فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 11306
(11) ایک خاص ذکر اور درود کا حکم
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 22 April 2014 10:21 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد گل بھائی نے مجھے خط لکھا وہ کہتے ہیں‘’’کیا تراویح کی ہر دو رکعت کے بعد’’یا حی یا قیوم‘‘کہنا مشروع ہے‘‘؟اور کیا ہر چار رکعات کے بعد’’سبحان ذی الملکوت والعظمۃ سبحان الذی لا ینام ولا یموت‘یا مجیر یا مجیر اجونی عن النار الصلاۃ برمحمد یا درود بر محمد کہنا مشروع ہے؟۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ولا حول ولا قوةالا باللہ۔

یہ اذکار نماز تراویح اور غیر تراویح میں ثابت نہیں ہاں’’یا حی یا قیوم‘‘ مطلق ادعیہ میں ثابت ہے بلکہ مناسب ہے کہ  استغفراللہ کہے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد استغفار کیا کرتے تھے‘اور ان کا‘وردوبر محمد کہنا عربی نہیں تو یہ دین کیسے ہو سکتا ہے۔

ملاحظہ کریں مدخل:(2/145) وضیاء النور ص:(223) ‘یہ کلمات ابن عابد ین نے رد المختار(1/474)  میں قہستانی رحمہ اللہ تعالی  سے ذکر کئے ہیں اور اس کی نہ کوئی دلیل ذکر کی ہے۔نہ سند اور نہ ہی اس دعا کا مخرج بتایا ہے اس لیے یہ مشروع نہیں۔

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے با جماعت نماز تراویح چار راتیں پڑھی تھیں‘تو یہ کہیں منقول نہیں کہ آپ نے یہ دعا کی ہو اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اذکار جہراً  پڑھتے تھے جس طرح اہل بدعت مسجدوں میں شور بر پا کرتے ہیں اور مساجد کے احترام کا خیال نہیں کرتے ‘پس ہم سب پر اتباع لازم ہے بدعات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے‘ساری بھلائی اتباع میں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص57

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)