فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 11440
(37) سنتوں کے بعد دعا کرنا بدعت ہے
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 27 April 2014 06:33 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سنتوں کے بعد بھمئت اجتماعی دعا کرنا بدعت ہے یا نہیں ؟ہمیں بیان شافعی کے ساتھ وضاحت فرمائیں ۔جذاکم اللہ خیرا .(اخوکم حنظلہ )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد

ہم کہتے ہیں بھیسئت اجتماعی سنتوں کے بعد دعا کرنا ان قبیح بدعات میں سے ہے کہ جس کے کرنے والا حقیقتہً بدعتی بن جاتا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں پر واجب ہے کہ انہیں عبرت ناک سزا دیں ۔ تا کہ وہ اس تریک بدعت سے باز آ جائیں ‘جو اپنے ضمن میں اور بہت ساری بدعات لیے ہوئے ہیں کیوں کہ ہم ان میں ان چند امور کا مشاہدہ کرتے ہیں پھلاامر :یہ لوگوں سے دین میں ڈرتے ہیں اور یہ شرک ہے جیسے اللہ تعالی نے فرمایا : (فلاتخشوا الناس واخشونی )(اب تمھیں چاہیے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو )‘(مائدہ :44)۔

دوسرا امر:اس قبیح بدعت پر ان کا التزام کرنا حالانکہ علماء نے کہا ہے کہ مستحب کا التزام معصیت ہے جیسے عبداللہ بن مسعود نے فرمایا :تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شیطان کا حصہ مقرر نہ کرے ‘اپنے اوپر یہ ضروری خیال کرے کہ دائیں طرف سے ہی پھرے گا میں نے رسول للہ ﷺکو اکثر بائیں طرف سے پھرتے دیکھا ۔

(بخاری :1؍118)(مسلم:1؍247) (مشکوٰۃ:1؍87)۔

اور علی القاری نے (مرقاۃ :2؍353)میں کہا ہے :’’اور اس میں ہے جو امر مندوب پر اصرار کرتا ہے اور اسے ضروری سمجھتا ہے اور رخصت پر عمل نہیں کرتا اسے شیطان نے گمرا کر دیا ہے تو منکر اور بدعت پر اصرار کرتا ہے تو اس کیا حال ہو گا ۔

اسی طرح بخاری پر سہار نفوری کے حاشیے میں بھی ہے ۔حافظ نے (فتح الباری :2 ؍270)میں کہا ہے کہ ابن المنیر کہتے ہیں مندوبات کا مرتبہ برھا دیا جائے تو بدل کر منکرات بن جاتی ہیں ۔الخ۔

تیسرا امر :وہ دعا کی شروط کا لحاظ کرتے ہوئے دعا نہیں کرتے بلکہ ہاتھ ہی اٹھاتے ہیں ۔

چوتھا امر :وہ اونچی آواز سے دعا کرتے ہیں جو بلا  خلاف بدعت ہے ۔

پانچواں امر :وہ زیادہ چیخنے کی وجہ سے مسبوقین کی نماز میں مخل ہوتے ہیں ‘اس میں اور بھی مفاسد ہیں ۔ جاننا  چاہئے کہ دعا عبادۃ ہےبلکہ عبادت کی جڑ ہے اور علماء کا اتفاق ہے کہ عبادت توقیف اور اتباع پر مبنی ہے اور خواہش اور ابتداع پر نہیں ۔ تو جو بھیسئت اجتماعی دعا کرتا ہے اس سے ہم کتاب و سنت کی دلیل کا مطالعہ کرتے ہیں ‘اسے اگر نوح علیہ السلام بھی مل جائے تو اپنی اس بجعت کے لیے دلیل نہیں لا سکتا سوائے مجملات اوؤر متشابھات کے ‘یہی اہل زیغ و ضلال کا کام ہے اور کی دلیل کا پکڑنا نبی ﷤کے اس قول سے کہ (الدعا ء مخ العبادۃ )’’دعا عبادت کا مغز ہے ‘‘تو اس کے ضعیف ہونے کی دو وجہیں ہیں ۔

