فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 11444
(41) ایک آیت اور حدیث میں دفع تعارض
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 27 April 2014 07:33 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا اللہ تعالی کا قول :’’اور میں تمھارہ نگران نہیں ‘‘(انعام:104) بنیﷺکے قول ’’جو تم میں سے منکر دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے ...... الحدیث۔کے معارض ہے ‘جب رسول اللہ نگران نہیں تو پھر منکر کو کیسے بدلتے ہیں ؟ (اخوکم نوالحق)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد

جان لو  کہ قرآن اور سنت صحیحہ میں کوئی تعارض اور ٹکراؤ نہیں ۔اور اگر اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو پھر اس میں بڑا اختلاف پایا جاتا آیت سے مراد (واللہ اعلم)یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺکو فرماتے ہیں کہ ان مشرکوں اور اپنی امت سے کہیں کہ میں نے تمہیں اللہ کے احکام پہنچا دئیے اگر تم ایمان نہیں لاتے اور معصیت کرنے پر ہی مصر ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ میرا مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے اور نہ ڈانٹیں گے ۔اور حدیث میں نھی عن المنکر کی ہدایت کی گئی ہے اور یہی آیت کا معنی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص114

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)