فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11500
(80) الحوار التام فی مسئلۃ افشاء السلام
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 28 April 2014 06:20 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ رسالہ ہے جس کا میں نےنام رکھا ہے ’’الحوارالتام فی مسئلۃ افشاء السلام بین الأنام ‘‘ہم کہتے ہیں )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ولا حولا ولا قوة الاباللہ العلی العظیم ۔

مجھ سے بھائی محمد حسن کنری نے سلام عام کرنے کے بارے میں فتوی پوچھا تو میں نے دلائل کے ساتھ مختصر فتویٰ لکھا تو بھائی نے وہ فتویٰ کنرمیں منصف قضاء پر فائز ایک عالم پر پیش کیا،قاضی صاحب نے صرف ایک حدیث کا کمزور بلکہ احتمالی جواب دیا انہوں نے ان مذکورہ احادیث صحیحہ وصریحہ کے منسوح ہونے کا ہے دعوی کیا تھا حالانکہ نسخ احتمال سے ثابت نہیں کیا جا سکتا ۔

بلکہ نسخ کے لیے تین درج ذیل شرطیں ہیں ۔

اول:یہ تاریخ معلوم ہو کہ فلاں ناسخ فلاں منسوخ سے متاخر ہے ۔

دوم :ناسخ منسوخ سے قوی تر یا صحت میں ہم پلہ ہو ۔

سوم:ان دونوں میں تطبیق کسی بھی وجہ سے ممکن نہ ہو ۔

تو میں نے ا س مسئلے کو ذرا تفصیل سے بیان کرنا چاہا کیونکہ اس مسئلے سے متعلق فوائد بہت ہیں اور لوگ اکثر اس سے غفلت کرتے اور اکثر مفتی حضرات بعض مصنفین کی تقلید کرتے ہیں جنہوں یہ مسئلے دلیل وبرھان کے بغیر لکھا ہے جس سے یقین حاصل نہیں ہوتا ۔میں کہتا ہوں کہ آپ بھی میرے ساتھ ان دلائل میں سکون و اطمنان سے تدبر کریں اور عجلت سے  کام نہ لیں ۔نمازی کو سلام کرنا مسنون ہے اور وہ بحالت نماز اشارے سے اس کا جواب دے ،ذکر کنے والے ،تلاوت کرنے والے مؤذن پر سلام کہنا مسنون ہے اور اسی طرح عورتوں پر بھی اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو ،اسی طرح کھانے میں مصروف لوگوں سمیت مسلمانوں پر سلام کیا جاسکتا ہے ،سوائے ان  بعض اشخاص کے جن کا اس حکم سے مستثنی ٰ ہونے پر سنت وارد ہے ،ان کا حال ہم عنقریب ذکر کریں گے اس کے دلائل دو قسم کے ہیں ۔ عام دلائل ’’خاص دلائل‘‘۔

عام دلائل یہ ھیں :

اول :مسلم (1؍رقم93)کتاب الایمان ،مشکوۃ (2؍397)ابوھریرہ ﷜سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی﷜ نے فرمایا:مومن بنے بغیر جنت میں نہیں جاسکتے ،اور مومن تب بنوگے کہ تم آپس میں محبت کرنے لگو ،میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جبتم کرنے لگو تو آپس میں محبت پیدا ہوگی (وہ عمل یہ ہے )کہ آپس میں سلام عام کرو )۔ ترمذی (2؍98)اس کی سند جیسے آپ دیکھ رہے ہیں صحیح ہے ۔

یہ حدیث سلام کے عام کرنے میں مطلق ہے اس کی تخصیص و تقبید جب تک شک سے مبرا دلیل نہ لائی جائے ممکن نہیں ۔ انصاف پسند اہل تدبرکے لیے یہی ایک دلیل کافی ہے اور مزید دلائل ذکرکرنےکی ضرورت نہیں ۔

دوم :بخاری (2؍921)، مسلم(2؍123)،مشکوۃ (2؍397)میں براء بن عازب ﷜سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ،بیمار کی عیادت ،جنازوں کے ساتھ جانا،چھنکنے والے کو جواب دینا (بشرطیکہ وہ الحمد اللہ کہے )کمزورکی مدد کرنا ،سلام عام کرنا ،قسم پوری کرنا ۔

اسی طرح مشکوۃ (1؍133)میں بھی ہے ۔تو نبی ﷺنے افشاءسلام کا حکم فرمایا ،اور افشاء کا معنی عام کرنا اور وسیع کرنا ہے تو وہ شخص ذکر کرنے والے اور نماز وغیرہ پڑھنے والے پر سلام نہیں کرتا تو وہ افشاء السلام کے حکم کی مخالفت کرتا ہے ،اور مسلمان سنت کی مخالفت نہیں کر سکتا جب تک کہ اس کے پاس ایسی شرعی حجت نہ ہو جو مخالفت کو جائزکرتی ہو اور اس عام میں سے اس کی تخصیص کرتی ہو ،وباللہ التوفیق۔