پہلی وجہ :یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ضعف ہے (ترمذی:2؍175)میں لاتے ہیں اور اس میں ابن لھیعۃ ہے جو سیّیء الحفظ ہے ‘جیسے (مشکوٰۃ :1؍194 رقم:3231)میں ہے اور صحیح :’’دعا ہی عبادت ہے ‘‘یہ روایت کیا ہے اسے احمد ‘ترمذی اور ان کے علاوہ دیگر آئمہ نے ۔مراجعہ کریں (مشکوٰۃ :194)۔

دوسری وجہ :دعا جب عبادت ہوئی تو ہم پہلے کہہ چکے ہیں عبادت اتباع پر مبنی ہے ابتداع پر نہیں ‘اس سے تو تمھاری تر دید باتفاق ہو گئی ۔اور ان کا استدلال عائشہ رضی اللہ عنھا کی حدیث سے کہ وہ فرماتی ہیں نبی ﷺجب سلام پھیرتے تو نہیں بیٹھتے تھے مگر اس قدر کہ وہ کہتے ‘’’اے اللہ تو سلام ہے تجھ ہی سے سلامتی ہے تو برکت والا ہے اے بزرگی اور کرامتوں والے ‘‘(صحیح مسلم :1؍218)

تو اس حدیث میں ان کے لیے کوئی دلیل نہیں ۔صحیح احادیث رسول اللہﷺمیں کوئی تعارض نہیں ہوتا لیکن وہ نہیں سمجھتے ۔

صحیح مسلم:1؍219)میں کعب بن عجرۃ ﷜سے روایت ہے وہ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺسے آپ ﷜نے  فرمایا:نماز کے پیچھے کہے جانے والے کلمات ہیں جن کے کہنے والا یا کرنے والا محروم نہ ہو گا ‘فرض نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر ‘مربعہ کریں (مشکوٰۃ:1؍89)باب الذکر بعد الصلاۃ.اور صحیح (بخاری:1؍117)و (صحیح مسلم:1؍218)مغیرہ بن شعبہ ﷜سے روایت ہے کہ یقیناً نبیﷺفرض نماز کے بعد کہا کرتے تھے ۔(لا الہ الاّاللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علیٰ کل شیء قدیر ‘اللھم لا ما نع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد)

(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ‘اسی کی بادشاہی ہے ‘اسی کے لیے تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ‘اے اللہ جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور مالدار کو اس کا مال تجھ سے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا )تو بہت ساری احادیث سے فرض نماز کے بعد پڑھنے کی بہت سی دعائیں ثابت ہیں۔جب علماء نے اس میں غوروفکر کر کے کہا ہے کہ حدیث عائشہ کا ان احادیث کےساتھ کوئی تعارض نہیں کیوں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے قبلہ روح ہو کرآپ ﷺبمقدار’’ اللھم انت السلام ‘‘.....کہنے کے ہی بیٹھے ہیں ۔اور پھر مقتدیوں کی طرف منہ کر کے یہ اذکار اور ادعیہ پڑھا کرتے تھے جو احادیث میں ہے۔

یہ معنی مولانا سندی حنفی نے حاشیہ مسلم:(1؍218)اور مولانا انور شاہ کشمیری نے فیض البباری میں ذکر کیا ہے ۔اس کے علا وہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔

اور اس کے بدعت ہونے کے بہت دلائل ہیں:

پہلی دلیل:نبیﷺاور صحابہ ﷢سے ثابت نہیں بلکہ تینوں قرون مفضلہ میں اس ھیئت کے ساتھ نہیں پائی جاتی ‘اور یہ سب مسلمان جانتے ہیں کہ نبی ﷺکی اتباع جیسے کرنے میں ہوتی ہے اسی طرح ترک کرنے میں ہوتی ہے جیسے کہ مسئلہ نمبر 1:میں گزر چکا ‘رجوع کریں۔

