فتاویٰ جات: ایمانیات
فتویٰ نمبر : 117
تعویذات کے ذریعے تفریق ڈالنا
شروع از بتاریخ : 05 December 2011 01:59 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اکثر جاہل لوگ ایک دوسرے پر تعویذ کرتے ہیں۔کوئی میاں بیوی کے رشتے کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے کوئی کسی کو نقصان پہنچانے کی غرض سے تو کوئی کسی اور غلط مقصد کے لیے تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا جادو کا کوءی اثر بھی ہوتا ہے یا کہ نہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 اگرچہ جادو منتر، تعویذ وغیرہ سب کا اثر ہوجا تا ہے، جیسا کہ سیدنا موسیٰ﷤ پر اور اسی طرح ہمارے حبیب نبی کریمﷺ پر بھی جادو ہوا۔ لیکن یہ تاثیر جادو ٹونہ کرنے والے کے نہیں، بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے، یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی کے ہاتھ میں آلہ قتل ہو، لیکن اس کا اثر بھی اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا، مثلاً سیدنا ابرہیم﷤ نے سیدنا اسمٰعیل﷤ کی گردن پر چھری چلادی، اور اسی طرح سیدنا ابراہیم﷤ کو ان کی قوم نے آگ میں پھینک دیا، لیکن ان دونوں کی تاثیر اللہ نے ختم کر دی۔ فرمان باری ہے:

﴿ وما هم بضارين به من أحد إلا بإذن الله ﴾ ـــ سورة البقرة

کہ ’’وہ جادوگر جادو کے ساتھ کسی کو بھی اللہ کی اجازت کے بغیر نقصان نہیں پہنچا سکتے۔‘‘

اسی طرح موحدین پر جادو اور تعویذ وغیرہ کا اثر ہو سکتا ہے، لیکن اللہ کی اجازت سے ہی۔

اس سے بچنے کیلئے معوذتین اور دیگر احادیث مبارکہ میں موجود اذکار  کو اپنی عادت بنا لینا چاہئے، خاص طور پر نمازوں کے بعد۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)