی نماز کے بعد دو نفل  ادا کیے  جا سکتے ہیں ؟

(5)اگر زکو ۃ  کی مدت  رمضا ن  سے پہلے  پو ری  ہو جا ئے  تو کیا اسے رمضان  میں ادا کر نے  کے لیے  رو کا  جا سکتا ہے  تا کہ ثوا ب  زیا دہ ہو ؟

(6)سوال  درج کر نے سے حیا ما نع ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جوا با ت  با لتر تیب  در ج  ذیل  ہیں ۔

(1)دور جا ہلیت  میں روا ج تھا کہ جب  کو ئی مر جا تا تو اس کے فضا ئل  و منا قب  بیا ن کر تے  ہو گلی  کو چو ں  میں ڈھنڈورا  پیٹا جا تا  تھا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس قسم کے اعلا نا ت سے منع فر ما یا ہے ۔(مسند امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ :ج 5ص 406)

البتہ مسجد  میں سا دگی  کے سا تھ  فو تید گی  کی اطلا ع  اور نما ز جنا زہ  کا اعلا ن  کیا جا سکتا  ہے جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حبشہ کے  سر برا ہ  حضرت  نجاشی   رضی اللہ  تعالیٰ عنہ   کے فو ت  ہو نے  کی اطلا ع  اور اس کے جنا زہ  کا اعلا ن  فر ما یا  تھا  (مسند امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ ج 2ص241)

(2)مر دوزن  کے با ل  تین طرح  کے ہو تے  ہیں ۔

(1)جن کے زا ئل  کر نے سے شر یعت  نے منع  فر ما یا  ہے  مثلاًمر د  کی داڑھی  اور مرد وزن  کے ابرؤؤں  کے با ل  انہیں  زا ئل  کر نا حرا م  اور نا جا ئز  ہے ۔

(2)جن زا ئل  کر نا  شریعت میں  مطلو ب  وپسندیدہ  ہے مثلاً مردوز ن  کے مو ئے  بغل  وز یر  نا ف  اور مرد  کی مو نچھیں  وغیرہ  شر یعت  نے  حکم  دیا ہے  کہ انہیں زائل کیا جا ئے ۔

(3)جن زا ئل  یا با قی  رکھنے  کے متعلق  شر یعت  نے سکو ت  اختیا ر  فر ما یا  ہے مثلاً عورت  کی دا ڑھی  اور اس کی مو نچھیں  وغیرہ  ان کے متعلق  شریعت  نے کو ئی حکم نہیں  دیا ہے  بلکہ  انسا ن  کے اپنے  ارادہ  اختیا ر  پر موقو ف  رکھا  ہے ایسی  چیزوں  کے متعلق  شریعت  کا قا عد ہ ہے  کہ وہ قا بل  معا فی ہیں  ان کا عمل  میں  لا  نا  نہ لا نا  دو نوں  برا بر  ہیں ۔(ابو داؤد  : الا طعمۃ 3800)

اب ان  کے متعلق  وجہ  تر جیح  تلا ش  کر نا  ہو گی  وہ یہ  ہے کہ عورت  کو داڑھی  اور مو نچھوں  کے با ل  اس قدرتی  نسوا نی  حسن  میں با عث  رکاوٹ  ہیں  پھر عورت  کی خلقتاور جبلت  کے بھی خلا ف  ہیں لہذا  ان زا ئد با لو ں  کا زا ئل کر نا  ہی شر یعت  میں مطلو ب ہے ۔(واللہ اعلم )

(4)شریعت  نے نو اقض  وضو کی تعیین  کر دی  ہے کسی  کو بر ھنہ  دیکھنا  نواقض  وضو  سے نہیں  ہے شر مگا ہ  کو ہا تھ  لگا نے سے وضو ٹو ٹ جا تا ہے  اس لیے جو خوا تین  مدت  رضا عت  کے بعد  بچو ں  کو نہلا تی  ہیں  اگر  ان کا ہاتھ  صا بن  وغیرہ استعمال  کر تے  وقت  ان کی شر مگا ہ  کو  لگ  جا ئے  تو انہیں  نما ز کے لیے  نیا  وضو  کر نا  ہو گا ۔

(5)عشاء کی نما ز کے بعد  دو سنت  پڑھنے  کا احا دیث  میں ذکر  آیا ہے  دو نفل  ادا کر نے  کی صرا حت  کسی حدیث  مین  نہیں  ہے وہا ں وتر کے  بعد  دو رکعت  ادا کر نے کا حکم اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا عمل  مبا ر ک  ملتا ہے  وہ بھی  ہمیں  کھڑے  ہو کر  ادا کر نے  چا ہئیں  انہیں  بیٹھ  کر ادا کر نا   سنت  نہیں ہے  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے انہیں  بیٹھ  کر ادا کر نا  آپ  کا خا صہ  ہے  اس کی تفصیل  گزشتہ  کسی فتویٰ  میں دیکھی  جا سکتی ہے ۔

(6)اگر ما ل نصا ب  زکو ۃ کو پہنچ جا ئے  اور  وہ ضروریا ت  سے فا ضل ہو اور  اس پر سا ل گز ر جا ئے  تو اس میں زکو ۃ  واجب  ہے  اگر  کو ئی  زکو ۃ  کا مستحق  ضرورت  مند  ہے تو  فو راً ادا کر دینا  چا ہیے  امید  ہے کہ ثوا ب  میں کمی  نہیں آئے  گی  ہاں  اگر  کو ئی  ضرورت  مند  وقتی  طو ر  پر  سا منے  نہیں  ہے تو ثوا ب  مین اضا فہ  کے پیش نظر  اسے  رمضا ن  تک مؤ خر  کر نے  میں  کو ئی  حر ج  نہیں  ہے  تا ہم  بہتر  ہے کہ جب  بھی زکو ۃ  وا جب  ہو فو راً اس سے  عہدہ  برآہو جا ئے  کیو ں  کہ زند گی  اور مو ت  کے متعلق  کسی  کو علم  نہیں  وہ اللہ  کے اختیا ر  میں ہے  اگر  زکو ۃ  دئیے  بغیر  اللہ  کا پیغا م   اجل  آگیا  تو  اخرو ی  با ز پر س  کا اند یشہ  ہے ۔

خا و ند کو فطر ت  و شر یعت  کے دا ئرہ  میں رہتے  ہو ئے  اپنی  بیو ی  سے  تمتع  کر نے  کی اجا زت  ہے سوال  میں ذکر  کر دہ صورت  اگر چہ  شر یعت  کے خلاف  نہیں ہم  فطرت  سے متصا دم  ضرور ہے ۔(واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص494

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)