عام دلائل بکثرت ہیں ہم ان پر ہی اکتفاء کرتے ہیں ۔

خاص دلائل

(1)نمازی پرسلام کہنے کے دلائل بھی بہت ہیں

ان میں سے اول وہ حدیث ہے جسے ابوداؤد رقم (927)باب ردالسلام فی الصلاۃ ابن ماجہ  رقم :(1017)’’باب المصلی یسلم علیہ کیف یرد ‘‘ میں عبداللہ بن عمر ﷜سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺقباء کی طرف نماز پڑھنے نکلے راوی کہتے ہیں آپ ﷺنماز میں تھےاور انصار نے آکر سلام کیا ،راوی کہتے ہیں میں نے بلال ﷜کو کہا کہ جب وہ سلام کہہ رہے تھے تو تم نے رسول اللہ ﷺکو کیسے جواب دیتے ہوئے دیکھا ،تو انہوں نے کہا ایسے کرتے تھے ،اور اپنی ہتھیلی پھیلائی ۔ جعفر ین عون نے اپنا ہاتھ پھیلایا ہتھیلی کو نیچے کی طرف کیا اور اس کی پشت کو اوپر کی جانب کیا ،یہ حدیث صحیح ہے اور مدینہ میں وارد ہوئی جبکہ نماز میں کلام منسوخ ہو چکی تھی اس سے قبل مکہ میں بحالت نماز بات چیت جائز تھی عور کریں کہ صحابہ کرام ﷢کیسے اس مسئلے کی تعلیم دیتے تھے ۔

دوم :جابر ﷜سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے کسی کے لیے بھیجا (جب میں واپس آیا)تو آپ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا میں نے آپ کو سلام کہا ،آپ نے میری طرف اشارہ فرمایا ۔فارق ہونے کے بعد مجھے بلایا اور فرمایاتم مجھے ابھی سلام کہا تھا اور میں نماز پڑھ رہا تھا،ابن ماجہ :رقم (18)مسلم :(1؍204)اسی طرح ابوداؤد رقم (926)۔

سوم :صہیب ﷜سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺکے پاس سے گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ کو سلام کہا آپ نے اشارے سے جواب دیا راوی کہتا ہے میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے انگلی سے اشارہ فرمایا ، ابوداؤد :رقم (925)بسند صحیح ،ترمذی (1؍367)مراجہ کریں ،مشکوۃ(1؍91)ابن ابی شیبہ (2؍74)،احمد(4؍332۔3؍380)۔

چہارم :نافع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ﷜ایک شخص کے پاس سے گزرے اور وہ نماز پڑھ رہا تھا ،انہوں نے سلام کیا تو اس شخص نے کلامی جواب دیا ،تو عبداللہ بن عمر ﷜واپس لوٹے اور اسے کہا جب تم مسں سے کسی کو کوئی سلام کہے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو اسے کلام نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہاتھ کے اشارے سے جواب دے 0 مؤطا (1؍154)مشکوۃ(1؍92)ابن ابی شیبہ (2؍74)

کیا رسول اللہ ﷺکے بعد یہ بھی منسوخ ہے اور ہر حکم جو رسول اللہ ﷺسے آئے اور وہ لوگوں میں سے کسی کی رائے کے خلاف ہو تو اس میں یا تو وہ دور کی تاویل کرتے ہیں یا پھر اسے بلا دلیل منسوخ کر کے دم لیتے ہیں ۔

پانچویں :ابو سعید خدری ﷜سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺکویسلام کیا اور آپ نماز میں تھے تو رسول اللہ ﷺنے اسے اشارے سے جواب دیاجب آپ ﷺنے سلام پھیرا تو اسے فرمایا کہ ہم پہلے نماز میں سلام کا (کلامی) جواب دیتے تھے لیکن ہمیں اس سے منع کردیا گیا ہے ،بزار نے اسے حسن سند کے ساتھ لکالا ہے ، اسی طرح مجمع (2؍81)میں ہے ۔

اس حدیث سے ہمارے لیے یہ بات ثابت ہوئی کہ نماز میں سلام کے جواب اشارہ کرنا  

نہیں بلکہ کلامی جواب دینا منسوخ ہے ۔ تدبر کرے کوئی تو یہ بڑی واضح دلیل ہے ۔

چھٹی: ابن مسعود﷜سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺکے پاس سے گزرا تو میں نے آپ کو سلام کیاآپ نے جواب میں میری طرف اشارہ فرمایا،نکالا اسے طبرانی نے اوسط اور ضغیر میں اور اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں ۔

