فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 11442
(39) کسی کام یاپیشہ کو بدفالی کی وجہ سے ترک کرنا
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 27 April 2014 07:26 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ایسا کسب ترک کرنا جائز ہے جس کی وجہ سے دوسری چیز کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو مثلاً گھوڑا مر جائے یا بچہ مر جائے ؟(اخوکم نورالحق وشوکت)۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد

یہ کلام باطل ہے کیونکہ بنیﷺنے بدشگونی سے منع فرمایا ہے جیسے ابوھریرہ ﷜کی حدیث میں ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:مرض کا متعدی ہونا ‘بدشگونی‘ ہام اور صفر وغیرہ یہ وجود نہیں رکھتے ‘اور کوڑھی سے ایسے بھاگو جیسے کہ تم شیر سے بھاگتے ہو ‘(مشکوٰۃ:2؍391)(بخاری:2؍850)اور دوسری حدیث صحیح جسے احمد نے (6؍50)اور طحاوی نے مشکل الآثار(1؍311)میں نقل کیا ہے ‘قتادہ سے روایت ہے وہ ابو حسان سے روایت کرتے ہیں کہ بنو عامر کے دو شخص عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس آئے انہوں نے خبر دی کہ ابوھریرہ ﷜بنیﷺسے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا:کہ بدشگونی گھر ‘عورت اور گھوڑے میں ہے تو آپ غضبناک ہوئیں آپ کے (کپڑے )کا جانب آسمان کی طرف اٹھا اور دوسرا جانب زمین پر تھا اور فرمانے لگیں:قسم ہے اس ذات کی جس نے قرآن محمد ﷺپر نازل کیا ہے (بدشگونی کے ہونے کی )بات رسول اللہﷺنے کبھی نہیں فرمائی بدشگونی پکڑنے کا یہ عقیدہ جاہلیت والوں ہی کا تھا اور احمد کی روایت میں ہے ‘لیکن بنیﷺفرماتے تھے کہ جاہلیت والے کہتے تھے نحوست عورت گھر اور جانور میں ہوتی ہے ۔

پھر عائشہ رضی اللہ عنھا نے یہ آیت پڑھی :

﴿ما أَصابَ مِن مُصيبَةٍ فِى الأَر‌ضِ وَلا فى أَنفُسِكُم إِلّا فى كِتـٰبٍ ...٢٢﴾ سورة الحديد

(نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص)تمھارے جانورں میں مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوتی ہے )‘(حدید:22)۔نکالا اس کو حاکم نے (2؍479)اور کہا کہ صحیح الاسناد ہے ذھمی نے بھی موافقت کی اور تفصیل اس کی الصحیحہ:(2؍734)رقم:(993)میں ہے ۔

اور ابن ماجہ اور طحاوی نے مشکل الآثار(1؍341)میں معمر بن معاویہ ﷜نے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺسے فرماتے سنا :

«لا شوم وقد یکون الیمن فی ثلاثۃ فی المراۃ والفرس‘والدار»

(نحوست نہیں اورکبھی برکت ہوتی ہےتین چیزوں میں‘عورت‘گھوڑےاور گھر میں)

(ترمذی:2؍125)اور اس طرح(صحیحہ :4؍564)رقم:(1930)میں ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث نحوست کی نفی میں صریح ہے اور یہ قوی شاہد ہے ان احادیث کا جن کے لفظ یہ ہیں :[ان کان الشوم فی شیء]بخلاف اس لفظ کے ’’الشوم فی ثلاث‘‘تو جائز نہیں کہ کوئی چیز کو منحوس سمجھے اور نہ کسی چیز میں نحوست کا عقیدہ رکھے ‘بلکہ ساری اموراللہ کی قضاوقدر کے مطابق جاری ہیں ‘مسلمان کے لیے یہ ماننا الازم ہے ‘بلکہ حدیث میں وارد ہے کہ کسی شخص کو کوئی کسب شروع کرنے کے بعد سوائے سخت مجبوری کے بدلنا جائز نہیں جیسے (مشکوٰۃ :1؍243)میں ہے اور اسی معنیٰ میں ہے رقم(2785)اور سند اس کی زبیر بن عبید کی جہالت اور ضحاک کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے ‘حدیث کو احمد ابن ماجہ نے نکالا ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص111

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)