فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11443
(40) مہدی کا ظہور حق ہے
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 27 April 2014 07:31 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مہدی حق ہے با اس کے بارے وارد ہونے والی احادیث ضعیف اورنا قابل حجت ہیں ‘جیسے بعض معاصرین کا خیال ہے اور مولانا مودی نے بھی اپنی کتابوں میں اس کا اشارہ کیا ہے اور جیسے اس کے رسالے میں مھدی کے بارے میں بیانات ہیں وہ ان کا انکار کرتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ اس باپ میں احادیث قوی نہیں ہیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد

مھدی کہ جن کے  خروج کا بنی ﷺنے وعدہ فرمایاہے حق ہے اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کیونکہ بہت سی صحیح حدیثیں اس کے بارے میں وارد ہیں اور جو یہ کہتے ہیں کہ مھدی کی بابت صحیحین میں کوئی حدیث نہیں اس لیے ہم اعتقادات میں سے مھدی کا قصہ ساقط کرتے ہیں ۔ان کی بات دو وجہ سے غلط ہے ۔

پہلی وجہ:صحیح (مسلم :2؍395)میں اور جابر بن ﷜نے فرمایا:آخری زمانے میں خلیفہ ہوگا جو مال گننے کے بغیر تقسیم کرے گا ۔تو اس خلیفہ کا نام صحیحین کے علاوہ دوسری احادیث میں آیا ہے کہ وہ مہدی ہیں ۔اس کے بارے میں بعض صحیح احادیث ذکر کریں گے ۔

دوسری وجہ:صحیحین نے تمام احادیث صحیحہ کا استعاب۔نہیں کیا اس بات اس علم کی معرفت رکھنے والے سب کا ااتفاق ہے تو حدیث کا صحیحین میں نہ ہونے سے اس کا ضعیف لازم نہیں آتا۔

خروج مھدی سے متعلق بعض احادیث یہ ہیں ۔

پہلی حدیث:ابن مسعود ﷜سے روایت ہے وہ روایت کرتے ہیں نبیﷺسے آپ نے فرمایاجب تک میرے گھرانے کا شخص والی بن نہیں جاتاقیامت قائم نہ ہو گی جو میرا ہم نام ہوگا ۔(احمد:1؍276)باسناد صحیح ابوداؤد۔

دوسری حدیث:ابو سعید خدری﷜سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب تک زمین ظلم وعدوان سے بھر نہیں جاتی قیامت قائم نہ ہو گی پھر میری اولاد یا میرے گھرانے کا ایک شخص نکلے گا ظلم وعدوان کے اس دور دورے کے بعد عدل وانصاف سے ومین بھر دے گا ۔سند اس کی صحیح ہے ۔

تیسری حدیث:علی﷜سے روایت ہے وہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں آپﷺنے برمایا:اگرزمانے کا صرف ایک ہی دن کیونکہ رہ جائے پھر بھی اللہ تعالی میرے گھرانے کا شخص ضرور مبعوث فرمائے گا جو زمین کو انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ ظلم سے بھر گئی تھی ۔(ابوداود:3؍80)بسند صحیح۔

چوتھی حدیث:اسی طرح ام سلمہ رضی اللہ عنھا کی حدیث ۔ابوداؤد(3؍9808)ان کے علاوہ دیگر اعلام سے بھی حدیثیں آئی ہیں۔اور امام ابوداؤدنے اپنی سنن میں کتاب المھدی کے نام سے باب باندھا ہے پھر  آٹھ صحیح حدیثیں ذکر کی ہیں اس طرح سنن ترمذی (2؍47)مراجعہ کریں مشکوٰۃ:(2؍470۔471)تو جو خروج مھدی کا انکار کرتا ہے وہ خواہش کا تابعدار ہے اور اس کے نزدیک سنت سیدالابرارﷺکی اور بڑی بڑی کتابوں میں روایت شدہ صحیح احادیث کی کوئی قدرقیمت نہیں ۔مراحعہ کریں حمود بن عبداللہ التوبجری کی کتاب ’’الاحتجاج بالاثرفی المھدی المنتظر‘‘اور الا عبدالمحسن بن حمد العبادکی کتاب ’’الردعلی من کذب بالاحادیث الصحیحة الواردۃ فی المهدی وعقیدۃ اھل السنة والاثرفی المهدی المنتظر ‘‘اور السلسة الصحیحه(4؍40)۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص113

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)