المجمع (2؍83)عبداللہ بن مسعود ﷜کی جو روایت صحیحن میں ہے تو اس میں کلام سے ممانعت ہوئی ،اشارے سے نہیں باوجود اس کے کہ یہ حدیث مکہ میں وارد ہوئی ہے ابن ابی شیبہ (3؍83)اور اسکی تفصیل (2؍84)میں ہے ۔

انہوں نے یہ روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود جب نبیﷺکو سلام کہا تو آپ نے اپنے سر مبارک کو ہلاکر جواب دیا ۔

ساتویں :عطاء کہتے ہیں میں ابن عباس ﷺکو سلام کہا آپ  کعبہ کے سامنے نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا مجھے (کلامی )جواب نہ دیا اور ہاتھ پھیلاکر مجھ سے مصافہ کیا۔

امام ا بن ابی شیبہ (3؍74)میں ’’باب من کان یرد ویشیر بیدہ اؤبرأسہ ‘‘ذکر کیا ہے

آٹھویں :ابوھریرہ ﷜سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب ہم پر کوئی سلام کہے اور آپ نماز پڑھ رہے ہوں تو ڑپ اس کا جواب دیں ۔

نویں :جابر﷜سے روایت ہے وہ کہتے ہیں :نماز پڑھتے ہوئے میں کسی کو سلام نہیں کہتا اور اگر مجھ پر کوئی سلام کہے تو میں اس کا ضرور جواب دوں گا ۔ابن ابی شیبہ أیضا (2؍74)۔

دسویں :عمار﷜سے روایت ہے کہ  میں نبی ﷺکے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہ تھے ۔میں نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے جواب دیا ،ابن ابی شیبہ باب مذکورہ میں لاتے ہیں ۔کنز العمال(8؍217)رقم :(22635)۔

تلک عشر کاملہ :نفس اشارہ رسول اللہ ﷺسے کئی احادیث سے ثابت ہے اور اسی طرح ضحابہ کرام﷢سے بھی تو ایک عام آدمی کی رای کی وجہ سے کس طرح منع کیا جاسکتا ہے اور یہ باطل پرستوں جاہلوں کی طرح صرف دعوی نہیں بلکہ اسی کے بارے میں بعض احادیث ذرا کان لگا کر سنیں !۔

امام ابوداؤد رقم :(943)باب لاشارہ فی الصلاۃ اور عبدلرزاق نے المصنف (2؍258) میں ،امام بیہقی :(2؍262)میں صحیح سند کے ساتھ انس بن مالک ﷜سے روایت کرتے ہیں  وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نماز میں اشارہ کرتے تھے ۔

دوسری حدیث عائشہ رضی اللہ عنھا مروی ہے کہ انہوں نے نماز میں ایک عورت کی طرف اشارہ کیا تھا جو ان کے لیے ھریسہ (ایک قسم کا کھانا )لے کر آئی تھیں کہ اسے رکھ دے ۔مشکوٰۃ (1؍51)باب احکام المیاہ۔

تیسری حدیث:’’نبیﷺنے ام سلمہ رضی اللہ عنھا کی لونڈی کو اشارہ کی تھا ،‘‘جیساکہ شیخان باب صلوٰۃ العصر ‘میں روایت کیا ہے ،یہ اشارہ نماز کے اندر تھا دیکھیں مسلم (1؍277)بخاری (1؍164)باب الا شارہ فی الصلوۃ۔ امام عبدالرزاق نے المصنف (ا2؍258)کے باب الاشارہ فی الصلاۃمیں بہت آثار ذکر ہیں ۔

اس باب میں احادیث کثیر تعداد میں آئی ہیں لیکن تنگی وقت کی وجہ سے ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔

یہ ایسے دلائل ہیں کہ جن کی تردید نسخ و تاویلات بعید وجوہ میں سے کسی وجہ سے نہیں ہوسکتی ،جن کا دعوی ٰ مدعیان علم کرتے ہیں ۔ واللہ الموفق للصوب وبہ التکلان۔۔

(2):ذاکر پر سلام بھی مسنون ہے

اس کے بھی تین قسم کے دلائل ہیں ۔ دلائل عامہ تو ہم نے فتوی کے شروع میں ذکر کرتے دۓ اور دوسری قسم دلائل نمازی پر سلام کہنے کے ذکر میں ہم نے بیان کر دیۓ کیونکہ نمازی بھی اللہ کا بڑا ذاکر ہے جب نمازی پر سلام کہنا جائز ہے تو عام ذکر کنے والے پر بطریق اولیٰ جائز ہے یہ ایسی واضح دلیل ہے کہ اس کے بعد مزید کسی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔

تیسری قسم کی دلیل یہ ہے کہ مومن کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتا رہتا ہے وہ ذکر الہٰی سےلا تعلق نہیں رہ سکتا ۔

رسول اللہ ﷺبھی ہر حال میں ذکر کیا کرتے تھے جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہے اور اللہ تعالی بھی فرماتے ہیں :

