فتاویٰ جات: تذکیر قرآن
فتویٰ نمبر : 11338
(12) قراءت قرآن پر کھانا کھانے کی حرمت سے ایک حدیث کی تخریج
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 23 April 2014 10:01 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حدیث:«من قراالقرآن یعاکل کل بہ الناس جاء یوم القیامیہ ووجھہ عظم لیس علیہ لحم،قراء القرآن فاتخذہ بضاعتہ  فاستجربہ الملوک واستمال  بہ الناس ،ورجل قرا القرآن  فاقام حروفہ ووضع حدودہ کثر ھولاء من قراء القرآن لا کثرھم اللہ ،ورجل قراء القرآن فوضع دوا القرآن  علیٰ علی قلبہ فاسھر بہ لیلہ وااظلما بہ نھارہ ،فاقاموا بہ فی مساجدھم بھولاء یلغع اللہ البلاء ویزیل العداء ویزیل غیث السمآء فواللہ لھولاء من قراء القرآن اعز من الکبریت الاحمر»

 (جوشخص قرآن لوگوں  سے کھانے کے لیے پڑھتا ہے تو قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا  کہ اس کے چہرے پر گوست نہیں ہوگا،قآن کے پڑھنے والے تین قسم کے ہیں ایک وہ شخص ہے جو قرآن پڑھتا ہے اور صرف اس کے حروف کا خیال رکھتا ہےاور حدود کا خیال نہیں رکھتا اس قسم کے لوگ بہت ہے ۔اللہ کرے  کہ جو قرآن پڑھنے والے ہوں زیادہ نہ ہوں،تیسرا وہ شخص ہے جو قرآن پڑھتا ہے جو قرآن  کو دواء بنا  کر اپنے دل  کی بیماری کا علاج کرتا ہے،راتت کو اس کے ساتھ قیام کرتے ہوئے جاگ کر گزارتا ہے اور دن کو بحالت روزہ اس می تلاوت کرتا ہے،اور اس کے ساتھ اپنی مساجد میں قیام کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی وجہ سے اللہ بلائیں ٹالتا ہے،دشمنوں کو دزر کرتا ہے ،اور آسمان سے بارش برساتا ہے،قراء قرآن کی یہ قسم اللہ تعالی ک نزدیک کبریت احمر سے زیادہ عزیز ہیں)۔اس حدیث کی صحت کیسی ہے ؟ اور  یہ کہاں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس روایت کو امام ابن حبان نے الضعفاء والمتروکین(1/148) میں نکالا ہے، اور اس کا پہلا حصہ امام بیہقی نے لایمان میں اور اس طرح امام سیوطی نے الجامع رقم:(5763) میں نقل کیا ہے۔

امام البانی نے ضعیف الجامع میں اسے موضوع کہا ہےاور الضعیفہ رقم:(1356)میں اس کی علتیں  بیان کی ہیں ،اور کہا ہے کہ اس کی سند میں احمد بن مقیم بن نعیم ہے جو منکر و مقلوب  حدیثیں بیان کرتا ہے۔

امام ابن جوزی نے الاحادیث الواھیۃ ،(1/148)، میں کہا ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح نہیں وہ اسے حسن بصری کے قول سے  روایت کرتا ہے،ملخصا۔

شیخ زکریا نے اسے فضائل الاعمال ،(1/106)، میں ثابت  کرتے ہوئے ذکر کہا ہے۔

میں کہتا ہوں : اس معنی میں دوسری احادیث آئی ہے جو ہم نے رقم المسلہ :(15) پر ذکر کی ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص58

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)