فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11833
(533) لونڈی اور غلام کی حدود و قیود
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 May 2014 01:33 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ملتان سےامان اللہ خا ن  در یا فت  کر تے ہیں  کہ اسلا م  میں لونڈی  اور غلا م  رکھنے  کی کیا  حیثیت  ہے  اور اس  کی  حدود  و قبو ر  اور شرائط  کیا ہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دین اسلا م میں کئی طریقوں سے غلا موں  اور لو نڈیوں کو آزاد  کرنے کی تر غیب دی گئی  ہے جس کے نتیجہ  میں آج کل  لو نڈی  سسٹم  تقریباً نا پیدا  ہے لہذا  اس کے متعلق  سوالا ت  ذہنی  مفروضہ  تو ہو سکتا ہے  البتہ  ضروریا ت  زند گی  کے سا تھ  اس کا کو ئی  تعلق  نہیں  ہے مسئلہ  کی وضاحت  با یں طو ر ہے  کہ غیر  مسلم اقوام  کے سا تھ جنگ  کے مو قع  پر جو مرد  عورتیں  مسلما  نوں  کے ہا تھ  آئیں  انہیں شر عاً  غلا م  اور لو نڈی کہا جاتا ہے  ان کے متعلق  اسلا می  قا نو ن  یہ ہے کہ تمام اسیر ان  جنگ  کو حکومت  وقت  کے حو الہ  کر دیا  جا ئے  کسی سپا ہی  یا فو جی  کو حکو مت  کی پیشگی  اجا زت  کے بغیر  ان میں تصرف کر نے  کا اختیا ر  نہیں ہے البتہ  حکومت  ان کے متعلق  در ج  ذیل  اقدا ما ت  میں  سے کو ئی  ایک منا سب  اقدا م  کر سکتی  ہے  (1)ان پر احسا ن  کر تے  روا  داری  کے طور پر انہیں بلا معا وضہ  رہا  کر دیا جا ئے ۔

(2)ان سے  فی  کس  مقررہ شرح  کے مطا بق  فد یہ لے کر انہیں چھو ڑ دیا جا ئے ۔

(3)جو مسلما ن  قیدی  دشمن  کے ہا تھ  میں ہو ں  ان سے تبا دلہ  کر لیا  جا ئے  اس مؤخرالذ  کر صورت   میں گر فتا ر  شدہ عورتوں  سے جنسی  تعلقا ت  قائم  کر نے  کے متعلق  ہما رے  ذہنوں  میں بے شما ر  خد شا ت  ہیں انہیں  دور کرنے  کے لیے  اسلام  کے مند ر جہ ذیل اصول و ضو ابط  کو پیش نظر  رکھا  جائے

(1)حکو مت  وقت  کی طرف سے  کسی سپا ہی کو لو نڈی  کے متعلق  حقو ق  ملکیت  مل  جا نا ہی اس کا نکا ح  ہے یہ  ایسا  ہی  ہے جیسے  با پ اپنی  بیٹی  کا عقد کسی دوسرے  شخص سے کر دیتا ہے  جس طرح با پ  نکا ح  کے بعد  اپنی بیٹی  وا پس  لینے  کا مجا ز نہیں ہو تا  اسی طرح  حکو مت  کو بھی  کسی سپا ہی  کی ملکیت  میں دینے  کے بعد  وہ لو نڈی  وا پس  لینے  کا اختیا ر  نہیں ہے  اس بنا پر مسلمان  سپا ہی  بھی صرف  اسی عورت کے سا تھ صنفی تعلقا ت  قا ئم کر نے  کا مجا ز  ہے جو حکو مت  کی طرف سے ملی  ہو ۔

(2)جو عورت  جس  کے حصہ  میں آئے  صرف وہی  اس سے صنفی  تعلقا ت  قائم  کر سکتا ہے  کسی دو سرے  شخص  کو اسے ہا تھ لگا نے کی  اجا زت  نہیں ہاں  اگر حقیقی ما لک  کسی  کے  سا تھ اس کا نکا ح  کر دے  تو اس صورت مین دوسرے شخص کو حق  تمتع  حا صل ہو جا تا ہے لیکن  اس صورت میں اصل مالک  اس لو نڈی  سے دیگر  خد ما ت  تو لے  سکتا ہے  لیکن تمتع  کی اجا زت نہیں ہو گی ۔

(3)جس شخص کو کسی  لو نڈی  کے متعلق  حق ملا  ہے تو وہ  اس  وقت  صنفی  تعلقا ت  قا ئم کر سکے گا  جب اسے یقین ہو جا ئے گا  کہ وہ  حا ملہ  نہیں ہے  اس کا ضا بطہ  یہ ہے  کہ ایک  مر تبہ  ایا م  ما ہو اری  آنے  کا انتظا ر  کیا جا ئے  حمل کی صورت  میں وضع   حمل  تک انتظا ر  کر نا ہو گا ،نو ٹ ۔گھر یلو  خادمائیں  اور کا روبا ری  نو کر  چا کر غلا م اور لو نڈی  کے حکم سے خا ر ج ہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص483

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)