’’جو اللہ تعالی کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں ‘‘ (آل عمران:191)جب تم نے ذکر کرتے وقت سلام سے منع کر دیا تو گو یا تم نے مومن پر ہمیشہ سلام کہنے سے منع کر دیا،کیونکہ وہ ذاکر الٰہی میں مشغول رہتا ہے بالفاظ دیگر ہم کہتے ہو جس کی صفت ہو اس پر سلام نہیں کہتے ہیں بلکہ ہم سلام غافلین اور کوفاسقین پر کہتے ہیں تو تم نے شریعت کی مخالفت کی جس کا کوئی مسلمان قائل نہیں اس سے زیادہ واضح دلیل دوسری نہیں ہو سکتی ۔

مزید دلیل کیلۓہم کہتے ہیں کیا سلام اذکار میں سے نہیں ؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تم کیوں ذکر سے روکتے ہو ۔ اور اگر تمہارے نزدیک وہ اذکار شرعیہ میں سے نہیں تو دلیل پیش کرو ،اگر پیش نہیں کر سکتے تو ان شرعی کے آگے سرخم تسلیم کرو ۔اور ذکر نے والوں پر سلام سے نہی کی دلیل کہاں ہے جبکہ نبیﷺنے افشاء سلام کا عام حکم دیا ہے ۔

(3)قرآان کی تلاوت کرنے والے پر بھی سلام کہنا مسنون ہے

جو دلائل ہم نے ذکر کئے ان سے یہ سب کچھ ثابت ہو جاتا ہے جب نمازی پر سلام کہنا جائز ہے تو وہ نماز میں قرآن بھی تو پڑھتا ہے تو نماز کے علاوہ قرآن پڑھنے والے پر بطریق اولیٰ جائز ہے اور اس سے نہیں بھی وارد نہیں ۔

اس کے بارے میں صریح دلائل میں سے ایک وہ ہے جو امام ابن قیمنے اپنی کتاب ’’الوابل الصیب‘‘ (ص:90)میں ایک شرعی قاعدہ  بیان کرتے ہوئےذکر کی ہے وہ یہ ہے کہ عبادت مفضولہ اپنے مطلوبہ وقت میں فاضلہ بن جاتی ہے اگرچہ وہ باقی اوقات مفضولہ ہے ۔ پھر فرماتے ہیں یہ بڑا مفید اصل ہے اس پر اعمال کے مراتب اور ان کو اپنے مراتب پر رکھنے کے معرفت کے دروازے کھلتے ہیں تا کہ فاضل کو چھوڑ کر مفضول کے ساتھ مشغول نہ رہے کہ فاضل اور مغضول کے درمیان فرق کا فائدہ ابلیس کو نہ پہنچے ،یا یہ کہ فاضل اور مفضول میں دیکھ کر فاضل کے ساتھ مشغول ہو جائے اور مفضول کو چھوڑ دیا حالانکہ وہ وقت مفضول کا ہے اور اس کی مصلحت بالکلیہ فوت ہو جائے اس کایہ خیال ہو کہ فاضل میں مفضول سے زیادہ ثواب ہے ۔ یہاں اعمال کے مراتب ،تفاوت اور مقاصد کی معرفت اور ہر عمل کو اس کا حق دینے کی سمجھ کی ضرورت ہے ۔کہ ایک عمل کو مرتبے میں رکھنے کی صورت میں اس سے اہم عمل کے فوت ہونے کا امکان ہو۔

لیکن اس میں اہم اور افضل عمل کو اگر چھوڑ بھی دیا جائے او اس کا تدارک ممکن ہے اور کسی اور وقت بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اگر یہ مفضول عمل فوت ہوجائے تو اس کا تدارک ممکن  نہیں  اس لیے اس (مفضول) عمل کے ساتھ مشغول ہونا بہتر ہے ۔

یہ بات اس مثال سے سمجھی جا سکتی ہے کہ سلام یا چھینکنے والے کو جواب دینے کے لیئے اگر قرأترک کر دی جائے اگرچہ اس سے قرأت افضل ہے کیونکہ اس مفضول (سلام یا چھینک کے جواب )کو کر لینے کے بعد فاضل (قرأت )کا اعادہ ہو سکتا ہے اس کے خلاف اگر تلاوت کے ساتھ مشغول رہے تو سلام اور چھنک کے جواب کی مصلحت فوبت ہو جائے گی یہی حال تمام اعمال کا ہے جب وہ آپس میں مزاہم ہو جائیں اس شرعی قائدہ میں غور فکر کی ضرورت ہے اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ۔

اللجنۃ الدائمہ نے (4؍8382)میں جب یہ سوال پوچھا گیا کہ اگر تلاوت میں مصروف کسی انسان کے پاس کوئی گزرتے ہوئے سلام کہے تو سلام کا جواب دینے کے لیے قرأت قطع کرسکتا ہے ؟

