فتاویٰ جات: ایلو پیتھی
فتویٰ نمبر : 11604
غیر مسلم ڈاکٹر سے علاج کرانا جائز ہے
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 30 April 2014 05:58 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کافر ڈاکٹر سے علاج کرانا جائز ہے۔ "الشیخ علیٰ جان"


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں جائز ہے لیکن مسلمان کو محتاط رہنا چاہیے کہ کہیں اسے نشے والی دوا پلانہ دے یا بلا ضرورت روزہ افطار نہ کرا دے اور اس کی دلیل وہ حدیث ہے جسے امام احمد نے (2/315۔371)،ابن ماجہ نے (2/1156)ابو داود نے(2/184)میں بروایت جابر نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو(اس کے علاج)کے لیے نبیؐ نے طبیب بھیجا جس نے اس کے بازو کی رگ پر داغ لگایا،اور مسنداحمد(1/42)میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے میرے پاس ایک طبیب میرے اس زخم کا معائنہ کرنے بھیجا ،وہ کہتےہیں کہ انہوں نے ایک عرب طبیب کو پیغام بھیجا تو اس نے عمر رضی اللہعنہ کو نبیذ پلایا اور نبیذ کو خون سے تشبیہ دی۔الحدیث۔

اور الدرالمختار(5/219)میں ہے"اور کافر کی بات اگرچہ مجوسی ہی کیوں نہ ہو معاملات میں قبول کی جائے گی۔دینی امور میں نہیں اور اس پر اجماع ہے۔تفصیل کے لیے مراجعہ کریں فتاوٰی شیخ الاسلام(4/114)۔

امام ابن قیمؒ نے بدائع الغوائد(2/208)میں کہا ہے:"نبیؐ کا بوقت ہجرت عبداللہ بن اریقط الدولی کو راستے کی رہنمائی کیلئے اجرت پر رکھنے سے یہ ثابت ہوا حالانکہ وہ کافر تھا کہ طب،سرمہ،ادویات،لکھائی،حساب وغیرہ میں کافر کو رجوع کرنا جائز ہےجب تک ایسا کوئی کام نہ ہوجس میں عدالت شرط ہو اور صرف کافر ہونے سے یہ لازم نہیں آیا کہ اس پر بالکل کسی چیز میں بھروسہ نہ کیا جائے،خاص کرہجرت کے وقت راہ دکھانےسےزیادہ خطرے والا اور کوئی کام نہیں ہو سکتا۔النھی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص209

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)