دوسری دلیل:ان کا کہنا کہ نبی ﷺسنتیں گھر میں پڑھتے تھے اس لیے انہوں نے دعا نہیں کی ‘تو ہم کہتے ہیں کہ تم نے دو جگہ سنت کی مخالفت کی ہے ۔

پہلی جگہ:نفلی نماز گھر میں افضل ہے یہ بڑی فضیلت تم نے ترک کر دی۔

دوسری جگہ:اس کی جگہ تاریک بدعت لے آئے ۔

تیسری دلیل:متبع سنت علماء نے اس بدعت کی تردید فرمائی ہے بخلاف اہل بدعت کے لیکن ان کا کوئی اعتبار نہیں ‘پہلے ہمارے شیخ السید عبدالسلام حفظ اللہ کی (التبیان ص:192)دیکھیں انہوں نے دعا کی اس ھیئت بڑی اچھی تردید فرمائی ہے اور فرض نماز کے بعد دعا کے بارہ میں مفتی کفایت اللہ کا رسالہ ’’النفائس المرغوبہ‘‘دیکھیں۔0

امام ابن قیم (زادالمعاد :1؍87)میں طراز ہیں کہ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد قبلہ روح مقتدیوں کی طرف منہ کر کے دعائیں کرنی یہ رسول اللہﷺکا طریقہ سرے سے ہے ہی نہیں نہ ہی آپ سے برایت صحیح یا حسن مروی ہے اور خصوصاً عصر فجر کی نماز میں آپﷺنے کیا نہ ہی صحابہ ﷢ میں سے کسی نے رہنمائی فرمائی اسے ان کے بعد اگر کسی نے اچھا سمجھا ہے تو سنت کے بدلے میں اچھا سمجھا ہے ۔واللہ اعلم۔

اور نماز کے متعلق اکثر دعائیں آپ نے نماز ہی میں کی ہیں ۔اور نماز ہی میں کرنے کا آپ ﷺنے حکم دیا ہے ‘اور نمازی کے حال کے لائق یہی ہے تو  وہ جب تک نماز میں ہوتا ہے تو اس کی طرف متوجہ ہو کر مناجات کرتا ہے ‘جب سلام پھیرتا ہے تو مناجات منقطع ہو جاتی ہے اور اللہ تعالی ما قرب اور ای کے آگے کھڑا ہونا ختم ہو جاتا ہے تو جب اللہ کی طرف اس کی توجہ ہوتی ہے اور وہ اس سے قریب ہو کر مناجات کرتا ہے اس وقت دعائیں ترک کر دے اور جب اس سے منہ پھیرلے پھر دعائیں کیسے کرتا ہے ؟اس میں شک نہیں کہ نمازی کے لیے اس کے برعکس ہی حالت یہتر ہے لیکن یہاں ایک لطیف نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جب نمازی نماز سے فراغت کے بعد اللہ کا ذکر کرتا ہے [لا الہ الا اللہ ‘ سبحان اللہ ‘الحمد للہ اور اللہ اکبر ]اور دیگر مشروع اذکار پڑھتا ہے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ درود پڑھ کر جو چاہیے دعا مانگے۔

اور یہ دعا اس دوسری عبادت کے بعد ہو گی نماز کے بعد نہیں یقیناً جو اللہ کا ذکر کرے اس پر حمدو ثنا پڑھے اور نبی ﷺپر درود پڑھے تو اس کے بعد اس کی دعا قبول ہوتی ہے جیسے حدیث فضالۃ بن عبید میں ہے ‘جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اللہ کی حمدوثنا کرے اور نبیﷺپر درود پڑھے پھر اسے چاہیے کہ مرضی کی دعا کرے ‘ترمذی نے کہا ہے کہ حدیث صحیح ہے۔