تو انہوں نے اپنے فتوے میں تین جواب دیے ہیں ۔

پہلا جواب:سلام کہنے والے کا جواب دینے کے بعد اپنی قرأت کی طرف لوٹ آئے تا کہ دونوں فضیلتیں جمع ہو جائیں ۔

دوسرا جواب :سنت یہی ہے کہ اس پرسلام ڈالے کیونکہ صحیح حدیث سے ملاقات کے وقت سلام اور مصافحہ مشروع ہے ۔

تیسرا جواب:قاری سلام میں پہل بھی کر سکتا ہے اور سلام کا جواب بھی دے سکتا ہے کیونکہ اس سے منع پر کوئی شرعی دلیل ثابت نہیں ہے ۔

اور سلام میں پہل اور جواب دینے کی مشروعیت کے دلائل میں اصل عموم ہی ہے ، یہاں تک کہ اور دلائل سے اس کی تخصیص ثابت ہو جائے تو اس میں اہل علم کے یہی فتوے ہیں ۔ ہم عنقریب بعض محققین علماء کے فتوے بھی ذکر کریں گے ۔

امام نوی کتاب الاذکار :(ص:224)میں ابوالحسن الواحدی نے نقل کرتے ہوے ٔ لکھا ہے :’’تلاوت میں مصروف شحص پر سلام کا ترک کرنا ہی اولی ہے اور جب اس پر کوئی سلام کہدے تو جواب زبانی دے یا اشارے سے ‘‘۔

پھر امام نوی  کہتے ہیں اس میں نظر ہے  اور ظاہر یہ کہ وہ اس پر سلام کہے اور ا س پر لفظی جواب دینا فرض ہے ۔ لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ اہل علم کے اقوال سے درست نہیں البتہ تائید کا فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔جبکہ بعض مدعیان فتویٰ کی نظر کسی سطر پر ٹک جاتی ہے تو وہ اسی پر جھک جاتے ہیں اور اسے اصل اصیل بنا لیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اس کی دلیل کیا ہے اور اسے کس نے قبول کیا ہے ۔

(4)مؤن کو سلام کہنا بھی سنت ہے

ایک تو مذکورہ دلائل کے عموم سے ،اور چونکہ اذان میں بات کرنی جائز ہے تو سلام کا جواب دینا بطریقہ اولیٰ جائز ہے ،ابن ابی شیبہ (1؍212)میں سلیمان بن صرد﷜سے روایت آئی ہے یہ صحابی ہیں ،وہ چھاؤنی میں اذان بھی دیتے تھے اور آذان کے دوران اپنے غلام کو کام کا بھی کہتے تھے ،حسن سےروایت ہے آئی ہے کہ آذان و اقامت میں بات کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ،قتادہ اور عروہ بن الزبیر آذان میں کلام کیا کرتے تھے،

اسی طرح مصنف عبدالرزاق (1؍468)میں بھی ذکر ہے ،امام بخاری اپنی صحیح (1؍76)میں باب الکلام فی الاذان میں فرماتے ہیں ،سلیمان بن صرد نے اپنی اذان میں کلام کیا ،اور حسن نے کہا :

’’اذان و اقامت کے دوران ہنسنے میں کوئی حرج نہیں ‘‘پھر عبداللہ بن الحارث سے مسند حدیث ذکر کی ہے وہ کہتے کہ ابن عباس ﷜یوم ردا میں ہمیں خطبہ دیا جب مؤذن حی علی الصلوٰۃکو پہنچا تو اسےحکم دیا کہ وہ الصلوۃ فی الرحال ‘‘کہے ۔

لوگ یہ سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تو انہوں نے فرمایا ،یہ فعل مجھ سے بہتر شخصیت نے کیا تھا اور یہ عزیمت ہے ۔

فتح الباری (2؍77)اسی طرح امام نوی نے الاذکار (ص:225)میں کہا ہے :

’’مؤن کے لیے لفظ معتاد کے ساتھ جواب دینا مکروہ نہیں کیونکہ اس معمولی  فعل سے اذان باطل ہو تی ہے ،نہ اس میں خلل آتا ہے ‘‘

(5)عورتوں کو سلام کی سنیت

جب سلام کہنے کے لیے اور اسی طرح عورت کے لیے فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اس پر سلام کہنا جائز ہے اس کی دلیل متعدد احادیث ہیں جن میں ایک وہ ہے جو ابوداؤد رقم :(5204)کتاب الادب السلام علی النساء میں اسماء بنت یزید سے اور سند اس کی صحیح ہے ،ابن ماجہ رقم :(3701) الصحیحہ : (823)

دوسری روایت اسماء سے ہے وہ کہتی ہیں کہ نبی ﷺ مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی تو آپ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا،اسے امام بخاری نے الادب المفرد میں (رقم :1047)ابوداؤد نے کتاب الادب میں اور ترمذی نے کتاب الاستیذان میں روایت کیا ہے ۔ احمد نے (6؍452۔457۔458)میں اور دارمی نے نکالا ہے ۔

