فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 1163
(324) لفظ’کان‘ کا استعمال
شروع از بتاریخ : 06 June 2012 05:04 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

’کان‘ کا لفظ کی کسی کام کی ہمیشگی کے لیے استعمال ہوتاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

’کان‘ جب فعل مضارع پر داخل ہو تو ماضی استمراری کا معنی دیتا ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ:

«ان رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم کان يرفع يديه حذومنکبيه إذا فتتح الصلاة وإذا کبر لرکوع وإذا رفع راسه من الرکوع رفعهما کذلک» (صحیح بخاری)

’’بے شک رسول اللہ ﷺ جب بھی نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں مونڈھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تب بھی (ہاتھ اٹھاتے) اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے۔‘‘

امام زیلعی  حنفی نصب الرایہ میں لکھتے ہیں:

«عن علی أن النبی کان يتوضا ثلاثا ثلاثا إلا المسح فانه مرة مرة وهذا أصرح فی المقصود لأصحابنا فانه بلفظ کان، المقتضية للدوام»

علیؓ سے روایت ہے کہ بے شک نبیؐ وضو میں اعضاء کو تین تین دفعہ دھوتے مگر مسح ایک دفعہ کرتے تھے۔ او ریہ ہمارے اصحاب کے مقصود کو زیادہ واضح کرنے والی دلیل ہے ۔ حدیث میں لفظ ’’کان‘‘ ہمیشگی کے لیے ہے۔ (نصب الرایۃ:1؍31 دارنشرالکتاب الاسلامیہ شارع شیش محل لاہور)

اسی طرح مفتی احمد یار خان نعیمی ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس حدیث میں سیر و تفریح کے لیے صرف ذوالحلیفہ تک جانے کا ذکر نہیں ہےبلکہ یہاں حضورؐ کے حجۃ الوداع کا واقعہ بیان ہورہا ہے کہ سرکار بہ ارادہ حج مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر وقت عصر آگیا تو چونکہ آپ آگے جارہے تھے لہٰذا یہاں قصر فرمایا۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا صلی الظھر ایک بار یہ واقعہ ہوا کان يصلی نہ فرمایا جس سے معلوم ہوتا کہ آپ ہمیشہ ایسا کیاکرتے تھے۔‘‘ (جاء الحق :2؍547 نعیمی کتب خانہ غزنی سٹریٹ لاہور)

بلکہ کچھ لوگوں نے صرف مضارع کو ہمیشگی او ربار بار کے معنی دینے میں محمول بھی کیاہے۔ جیساکہ ڈاکٹر خلیل ابراہیم کی کتاب کا اُردو ترجمہ امتیازات مصطفیٰ کے نام سے مفتی محمد خان قادری صاحب نےکیاہے۔ اس میں نقل ہے:

﴿إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِيِّۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيۡهِ وَسَلِّمُواْ تَسۡلِيمًا﴾--الاحزاب 56

اس آیت مبارکہ میں يصلون، فعل مضارع کا صیغہ ہے جو کسی چیز کے بار بار اور مسلسل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ (امتیازات مصطفی: ص75 حجازپبلی کیشنز لاہور)

تاہم۔ بعض اوقات کان استمرار کے لیے نہیں بھی آتا اور اس وقت اس کا قرینہ موجود ہوتا ہے جیسے آپؐ کے متعلق ہے:

«کان رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم يصلی وهو حامل امامه بنت زينب فإذا سجدوضعها وإذا قام حملها»(صحيح بخاری:516)

’’رسول اللہﷺ نماز میں امامہ بنت زینب کو اٹھائے ہوئے تھے جب سجدہ کرتے تو اسے اتار دیتے جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے تو اس میں بچی کو اٹھانا ایک اتفاقی واقعہ ہے ناکہ نماز کے احکام کا کوئی معاملہ تو آپؐ نے انہیں اٹھا لیا۔

مذکورہ بالا دلائل سے معلوم ہوا کہ کان استمرار کے لیے آتا ہے اور بعض اوقات استمرار کے لیے نہیں بھی آتا لیکن وہاں قرینہ سے پتہ چلے گا کہ استمرار کے لیے ہے یا نہیں۔

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکے مسائل  


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)