اور (فتاوٰی ھیئیۃ کبار العلماء :1؍241۔242۔244)میں ہے ۔

س:بعض لوگ نماز کے بعد جہراً دعا کرتے ہیں اور کثر دعا کرتے ہوئے ترنم کے ساتھ الفاظ سناتے ہیں اور ایسا نہ کرنے والوں کی کفر کی طرف نسبت کرتے ہیں ‘اور اسی طرح سنتوں کے بعد اجتماعی طور پر لازمی طور پر کرتے ہیں اور اس علم کو اسلام اور اہل سنت کے شعائر میں سے سمجھتے ہیں اور اس عمل کی مخالفت کرنے والوں کو اہل نہیں سمجھتے ۔دلیل کے ساتھ شریعت بیضاء کے حکم کی وضاحت فرمائیں۔

ج:پانچوں نمازوں اور سنتوں کے بعد جہراًدعا کرنا اور اس کے بعد ہمیشہ دعا کرنا بدعت منکرہ ہے کیونکہ ﷺاور صحابہ سے ثابت نہیں جو فرض نمازوں اور سنن رواتب کے بعد اجتماعی طور  پر دعا کرتا ہے وہ اس عمل میں اہل سنت و الجماعت کا مخالف ہے اور جو اس کا مخالف ہو اور سہ عمل نہ کرتا ہو اسے برا سمجھنا ‘کافر کہنا یا یہ کہنا کہ وہ اہل سنت والجماعت نہیں یہ جہابت ہور گمراہی ہے اور حقائق کو بدلنا ہے ۔

اسی طرح ایک دوسرے سوال کے جواب  میں یہ لکھا ہے ‘امام کے سلام پھیرنے کے بعد بیک آواز اونچی آواز سے اجتماعی عا کرنے کی ہمیں کوئی دلیل معلوم نہیں جس سے اس عمل کامشروع ہوناثابت ہوتا ہو۔فرض نمازوں کے بعد ہاتھاٹھا کر دعا کرنا نہیں چاہیے امام اکیلا کرے یا امام مقتدی مل کر کریں ‘بلکہ یہ بدعت ہے کیونکہ یہ بنی ﷺسے منقول نہیں اور نہ آپ کے صحابہ ﷢ سے اس کے بغیر دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس کے بارے میں بعض حدیثیں وارد ہیں ۔

اور (1؍257)میں ہے اسی طرح عبادات توقیف پر مبنی ہیں تو ان عبادات کا اصل کے اعتبار سے اور عدد حالت اور مکان کے اعتبار سے مشروع ہونے کی بات  دلیل شرعی کے بغیر کرنی جائز نہیں جو اس پر دلالت کرے ‘اور ہمیں اس کے بارے میں نبی ﷺسے سنت معلوم نہیں نہ آپ کا قول نہ فعل اور نہ تقریر ‘بھلائی رسول اللہﷺکے طریقے کی اتباع میں ہے اور آپ کا طریقہ اس باب میں وہی ہے جو دلائل سے ثابت ہے جو سلام کے بعد آپ کرتے تھے اسی پر دلالت کرتا ہے اور آپ کے خلفاء‘صحابہ تابعین اس پر عنل پیرا رہے ‘اور جو آپ کے طریقے کے خلاف کوئی نئی چیز نکالے گا وہ اس پر رد ہے ۔نبیﷺنے فرمایا ہے:[من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد](جس نے کوئی عمل کیا جس پر ہمارا امر نہیں وہ مردود ہے )‘

تو جو امام سلام کے بعد دعا کرتا ہے اور مقتدی ےاس کی دعا پر آمین کہیں اور سب ہاتھ اٹھائے ہوئے ہوں تو ان سے دلیل کا مطالبہ کیا جائیگا جس سے ان کا عمل ثابت ہو ورنہ وہ انہی پر رد ہو گا ‘یہ بات سمجھ لینے کے لعد ہم نے بنی ﷺکی ھدی سے کچھ بیان کرتے ہیں‘اس میں سے یہ ہے کہ‘جب آپ سلام پھیرتے تو استغقراللہ تین بار کہتے اور پھر کہتے ’’[اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یاذا الجلال والاکرام ]