(6)عورتوں کا مردوں کو سلام کہنے کی سنیت :

ام ھانی فرماتی ہیں کہ میں نبی ﷺکے پاس گئی آپ اس وقت غسل فرما رہے تھے ،میں نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے فرمایا یہ کون ہے تو اس نے کہا میں ام ھانئ ہوں تو آپ نےمرحباکہا ۔بخاری (2؍42)کتاب الادب والاستیذان ،مسلم (2؍)کتاب السلام ،بخاری الادب المفرد (رقم :145)۔

اسی طرح امام بخاری الادب المفرد میں حسن سے روایت کرتے ہیں کہ عورتیں مردوں پر سلام کہا کرتی تھیں رجوع کریں زادالمعاد: (2؍27)۔

(7)بچوں پر سلام کی سنیت:

انس ﷜سے روایت ہے کہ وہ بچوں پر گزرے تو انہیں سلام کہا ۔اور پھر کہا نبیﷺان کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے بخاری (2؍923) مسلم(2؍214)۔

(8) کھانا کھانے والے پر سلام کی سنیت:

احادیث کے عموم سے بھی ہوتا ہے،اس کے علاوہ نبیﷺنے فرمایا کہ بخیل وہ ہے سلام کہنے میں بخل کرے ، الادب المفرد (رقم:1041)تو سلام کے ساتھ بخل کرنا درست نہیں جب تک کہ صریح نہی وارد نہ ہو جو نہیں پائی گئی تو کھانے والوں پر سلام نہیں کہتا وہ نص رسول ﷺسے بخیل ہے ،

امام نوی  الاذ کارص:(224)میں وہ احوال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جن میں سلام کہنا مکروہ ہے ،کہ جب کھانا کھائے اور لقمہ اس کے منہ ہو (تو سلام نہ کہا جائے )ہاں اگر لقمہ منہ میں نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔اور جواب دینا فرض ہے ۔

میں کہتا ہوں کہ لقمہ منہ میں ہو تب بھی سلام کہنا جائز ہے کیونکہ لقمہ سالوں تک تو نہیں ٹھہرتا بلکہ دوسرے لمحے نکل جاتا ہےاورسلام کاجواب فورا دینا تو ضروری نہیں کہ کسی بھی صورت اس میں تاخیر کی گنجائش نہ ہو ۔

الشیخ الصحیحہ(1؍310) رقم :(184)میں فرماتے ہیں :جب یہ (احادیث افشاء السلام )تم جان چکے تو یہ بھی جان لینا چاہیۓ کہ افشاء السلام جس کا حکم ہوا ہے کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔اور لوگوں نے سنت سے ناواقفی کی وجہ سے یا عمل میں سستی کی وجہ سے تنگ کر دیا ہے ان میں سے ایک نمازی پرسلام کہنا ہے اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ مشرع نہیں بلکہ امام نووی الا ذکار میں اسے صراحتہ ذکر کیا ہے جبکہ کہ صحیح مسلم کی شرح میں انہوں نے تصریح کی ہے کہ سلام کا جواب اشارے سے دینا مستحب ہے اور یہی سنت ہے ۔

نبیﷺ پر نماز پڑھتے ہوئے صحابہ ﷢کا سلام کہنے کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں ،اور نبی ﷺنے اس عمل کو برقرار رکھا اور سلام کا (اشارے سے )جواب دیا ،پھر ابن عمر ﷢ کی حدیث ذکر کی پہلے گزرچکی پھر فرمایا :

’’اس حدیث کی طرف امام احمد اور امام اسحٰق دونوں گئے ہیں ‘‘۔

اور امام مروزی نے المسائل :ص (22)میں فرمایا:’’میں نے امام احمد کو کہا :قوم جب نماز پڑھ رہی ہو تو اس پرسلام کہا جا سکتا ہے ؟ ،تو انہوں نے کہا ،’’پھر بلال ﷜کا قصہ ذکر کیا جب ان سے ابن عمر ﷜نے پوچھا کہ (سلام کا ) جواب کیسے دیتے تھے ؟ تو کہا،’’اشارہکر دیتے تھے ،‘‘اور یہی اختیار کیا ہے بعض محققین مالکیہ نے ۔

پس قاضی ابو بکر بن العربی العارضہ (2؍162)میں کہتے ہیں :’’اور کبھی کبھی اشارہ نماز میں سلام کے جواب کے لیے ہوتا ہے اور کبھی کبھی نمازی کو پیش آنے والی کسی ضرورت کے لیے ہوتا ہے،‘‘

اگر وہ نماز میں سلام کے جواب کے لیے ہے تو اس میں بہت سے صحیح آثار بھی ہیں جیسے قباء میں نبیﷺکا فعل وغیرہ۔

