فتاویٰ جات: مختلف الحدیث
فتویٰ نمبر : 1161
احادیث رسول ﷺ میں تعارض کا مسئلہ
شروع از بتاریخ : 06 June 2012 04:38 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا رسول اللہﷺ کی احادیث میں تضاد پایا جاتا ہے؟اور اس کا حل کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث: اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبیﷺ پر نازل ہونے والے وہ الہامات یا پیغامات ہیں جو انہوں نے امت تک پہچانے ہوتے ہیں۔ قرآن وحی متلو اور حدیث جو کہ قرآن کا ہی بیان اور وضاحت ہے وحی غیر متلو ہے۔ جبکہ ان کے حکم میں کچھ فرق نہیں۔ جب قرآن اور حدیث دونوں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے تو اس میں تضاد اور ٹکراؤ عبث ہے۔ اللہ کے رسولؐ کے اقوال و افعال جو کہ احادیث کی کتب میں درج ہیں۔ وہ سب کے سب ایک دوسرے سے متضاد نہیں ہیں۔ ہاں ظاہری طور پر اگر دو احادیث ایک دوسرے کے مخالف محسوس ہوتی ہوں تو یاان کی کوئی نہ کوئی توجیہہ اور تطبیق کی صورت موجود ہوتی ہے وگرنہ ایسا محال ہے کہ دو احادیث سنداً اورمتناً بالکل درست ہوں او رایک دوسرے کی ناسخ بھی نہ ہو تو وہ ٹکراؤ پیدا کرے۔ ذخیرہ احادیث میں کوئی بھی ایسی صحیح حدیث موجود نہیں جو ایک دوسرے سے ٹکراتی ہو او رعلما نے ایسی احادیث کہ جن میں بظاہر ٹکراؤ محسوس ہوتا ہے۔ ان میں تطبیق دی ہے۔ مستشرقین اور حدیث دشمن عناصر کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ اللہ کے رسولؐ کی باتوں میں تضاد ثابت کرکے انہیں مشکوک بنانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کے لیے ایک عظیم جماعت یعنی محدثین کو پیدا فرمایا جنہوں نے حدیث بارے ایسے اصول وضع کئے کہ صرف ہر دروغ گو کا قافیہ بند نہیں کیا بلکہ احادیث کو مشکوک ٹھہرانے کی وہ تمام کوششوں کو ہر دور میں ناکام بناتے رہے۔ بہرکیف اللہ کے رسولؐ کی کوئی بھی پایہ ثبوت کو پہنچنے والی حدیث ایک دوسرے سے نہیں ٹکراتی اگر ظاہری طور پر محسوس ہوتا ہے تو وہ ہماری عقل کی کوتاہی ہے ۔ ذرا غور او رمطالعہ کریں تو یہ کوتاہی ختم ہوسکتی ہے۔

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)