امام اوزاعی کو کہا گیا ‘استغفار کیسے ہے ؟انہوں نے کہا ’’استغفراللہ استغفراللہ کہے ‘یہ روایت مسلم ‘ترمذی اور نسائی نے کی ہے لیکن نسائی نے کہا ہے ’’ یقیناً رسول اللہ نماز سے پھیرتے تھے ‘‘آگے حدیث ذکر  کی ۔

اور ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺجب اپنی نماز سے پھرنے کا ارادہ کرتے تو تین بار استغفراللہ کہتے پھر کہتے :[اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یاذ الجلال والاکرام ] ابو داؤد اور نسائی کی روایت میں اسی طرح ہے پھر اس نے ذکر کیا ’(لا الہ الا الله وحده لا شریك له له المك وله الحمد...)اور معروف تسبیحات اورکے علاوہ دعائیں جو رسول اللہ ﷺفرائض کے بعد پڑھتے تھے ۔مزید تفصیل کے لیے مشکوٰۃ اور کتب حدیث کا مطالعہ کریں ۔

اور (السنن والمہتدعات ص:70) میں ہے ‘چودھواں باب سلام کے بعد کی بدعات میں نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اکٹھے اونچی آواز سے استغفار کہنا بدعت ہے اور سنت ہر ایک کا اپنے دل میں استغفار کہنا ہے اور استغفار کے بعد ’’یا ارحم الرٰحمین ‘‘اکٹھے کہنا بدعت ہے یہ اس ذکر کا محل نہیں ‘‘اور سنتیں فرض کے ساتھ بغیر فصل کے پڑھنا منع ہے جیسے حدیث مسلم میں ہے ‘رسول اللہ ﷺنے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم ایک نماز کو دوسری نماز کے ساتھ نہ ملائیں ۔یہاں تک ہم درمیان میں بات کریں یا (ادھر ادھر )نکل جائیں اور نہیں ظاہر میں حرمت کے لیے ہے ۔

میں کہتا ہوں:جدیث میں رد ہے ان لوگوں کا جو کہتے ہیں کہ سنتیں فرض کے ساتھ متصل پڑھنی سنت ہے بلکہ یہ معصیت ہے ۔یہ لوگ احادیث کے درمیان تطبیق نہ جان سکے ۔ جیسے شرنبلالی نے نورالا یضاح میں شامی نے ردالمختار میں اور مبتعین کے سرخیل واجوی نے بصائر میں کہا ہے ۔اور (السلسلہ الصحیحہ:1؍162 رقم:102) میں ہے ‘نماز کے پیچھے پڑھے جانے والے کلمات ہیں جنہیں ہر نماز کے بعد کہنے والا یا کرنے والا محروم نہیں ہوتا ‘تینتیس بار سبحان اللہ ‘تینتیس بار الحمد اللہ ‘چونتیس بار اللہ اکبر کہنا ہے ‘اسے مسلم ‘ابوعوانہ ‘نسائی ‘ترمذی ‘بیہقی وغیرہ نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلی عن کعب بن عجرہ مرفوعا روایت کیا ہے ‘’’’معقبات‘‘وہ کلمات جو نماز کے بعد کہے جاتے ہیں المعقب جو کسی کے پیچھے آئے ۔

میں کہتا ہوں :حدیث نص ہے اس بات پر کہ ذکر فرض نماز کے فوراًبعد ہے اسی طرح دیگر اور اوجو پہلے ذکر ہو چکے خواہ اس فرض نماز کے بعد سنتیں ہوں یا نہ ہوں ۔اور مذاہب والوں میں سے جس نے کہا ہے کہ یہ اور اد سنتوں کے بعد ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور وہ اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث کے مخالف ہیں جو مسئلہ میں نص ہیں ۔

