فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 11599
(97) دائرہ اسلام میں داخل ہوتے وقت کونسے الفاظ کہنے چاہیئے؟
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 30 April 2014 05:42 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص مرتد ہونے کےبعد پھر مسلمان ہوا لیکن جب وہ " آمَنْتُ بِالله وَمَلا َ ئِکَتِه وَکُتُبِه وَرُسُلِه وَالْیَوْمِ الآ خِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِه" کہ رہا تھا تو "وَلَقَدْرَ خَیْرِه" کا تلفظ کیا" کیا اس کا اسلام صحیح ہے؟ المولوی حبیب اللہ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ولا حول ولا قوةالا باللہ۔

اس کا یہ کہنا واجب تھا كہ:

«" آَشھَدُ آَنْ لۤا اِلٰه الۤا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَه وَآَشْھَدُ آَنَۤ مُحمۤدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْ لُه»

اور اس پر "اٰمَنْتُ بِاللہِ "الخ۔کا تلفظ فرض نہیں تھا بلکہ اس پر فرض تھا کہ وہ اعتقاد رکھے اور ایمان لائے اللہ پر فرشتوں پر۔۔۔الخ۔

اور اسے اپنی مرضی کی بولی میں اقرار کرنا فرض ہے۔

کیونکہ ایمان عبارت ہے تصدیق،اور اقرار اور عمل سے۔ اور جو شخص یہ کلمہ (اٰمنت باللہ......الخ) کہے اور کا معنی نہ سمجھے تو مسلمان نہیں ہو سکتا۔اور یہ آمنت باللہ وملائکتہ وکتبہ......الخ۔

یہ کلمات اکٹھے کسی ایک حدیث میں وارد نہیں ہوئے بلکہ یہ کسی عالم نے عوام کو عقائد آسانی سے سمجھانے کے لیے وضع کیے ہیں تو ان کلمات کا حفظ لوگوں پر لازم نہ کیا جائے بلکہ وہ کچھ سمجھانا فرض ہے جس سے انسان مومن بنتا ہے جیسے کہ مسلمان ہونے والے شخص کے لیے رسولؐ کیا کرتے تھے،اوراس سے قبیح بات یہ ہے کہ بعض مبتدعین اٰمنت باللہ کا کلمہ ناکح کے لیے نکاح کے وقت لازم کرتے ہیں جبکہ وہ مسلمان ہوتا ہے۔

مراجعہ کریں فتاوی مولانا مفتی شفیع(1/69)انہوں نے بھی یہی بات کہی ہے کہ ان کلمات کا حفظ کرنا لازم نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص204

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)