پھر شیخ کہتے ہیں :تعجب ہے کہ امام نووی  الاذکار میں نمازی پر سلام کو صراحتا مکروہ کہنے کے بعد کہتے ہیں :

’’اور نمازمیں اشارے سے سلام کا جواب دینا مستحب ہے تلفظ درست نہیں ‘‘۔

میں کہتا ہوں :تعجب کی وجہ یہ ہے کہ جواب سلام کا استحباب کو مستلزم ہے اور اس کاعکس عکس کو کونکہ دونوں امور کی دلیل ایک ہی ہے اور وہ یہی حدیث یا اس کا ہم معنیٰ حدیث ہے ۔تو جب سلام کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہے تو عین اس وقت نفس سلام کے استحباب پر بھی دلالت کرتی ہے ،اگر یہ مکروہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺبیان فرما دیتے اگرچہ جواب سلام میں عدم اشارے کے ساتھ کیونکہ یہ بات مسلم ہے ضرورت کے وقت سے بیان کی تاخیر جائز نہیں ۔ اور یہ واضح ہے ۔ الحمد للہ اور ان میں سے مؤذن اور قاری پرسلام کہنا ہے تو یہ بھی مشروع ہے ہے اور اس کی دلیل آگے گزر چکی ۔

جب نمازی پرسلام کا استحباب ثابت ہو چکا تو قاری اور مؤذن پرسلام کا کہنا زیادہ بہتر اور مناسب ہے ۔

اور مجھے یاد ہے کہ میں نے مسند میں ایک حدیث پڑھی تھی جس میں نبیﷺکا تلاوت میں مصروف جماعت پرسلام کہنے کا ذکر تھا اور اس مناسبت سے اس کا ذکر کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے اب تک نہیں ملی ۔

پھر وہ سلام کا جواب لفظوںمیں دیں یا اشارے سے تو ظاہر پہلی بات ہی ہے ۔

امام نووی کہتے ہین مؤذن کو سلام کا جواب معتاد لفظوں میں دینا مکروہ نہیں کیونکہ یہ معمولی عمل ہے ۔ الخ۔

اسی طرح انہوں نے (4؍140)میں محتصرذکر کیا ہے ۔

(9)مسجد میں موجود لوگوں پرسلام کیا جائے خواہ ذکر میں یا تعلیم میں مصروف ہوں یا نماز پڑھ رہے ہوں ۔

کیونکہ ابوھریرہ ﷜سے ثابت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگا اور نبیﷺایک کونے میں تشریف فرما تھے پھر اس نے آکر آپ کو سلام کہا،آپ ﷺنے وعلیک السلام کہا ،ابن ماجہ رقم:(3659)لاتے ہیں مسٔی الصلاۃ والی حدیث کا ایک حصہ ہ اور اس میں سلام کا ذکرتین بار ہے ۔اور اسی طرح جواب بھی ۔مشکوۃ (1؍75)۔

الشیخ الصحیحہ (1؍314)میں کہتے ہیں :’’اس میں مسحد میں موجود لوگوں کو سلام کہنے کی مشروعیت کی دلیل ہے ‘‘۔

اور مسجد قباء میں انصار کا نبی ﷺپر سلام کی حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس کا ذکر ہو چکا ۔

اسکے باوجود ہم بعض متعصبین کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس سنت کی پروا نہیں کرتے ۔یہ جب مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو اس خیال سے کہ یہ مکروہ ہے اہل مسجد پرسلام نہیں کہتے ۔جو کچھ ہم لکھ چکے اس میں ان کے لیے اور دوسروں کے لیے نصیحت ہے ۔ والذکری تنفع المؤمنین ،شرح مسلم (1؍204)میں امام نووی نے سلام کے جواب میں اشارہ کرنے کو مستحب کہا ہے ۔ سلام سے شرعیت نے جن لوگوں کو مسثنی کیا ہے وہ یہ ہیں :

کافر،فاسق، مبتدع اور جو پیشاب کر رہا ہو ۔

لیکن نبیﷺ کافروں پر السلام علی من اتبع الھدٰی‘‘ کہہ کرسلام کہا کرتے تھے ،جیسے کہ بخاری (1؍5) میں ابن عباس ﷜کی حدیث ہے ۔اور فاسق کو سلام کہنے اور اس کے سلام کا جواب نہ دینے کی دلیل صحیحن میں کعب بن مالک ﷜کی حدیث ہے ،’’وہ کہتے ہیں :میں نبیﷺکو سلام کہا کرتا تھا لیکن آپ جواب نہیں دیا کرتے تھے ،اگرچہ کعب ﷜ بہترین صحابہ میں سے تھے ۔

اور مبتدع سے ترک تعلق ضروری ہے جبکہ اس کی بدعت سے دفاع کے لیے ایسا کرنا ضروری ہو تو اسے سلام کہہ کر عزت افزائی کیسے کی جا سکتی ہے ۔