پھر (1؍333)میں کہا ہے کہ نماز کے بعد اذکار آپ ہر فرض سے سلام پھیرنےکے بعد کہا کرتے تھے [لا الہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمدیحی ویمیت وھو حی لا یموت بیدہ الخیر وھو علی کل شی قدیر]’’(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریفیں ہیں ‘زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ زندہ ہے اس کو موت نہیں آتی اس کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے )‘‘(تین بار)[اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولاینفع ذالجد منک الجد]

(اللہ جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دین والا نہیں ‘اور مال والے کو تجھ سے مال کوئی فائدہ نہیں دے گا )۔روایت کیا ہے اسے بخاری ‘مسلم وغیرہ نے ۔

پھرکہا اس حدیث سے فرض نماز کے بعد اس ذکر کی مشردعیت ثابت ہوتی ہے ‘اور جو ’’[اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یاذالجلال والاکرام ]کے علاوہ (دوسرے اوراد کی )عدم مشروعیت کے قائل ہیں وہ اس کی فضیلت سے محروم ہیں۔اور کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ اور اوراد سنتوں کے بعد پڑھے جائیں اس حدیث میں ان پر صریح رد ہے جس کا کوئی جواب نہیں ۔

ابن عابدین نے (ردمختار :1؍557۔558)میں کہا ہے کسی ذکر کاایک وقت کے ساتھ خاص کرنا جو شرع میں وارد نہ ہو غیرمشروع ہے اور ذکر اونچی آواز سے کرنا بدعت ہے اور رسول اللہ ﷺکا نہ کرنا کراہت کی دلیل ہے کیو نکہ وہ عبادت کے حریص تھے اور ان کا ایک بار بھی نہ کرنا کراہت کی دلیل ہے ۔ اور (1؍356)میں اس مسئلے سے متعلق بعض بدعات ذکر کی ہیں۔ پھر میں نے دیکھا علامہ مبارک پوری نے تحفتہ الاحوذی شرح الترمذی(1؍245)میں دعا بعد الفرض کے جواز پر احادیث سے استدلال کیا ہے ۔

پہلی حدیث:جسے (حافظ ابن کثیر ن :3؍172)اپنی تفسیر میں نکالا ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن ابی حاکم نے کہا انہیں حدیث بیان کی ابو معمر المقری نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی عبدالوارث نے ‘وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی علی بن زید نے سعد بن المسیب سے انہوں نے ابوھریرہ ﷜ سے کہ رسول اللہ ﷺسلام کے بعد ہاتھ اٹھائے اور آپ ﷺقبلہ روتھے پس فرمایا:اے اللہ ذلیدین ولید اور عیاش بن ابی ربیعہ اور سلمہ بن ھشام اور وہ کمزور مسلمان جنہیں کوئی حیلہ نہیں آتا اور نہ ہی انہیں راستہ ملتا ہے ان کو کافروں کے چنگل سے نجات دے ۔

ابن جریرکہتے ہیں انہیں حدیث بیان کی مثنی نے انہیں حدیث بیان کی حجاج انہیں حدیث بیان کی حماد علی بن زید سے انہوں نے عبداللہ یا ابراہیم بن عبداللہ القرشی سے اس نے ابوھریرہ سے کہ بنیﷺظہر کی نماز کے بعد دعا کرتے تھے ‘اے اللہ ولید بن ولید کو نجات دے ......اس حدیث کااس سند کے علادہ بھی صحیح میں شاہد ہے ‘انتھٰی۔ لیکن اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ہے اور متکلم فیہ ہے اور اس میں تاویل کا بھی احتمال نہیں ۔

دوسری حدیث:وہ حدیث جسے روایت کیا محمد بن یحییٰ اسلمی نے وہ کہتا ہے میں نے ابن زبیر کو دیکھا کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص نماز سے فراغت کے بعد ہاتھ اٹھائے ہوئے ہے جب وہ دعا سے فارغ ہوا تو کہا کہ رسول اللہ ﷺنماز سے فارغ ہو کر ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے تھے ‘روایت کیا اسے طبرانی نے ‘ھیثمی کہتے ہیں راوی اس کے ثقہ ہیں جیسے (مجمع :1؍169)میں کہا ہے اور امام سیوطی نے فض الوعاء میں ذکر کیا ہے ۔

