فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11609
(107) ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کہنا چاہیے
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 30 April 2014 06:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نوٹ گنتے وقت بسم اللہ پڑھنی جائز ہے ؟ اور احادیث میں بسم اللہ پڑھنی کہاں وارد ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ولا حول ولا قوةالا باللہ۔

نوٹ وغیرہ کے گنتے وقت بسم اللہ پڑھنی جائز بلکہ مستحب ہے۔ امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر (1/18) میں فرمایا ہے "انسان کا پاؤں پھسلتے وقت بسم اللہ پڑھنی مستحب ہے ، جیسے کہ امام احمد حدیث لائے ہیں کہ یہ مت کہو کہ شیطان نے پھسلا دیا جب تم نَعِسَ الشيطانُ کہو گے تو وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اور کہتا ہے "اپنی قوت سے میں نے اسے گرایا" اور جب تم بسم اللہ کہتے ہو تو مکھی جیسا ذلیل ہو جاتا ہے پھر فرمایا "یہ بسم اللہ کی برکت سے حاصل ہوا ہے" اس لیے ہر قول و عمل سے پہلے بسم اللہ کہنا مستحب ہے خطبہ کے شروع میں مستحب ہے کیونکہ حدیث میں آتا ہے "کوئی بھی کام جو بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکت ہوتا ہے" ، بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت بھی مستحب ہے۔ کیونکہ یہ حدیث میں وارد ہے اسی طرح وضوء کے شروع میں بھی کہا جائے گا۔ جیسے کہ حدیث میں ہے "جو اللہ کا نام ذکر نہ کرے اس کا کوئی وضوء نہیں۔" اور ذبح کرنے سے پہلے اور اسی طرح کھانے سے پہلے مستحب ہے اور ایک قول وجوب کا ہے اور وہ زیادہ صحیح ہے اور اسی طرح جماع کے وقت مستحب ہے اور اسی طرح دیگر مقامات پر۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص213

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)