فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 116
مشرک کے ساتھ خریدوفروخت کرنا
شروع از بتاریخ : 05 December 2011 01:57 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک ایسا شخص جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے یا آدمی یہ بات جانتا ہو کہ اس کا عقیدہ شرکیہ ہے تو کیا اس سے کوئی چیز خریدی جا سکتی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جی ہاں خریدی جاسکتی ہے ۔کفارومشرکین کے ساتھ بیع وشراء کرنا حرام نہیں ہے بلکہ جائز ومباح  امرہے۔

اسکی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنی درع ایک یہودی کے ہاں گروی رکھ کر اپنے اہل بیت کے لیے کچھ راشن اس سے خریدا تھا۔یہ روایت صحیح بخاری سمیت متعدد کتب حدیث میں موجود ہے

دیکھیے صحیح بخاری ۲۰۶۹ ,جامع ترمذی ۱۲۱۵ ,نسائی ۴۶۱۰ , ابن ماجہ ۲۴۳۷

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)