تیسری حدیث:ابن سنی نے (عمل الیوم واللیلہ میں رقم:138)انس بن مالک کی روایت  سے ذکر کیاہے وہ نبیﷺسے روایت کرتے ہیں آپ ﷺنے فرمایا:نہیں ہے کوئی بندہ جو ہر نماز کے بعد ہاتھ پھیلا کر کہے ‘اے اللہ اے میرے معبود‘ابراہیم علیہ السلام کے معبود.......الحدیث۔اس میں عبدالعزیزبن عبدالرحمٰن بالکل ضعیف ہے اور اس میں خصیف بن عبدالرحمن ہے اور وہ بھی ضعیف ہیں۔

چوتھی حدیث:اسود عامری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ فجر کی نماز پڑھی ‘سلام پھیر کر آپ ﷺپلٹے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی ‘الحدیث‘روایت کیا ہے لبن ابی شیبہ نے مصنف میں اس طرح بعض نے بغیر سند کے ذکر کیا ہے اور اسے مصنف کی طرف منسوب کیا ہے مبارک پوری کہتے ہیں :میں نے اسے نہیں دیکھا واللہ اعلم‘یہ کیسے ہو گی صحیح ہو گی یا ضعیف۔

میں کہتا ہوں:مجھے (مصنف:1؍302)میں ملی ہے ‘اسود عامری اپنے والد سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کرتے ہیں ‘وہ کہتے ہیں میں نے نماز پڑھی فجر کی جب آپ نے سلام پھیرا تو پھر گۓاس میں رفع الیدین نہیں ہے ۔

پانچویں حدیث(ترمذی :1؍87)میں فضل بن عباس ﷜سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :نماز دو دو زکعت ہے ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھ خشوع عاجزی اور مسکینی کے ساتھ پھر اپنے رب کی طرف ہاتھ اٹھا ‘ہتھلیوں کو اپنے منہ کی طرف کرتے ہوئے پھر کہہ اے رب ‘اے رب جو ایسا نہ کرے وہ نا مکمل ہے ‘نکالا اس کو (احمد:1؍211)اور (4؍167)میں سند اس کی ضعیف ہے ابو حاتم کے نزدیک حسن ہے جیسے حاشیہ نصب الرایہ :2؍145)میں راجح یہ ہے کہ یہ ضعیف ہے کیونکہ اس میں عبداللہ بن نافع بن العمیاء ہے اور وہ ضعیف ہے۔

چھٹی حدیث:دعا میں رفع الیدین کی عام حدیث سے استدلال کرتے ہیں ‘اور کہتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد دعا کرنا مرغوب فیہ ہ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے ‘’’کونسی دعا زیادہ سنی جاتی ہے ؟فرمایا:فرض نمازوں کے بعد ‘‘ اور فرض نمازوں کے بعد نص دعا ثابت ہے رسول اللہﷺسے اور مطلق دعا میں ہاتھ اٹھانا سو(100)احادیث میں وارد ہے اور دعا میں ہاتھ اٹھانا آداب میں سے ہے تو ان دلائل کی وجہ سے ہم کہتے ہیں ‘کہ فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا بغیر التزام کے بدعت نہیں بلکہ جائز ہے اگر کوئی کرے تو حرج نہیں ‘الخ تلخیص کے ساتھ۔

میں کہتا ہوں :آپ کو معلوم ہو گیا کہ جو احادیث ذکر کی ہیں ضعیف ہیں۔پھردعا مطلق میں رفع الیدین کی احادیث ذکر کی ہیں ‘(احسن الفتاویٰ:2؍60)مطالعہ کے قابل تحقیق ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص103

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)