فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11495
(75) فی سبیل اللہ لفظ ہر کار خیر کو شامل ہے
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 28 April 2014 05:47 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا لفظ،’’ فی سبیل اللہ ،‘ جہاد ہی کے ساتھ خاص ہے خیر کے کام کو شامل ہے ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
: ولا حولا ولا قوةالاباللہ ۔

یہ کلمہ قرآن وسنت میں بھلائی کے تمام کاموں کے لیے وارد ہوا ہے بشرطیکہ کہ کوئی قرینہ اسے کسی خاص جگہ یا شخص کے ساتھ خاص ہو .

نہ کر رہا ہو جس کے دلائل متعدد ہیں ،بعض ہم ذکر کرتے ہیں ۔

اول :عبادہ بن رافع سے روایت ہے کہتے ہیں میں  جمعہ کےلیے جا رہا تھا راستے میں ابوعبس ملے تو انہوں نے کہا ،میں نے رسول اللہ ﷺسے کہتے ہوئے سنا ،’’جس کے قدم اللہ کی راہ میں گرد آلود  ہوں تو انہیں اللہ تعالی آگ پر حرام کردیتے ہیں ‘‘۔

بخاری باب المشی ابی الجمعہ (1؍124)

دوم :وہ حدیث جسے طبرانی نے روایت کیا ہے او راس کے راوی صحیح کے راوی ہیں ،اسی طرح منذری کی ترغیب (2؍524)میں کعب بن عجرہ ﷜سے مروی ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے پاس سےایک شخص گزرا صحابہ ﷢ نے اس کی قوت او ر چابکدستی کو دیکھ کر کہا ،’’اگر یہ اللہ کی راہ میں ہوتا تو اچھا ہوتا ،تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

((اگر بوڑھے والدین کے لیے نکلا ہے تو فی سبیل اللہ ہے اوراگر اپنی عفت کے لیے ہے تو فی سبیل اللہ ہے او راگر ریاء کے لیے نکلا ہے تو فی سبیل الشیطان ہے ))۔

سوم :ام معقل رضی اللہ عنھا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں جب رسول اللہ ﷺحجتہ الوداع کے لیے نکلے ،ہمارا اونٹ تھا وہ ابو معقل نے اللہ کی واہ میں دے دیا تھا ،کہتے ہیں :ہمیں بیماری سے واسطہ پڑا اور ابو معقل فوت گۓ ،کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ حج سے واپس لوٹے تو فرمانے لگے اے ام معقل تو ہمارے ساتھ کیوں نہیں گئی ،کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (ﷺ) ہم تیاری کر رہے تھے ابو معقل فوت ہوگۓ اور ہمارہ جو اونٹ تھا جس پر ہم نے حج کے لیے جانا تھا ابو معقل نے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دی تھی ۔تو آپ ﷺنے فرمایا((اس پر کیوں نہیں نکلی ،حج فی سبیل اللہ تو  ہی ہے ۔جب تجھ سے حج فوت ہوگیا تو رمضان میں عمرہ کر لینا ،وہ حج کی طرح ہی ہے ))، ابوداؤد (1؍279)ترمذی ،نسائی ،ابن خزیمہ اسی طرح ترغیب (2؍182۔183)

ابن الألیرکہتے ہیں شبیل االلہ عام ہے اللہ کے تقرب کے ہر عمل پر بولا جاتا ہے جیسے فرائض و نوافل کی ادائیگی اور مختلف انواع کے تطوعات او رجب مطلق بولا جائے تو اکثر جہاد مراد ہے او رکثرت استعمال کی وجہ گویا کہ وہ اسی کے لیے مقصود ہو کر رہ گیاہے ۔

ھیٔۃ کبار العلماء (1؍59۔98)میں ہے اعل علم کے اقوال ہیں رجوع کریں نووی شرح مسلم (1؍330)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص157

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)