فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11311
نیند میں ماں کے اوپر چڑھ جانے سے بچے کی موت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 April 2014 10:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا سوال یہ ہے کہ چھوٹا بچہ جو اپنی والدہ کے پاس سوتا ہے ،اگر کہیں سوتے میں ماں اس بچے کے اوپرآ جاتی ہے اور بچہ مر جاتا ہے تو ماں کیلئے کیا کفارہ ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلی بات تو یہ ہے کہ نیند کی حالت میں واقع ہونے والے فعل سے قلم اٹھا لی گئی ہے ۔یعنی اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہوتا ہے ۔

ارشاد نبوی ہے۔

"رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ وعن المبتلى حتى يبرأ وعن الصبي حتى يكبر"

(سنن أبي داود:4398)

تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے،سوئے ہوئے سے حتی کہ جاگ جائے،مجنون سے حتی کہ وہ تندرست ہوجائے اور بچے سے حتی کہ بالغ ہوجائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر والد جان بوجھ کر بھی اولاد کو قتل کر دے تو بھی اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔

نبی کریم نے فرمایا:

لا يقاد الأب من ابنه

باپ سے بیٹے کے قتل کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔

اور ماں بھی باپ کی مانند ہے ،لہذا مذکورہ دلائل کی روشنی میں ایسی ماں پر کوئی کفارہ نہیں ہے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)