فتویٰ نمبر : 11204
(09) رسول کی گستاخی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 April 2014 02:36 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب  رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی با ل کے   برا  بر گستا خی  کرنا با عث کفر ہے تو سید اسما عیل  شہید  رحمۃ اللہ علیہ   نے تقو یۃ  الایما ن  میں کیوں  لکھا ہے کہ  آپ  بھی  مر  کر مٹی  ہو جا نے وا لے ہیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی بال برا بر گستا خی بھی با عث کفر ہے   لیکن اپنے ما ضی کے کسی بھی لفظ سے گستا خی  کشید کر لینا  بھی درست  نہیں ہے  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے ایک  دفعہ  گستا خ رسول  کعب  بن  اشرف  کو صفحہ  ہستی  سے مٹا دینے  کا اشارہ  فر ما یا  تو حضرت محمد بن  مسلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس کا م کو سر انجام  دینے کے لئے  میدا ن میں آ ئے لیکن  انہو ں  نے رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   سے  اجاز ت  طلب  کی  اگر  میں  اس کا م کو پا یہ تکمیل  تک پہنچا نے کے لئے آکے لئے کچھ  نا ز یبا الفا ظ  استعمال  کر و ں  تو مجھے  کبھی  دنیا و آخرت  میں باز  پر س  نہیں ہو گی ؟ آپ نے اسے اجا ز ت دے دی   اس کے بعد  حضرت  محمد  بن مسلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے کعب  بن  اشرف  کا کا م  تمام  کر نے  کے لئے  رسو ل  اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی شا ن  میں نا ز یبا  کلما ت  بھی کہے  لیکن ان کی با ز  پر س  اس لیے  نہیں ہوئی  کہ گستا خا نہ  کلمات  صرف  زبا ن  پر تھے  دل   میں کستا خا نہ الفا ظ نہ تھے بلکہ دل رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی محبت سے  لبر یز تھا ۔(صحیح  بخا ری :المغا ز ی  4037)

اس لیے سید اسما عیل شہید  رحمۃ اللہ علیہ   جن کی تما م ز ندگی  اللہ کے دین  کی سر بلند ی کے لئے  وقف  تھی  حتی کہ  انہو ں  نے اس مقصد   کے حصو ل  کے لیے  اپنی جا ن بھی جا ن آفر یں  کے حو الے  کر دی  پھر  محو لہ  کتا ب  بھی تو حید  باری تعا لیٰ  اور تعظیم  رسول  کر یم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے  لبر یز  ہے ان  کے متعلق  کیسے  باور  کیا جا سکتا  ہے  کہ انہو ں   دا نستہ  دل  و جا ن  سے  رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق  گستا خا نہ  کلما ت  کہے  ہو ں  گے ۔  اب ہم   اس  عبا ر ت  کے سیا ق  سباق  کو دیکھتے  ہیں جس  کی آڑ  میں شہید کی طرف سے "گستا خی " منسو ب  کی گئی  ہے  سید  شہید  رحمۃ اللہ علیہ   نے تقو یۃ  الا یما ن  میں ایک عنوا ن   با یں  الفا ظ  قا ئم  کیا ہے ۔ "اللہ کو سجدہ  اور پیغمبر  علیہ السلام   کی تعظیم  "اس عنوا ن  کے تحت  ایک حدیث ذکر  کی ہے جس  میں صحا بہ کرا م  رضوان اللہ عنہم اجمعین   نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کو سجدہ  کر نے  کے متعلق  اپنی خو ہش  کا اظہار  کیا تھا  تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرما یا : بند گی  کر و  اپنے رب کی تعظیم  کرو  اپنے بھا ئی کی ۔ پھر آپ نے قیس  بن مر زبا ن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث  کا حوا لہ  دیا ہے جس میں  آپ کو سجدہ کر نے  کی خو اہش  کا ذکر  ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فر ما یا :"  کہ بھلا  خیا ل  کر اگر تو گزرے میری قبر پر کیا تو اسے سجدہ  کر ے  گا ۔ میں نے کہا : نہیں  تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا :" کہ یہ کا م بھی نہ کرو   ۔اس کی وضا حت  کرتے  ہو ئے  سید  شہید  نے لکھا  ہے کہ  میں  بس ایک دن  مر  کر  مٹی  مین ملنے  و الا  ہوں تو کب سجدہ  کے لا ئق  ہو ں  سجدہ  تو صرف  اسی ذات پا ک کو ہے کہ نہ  مرے کبھی ،(تقو یۃ  الایما ن : 112)

"اس فقرے کا مطلب یہ ہے کہ"  میں مر کر دفن ہو نے وا لا ہو ں چنانچہ حدیث میں اس کی صرا حت  آچکی  ہے کہ اللہ تعا لیٰ  نے انبیا ء  علیہ السلام   کے اجسا م  کو زمین  پر حرا م  کر دیا  کہ وہ  ان کو کھا  سکے  اس مقا م  پر  یہ وضاحت  کر دینا  بھی  ضرو ری  ہے تقو یۃ  الایما ن  کے نئے  ایڈیشن  میں اس کی نو ک  پلک  سنوا ری گئی  ہے  چنا نچہ  سید  شہید  رحمۃ اللہ علیہ  کی عبا رت  کو نئے  قا لب  میں ڈھا  لا گیا  ہے اس نئے  ایڈیشن  میں عبا رت  اس طرح  ہے :" یعنی  ایک نہ  ایک  دن   میں بھی  فو ت   ہو کر  آغو ش  لحد  میں  جا سو ؤ ں گا ؛ (تقویۃ الایمان  : 112)

ان شوا ہد کی بنا پر سید شہید  رحمۃ اللہ علیہ   کی مذکو رہ  عبا رت  میں گستا خی   رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کا کوئی  پلو نہیں ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص40

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)