پیشاب کرنے والے پرکے عدم جواز پردلیل بخاری کی حدیث ہے جو مشکوۃ(1؍55)میں ہے ابو جھیم ﷜نبیﷺپر سلام کہا اور آپ پیشاب کر رہے تھے تو آپ نے جواب نہیں دیا پھرتیمم کر کے جواب دیا ۔

فتح الباری (1؍351)اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ پیشاب کرنے والے پر سلام نہ کہا جائے اور نہ ہی سلام کا جواب دے ۔ جو صریح اور صحیحدلائل اور مققین علماء کے اقوال ہم ن ذکر کئے کہ سلام کا دائرہ وسیع ہے اسی لیے نبیﷺنے سلام عام کرنے کا حکم دیا،اس سے بعض متفقہ جو کچھ کہتے ہیں اس کا بطلان ثابت ہوا ۔

جیسے ابن عابدین حاشیہ ردالمختار(414)میں کہتے ہیں کہ اکیس قسم کے لوگوں پر سلام نہ کہا جائے اور پھر اسے ابیات میں ذکر کرتے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے :

’’سلام کا جواب فرض ہے سوائے اس کے ۔ وہ نماز میں ہو ،کھانے پینے میں مصروف ہو ،قرأت دعا یا ذکر میں مشغول ہو ،خطبہ یا تلبیہ میں مصروف ہو ،قضائے حاجت کر رہا ہو،اذان دے رہا ہو یا اقامت کر رہا ہو ،اسی طرح بچے کو سلام کہنا ،یا بحالت نشہ کسی کو سلام کہنا ،یا نوجوان عورت کو سلام کہنا کہ جس میں فتنے کا ڈر ہو ،فاسق ،اونگنے والا،سویا ہوا،حالت جماع میں،یا حاکم کے پاس فیصلہ لیجاتے وقت ،یا وہ حمام میں ہو ،یا دیوانہ ہو ،یہ اکیس(21)ہوئے ۔

ردمختار میں ہے ،سلام کرنا تیرا مکروہ ہے ان پر جن کا ذکر تو عنقریب سنے گا ۔ اور جو میں ظاہر کر دوں ان کے بعد اوروں پر (سلام کہنا )مشروع و مسنون ہے ۔نماز پڑھنے والا ،تلاوت کرنے والاذکر کرنے والا،حدیث بیان کرنے والا خطیب اور وہ جس کی طرف کان لگا کرا س کی بات سنی جائے فقہ کا تکرار کرنے والا اور فیصلہ کرنے بیٹھا ہو ،اور جو فقہ کی بحث میں مشغول ہوں تو انہیں چھوڑ دے تاکہ وہ نفع پہنچائیں ،اذان کہنے والا ،اقامت کہنے والا ،تدریس کرنے والا،

اسی طرخ اجنبی ہورتوں پر (سلام کہنے سے منع کرتا ہوں )اور شطرنج یا اس جیسا اور کوئی کھیل کھیلنے والے اور جو ان کے کھیل سے متمتع ہو رہے ہوں ،اور اسی طرح کافر کو بھی چھوڑ دو اور برہنہ کو اور جو قضائے حاجت کی حالت میں ہو تو اس پر سلام کہنا بری بات ہے ۔اسی طرح کھانا کھانے والا ،لیکن اگر آپ حود بھوکے ہوں اور آپ جانتے ہیں کہ وہ کھانے سے نہیں روکے گا (تو سلام کہہ کر اس کے ساتھ کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں ) اسی طرح گانے والا ،استاد جو لوگوں کو اپنے گانے سے مبہوت کر رہا ہو ۔یہاں آکر ان کا ذکر حتم ہوا لیکن مزید بھی ہو تو آپ کو نغع دے سکتا ہے ۔

میں کہتا ہوں :رسول اللہ ﷺکے بعد کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ  اپنے  ذہن  اور فکر کے بل بوتے پرکسی چیز کو حلال قراردے دیا حرام کرے یا مکروہ و مباح کرے جب تک شرعی دلیل نہ ہو ،بلکہ کتاب وسنت کی بنیاد پر کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دیا  جا سکتا ہے ،اور فقہیان بے توفیق  نے اپنے آپ کو شارع سمجھ رکھا ہے ۔اور دلیل دیکھے بغیر جسے چاہتے ہیں جائز قرار دیتے ہیں ۔اور جسے چاہتے ہیں حرام گردانتے ہیں ۔اللہ تعالی ان کا ان کرتوت پر محاسبہ فرمائے گا ،اور ہم تو الحمدللہ  صرف دلیل کی تابعداری کرتے ہیں ،صراط مستقیم پرچلنے والوں کا یہی طریق ہے اور جو اس واہ سے بھٹکے گا اسے الہ تعالی کا عذاب آئے گا ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص171

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)