فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11480
(68) عبد الرسول ،عبد النبی نام رکھنا درست نہیں
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 28 April 2014 04:36 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عبد الرسول اور عبد النبی وغیرہ نام رکھنا جائز ہے یا مباح ہے یا مکروہ ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد
ولا حولا ولا قوة الاباللہ ۔

یہ شرم کی نام ہے او رجائز نہیں ۔اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کایہ قول ہے :

﴿ما كانَ لِبَشَرٍ‌ أَن يُؤتِيَهُ اللَّـهُ الكِتـٰبَ وَالحُكمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقولَ لِلنّاسِ كونوا عِبادًا لى مِن دونِ اللَّـهِ وَلـٰكِن كونوا رَ‌بّـٰنِيّـۧنَ بِما كُنتُم تُعَلِّمونَ الكِتـٰبَ وَبِما كُنتُم تَدرُ‌سونَ ﴿٧٩﴾...سورة آل عمران

(کسی ایسے انسان سے کو جسے اللہ تعالی نے کتاب و حکمت اور نبوت دے ،یہ لائق نہیں کہ پھر بھی وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندیں بن جاؤ ،تمہارے کتاب سکھانے کے باعث اور کتاب  پڑھنے کے شبب)۔

تو انبیاء اور رسل علیہ المسلام نے لوگوں کو یہ دعوت  نہیں دی کہ وہ ان کے بندے بن جائیں بلکہ ا نہوں نے تو اللہ کی بندگی کا حکم دیا ،اس لیے  اس قسم کے نام رکھنے جائز نہیں اگرچہ تاویل کرنے والے تاویل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’عبد ‘‘سے غلام اور خادم مراد  ہے اور اس لیے بھی کہ آپ غلام نہیں آزاد ہیں خادم کو عربی زبان میں ’’عبد‘‘نہیں کہا جاتا اور اس لیے بھی کہ یہ مشتبھات میں سے ہے جن کے  استعمال سے اللہ تعالی نے یہ فرما کر منع فرمایا ہے :

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقولوا رٰ‌عِنا وَقولُوا انظُر‌نا ...١٠٤﴾...سورة البقرة

(اے ایمان والو !(نبی ﷺکو راعنا ‘‘نہ کہا کرو بلکہ ’’انظرنا ‘‘کہو )

یعنی مشتبہ الفاظ ترک کردو او رصریح الفاظ استعمال کرو ۔

اور حدیث میں ہے ابوھریرہ ﷜کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :کوئی کسی کو ’’عبدی وامتی ‘‘ (میرا بندا میری بندی )نہ کہے  سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہو اور تمہاری سب عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں لیکن یوں کہے میرا غلام میری لونڈی میرا لڑکا میری لڑکیاور غلام (اپنے مالک )کو ’’ربی‘‘(میرا رب)نہ کہے بلکہ ’’سیدی ‘‘میرا سید کہے )۔مسلم :2؍238)مشکوٰۃ (2؍407)0۔

اس حدیث سے اس کلمے کے استعمال اور اس کے ساتھ نام رکھنے کی ممانعت کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔مولانا رشید احمدگنگوھی فتاوی رشیدیہ (ص:69)میں لکھتے ہیں ’’نبی بخش‘‘’’مدار بخش ‘‘ایسے نام موھم شرک ہیں ان کو بدلنا ہے ‘‘۔اور ص:،(72)میں کہتے ہیں عبد النبی نام رکھنے والا اگر عقیدہ بھی یہی رکھتا ہے تو وہ مشرک ہے نہیں تو معصیت ہے او راس سے اجتناب فرض ہے اور  خرم ﷫الموفی :1238ھ اپنی کتاب لصیحۃ المسلمین (ص:24)میں کہا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے نبی بخش ،سالار بخش ،عبد البنی ،بندہ علی،بندہ حسین نام رکھنے حرام ہیں او رشریعیت میں جائز نہیں ۔

مجموعتہ الفتاویٰ میں بھی اس موضوع کی تفصیل ہے ۔

رجوع کریں شیخ عبدالسلام ﷾ کی (التسبیان :ص:(79۔80)۔

اکر نام کے مطابق عقیدہ نہ بھی ہو تو چونکہ یہ شر کے نام ہیں اس لیے بدلنا ضروری ہے  اور ایسے مو ھم شرک الفاظ کا استعمال جائز نہیں ۔ مرقاۃ (9؍106)میں ہے عبد الحارث اور عبد النبی نام  رکھنا جائز نہیں لوگوں میں عام ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ۔

شرح فقہ اکبر ص:(238)میں ہے ،اور یہ جو عبدالنبی نام رکھنا مشہور ہو چکاہے بظاہر تو یہ کفر ہے اگر عبد سے مملو ک مراد لے لیا جائے ،رجوع کریں راہ سنت اومولانا سرفراز (ص:292۔293)، امام ابن حجر   کی شرح منھا ج میں ہے ،’’عبد النبی عبد الکعبہ نام رکھنا حرام ہے ‘‘الخ ،اسی طرح راہ سنت میں بھی ہے ،اور رد المختار (5؍268)میں ہے ،اس قول کے قول ،عبد فلاں سے یہی اخذ کیا جائے گا کہ عبد النبی نام رکھنا منع ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص149

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)